کپاس کی پیداوار حکومتی اندازوں سے بھی کم، 700 ارب کا نقصان

شیئر کریں:

پاکستان میں کپاس کی پیداوار حکومت کے نظر ثانی شدہ اندازوں سے بھی 20 لاکھ بیلز کم رہی۔ کاٹن اس سال
کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار ساڑھے 56 لاکھ بیلز سے بھی کم رہی۔ پیداوار میں رکارڈ کمی سے ملکی معیشت
کو 700 ارب روپے کے نقصان کا اندازہ ہے۔ 36 سال کے بعد کپاس کی اتنی کم پیداوار ہوئی۔

پاکستان کاٹن جنیرز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر کی جننگ فیکٹریوں میں اس سیزن میں مجموعی طور
پر صرف 56 لاکھ 45 ہزار 967 بیلز کے برابر پھٹی لائی گئی۔

پنجاب کی جننگ فیکٹریوں میں 35 لاکھ 9 ہزار 798 بیلز اور سندھ کی فیکٹریوں میں 21 لاکھ 36 ہزار 169
بیلز کپاس لائی گئی دو سالوں میں ملکی پیداوارآدھی سے بھی کم رہ گئی۔

حکومت کی طرف سے پہلے کپاس کی پیداوار کا ہدف ایک کروڑ 9 لاکھ بیلز رکھا گیا تھا۔ حکومتی اداروں نے
بعد میں کپاس کی پیداوار کا اندازہ 86 لاکھ بیلز لگایا۔ اپرئل کے وسط تک حکومتی ادارے 77 لاکھ بیلز
پیداوار کا تخمینہ لگاتے رہے لیکن دوسری مرتبہ نظر ثانی کے بعد لگایا جانے والا تخمینہ بھی پورا نہیں ہو سکا۔

پاکستان میں 1984 کے بعد کپاس کی اتنی کم پیداوار ہوئی ہے جنیرز ایسوسی ایشن کے مطابق کپاس کی پیداوار
میں مسلسل کمی کے باعث ایک سال میں ملکی معشت کو 700 ارب روپے کے قریب نقصان کا اندازہ ہے۔ جننگ
فیکٹریاں مکمل یا وقت سے پہلے بند ہونے سے مجموعی طور پر لاکھوں افراد بے روزگار ہوئے۔

پاکستان کو مقامی ٹیکسٹائل سیکٹر کی ضروریات کا کم سے کم اندازہ بھی ایک کروڑ 20 لاکھ بیلز ہے جس کے
مطابق ملکی پیداوار سے بھی زیادہ کپاس درآمد کرنا پڑے گی۔

پاکستان ادارہ شماریات کے مطابق رواں سیزن میں اب تک پاکستان 6 لاکھ 25 ہزار ٹن کپاس درآمد کر چکا ہے
جس کی مالیت ایک ارب 3 کروڑ ڈالر سے زیادہ ہے۔


شیئر کریں: