اسرائیل کی مسجد اقصی پر چڑھائی، 200 فلسطینی زخمی درجنوں گرفتار

شیئر کریں:

اسرائیل کی فوج نے ایک مرتبہ پھر مسجد اقصی پر چڑھائی کر دی۔ پرتشدد کارروائی میں 200 کے
قریب فلسطینی زخمی ہوئے۔ درجنوں کو اسیر بنا لیا گیا۔

صیہونی فوج نے مسجد اقصی میں موجود نمازیوں جمعۃ الوداع پر نشانہ بنایا۔ ساتھ ہی بیت المقدس میں
دیگر مقامات پر موجود فلسطینیوں پر بھی تشدد کیا گیا۔ ایک ہفتہ سے جاری کشیدگی میں پھر سے اضافہ
ہو گیا ہے۔

اسرائیل کے زیر قبضہ علاقے شیخ جراح سے درجنوں فلسطینی خاندانوں کو بے دخل کرکے اسرائیلیوں کو آباد کیے
جانے پر ایک ہفتہ سے احتجاج کا سلسلہ جاری تھا۔ ایسے میں رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو دھرنا دیے
ہوئے لوگوں کا ساتھ دیگر فلسطینیوں نے بھی دیا۔

اسرائیلی فوج نے مظاہرین اور نمازیوں کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج، ربڑ کی گولیاں، آنسو گیس
اور خصوصی طور پر فلسطینیوں کے لیے بنایا گیا بدبو دار پانی (اسکنک واٹر) بھی استعمال کیا گیا۔

اسرائیل کی فوج نے امریکا کے بدبودار جانور سے متاثر ہو کر یہ اسکنگ واٹر بنایا ہے واٹر کینن کے ذریعے اسے
استعمال کیا جاتا ہے اور جس انسان پر بھی یہ پانی گرتا ہے وہ بے چین ہو کر بھاگنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
پہلی بار یہ اسکنگ واٹر 2008 میں ستعمال کیا گیا تھا۔

خیال رہے شیخ جراح سے زبردستی فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کی اقوام متحدہ نے بھی مزمت کرتے ہوئے
اسے جنگی جرم قرار دیا ہے۔ اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس عمل سے باز رہے۔ عالمی قوانین کی روح
سے مقبوضہ علاقوں سے کوئی بھی حکومت کسی رہائش پزیر لوگوں کو ان کی زمین سے بے دخل نہیں کر سکتی۔

اسی طرح امریکا نے بھی شیخ جراح سے فلسطینیوں کو نکالنے کی مزمت کی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں
پہلے ہی نہتے فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی سختی سے مزمت کر چکی ہیں۔


شیئر کریں: