امبرین تم میرے ساتھ کیا کر گئی ہو؟

شیئر کریں:

تحریر سعدیہ فہد

ٹریفک رواں دواں ہے۔۔۔ شہرکی رونقیں ویسی ہی ہیں دفتر میں بھی کچھ نہیں بدلا سب کچھ ویسا ہی ہے تو
پھر یہ دل کیوں بے چین ہے؟

کسی پل قرار کیوں نہیں آرہا؟
آنکھیں کیوں بار بار بھیگ جاتی ہیں امبرین تم جاتے جاتے سب کچھ ختم کر گئیں۔ یہ رونقیں شوخیاں اور
ہنگامے تو صرف تمھارے دم سے تھے۔

سارے پلان تو صرف تمھارے ساتھ تھے اور آج تم نہیں ہو تو ایسا لگ رہا ہے کہ یہ شہر ہی نہیں دل بھی
جیسے ویران سا ہو گیا ہے۔
اداسی نے ایسے ڈیرے ڈالے کہ کچھ اچھا نہیں لگ رہا تمھاری باتیں تمھاری یادیں بس دماغ میں یہی چل رہا ہے۔

کبھی تمھارے میسج پڑھتی ہوں تو کبھی تصویریں دیکھتی ہوں اور تمھارے آڈیو میسج تو کتنی ہی بار سن
چکی ہوں مگر یہ دل ہے کہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ تم چلی گئی ہو۔

تم اب نہیں ہو وہ امبرین زمان خان جس کے ساتھ میں نے اپنی زندگی کا سب سے اچھا وقت گذارا۔
اپنے دکھ سکھ شئیر کئے وہ امبرین،، جو ہرلمحہ متحرک تھی جو زندگی کا استعارہ تھی۔ میرے لئے زندگی کے
معنی ہی بدل گئے ہیں۔ زندگی چلتے چلتے ایک دم رک گئی۔ سارے پلان ادھورے رہ گئے اور امبرین ہاتھوں
سے یوں نکل گئی کہ ہم دیکھتے ہی رہ گئے۔

ساری امیدیں دم توڑ گئیں ساری دعائیں بے اثر رہیں۔ ساری کوششیں رائیگاں گئیں۔ وہ سب کچھ ادھورا چھوڑ
کر چلی گئی اور میں خالی ہاتھ اور ویران آنکھیں لئےسوچ رہی ہوں کہ یہ میرے ساتھ ہوا کیا ہے؟

میں جو اس کی اتنی عادی ہو گئی تھی اس کے بغیر کیسے رہوں گی؟
میرے سارے رکے ہوئے کام کون پورے کرے گا؟
پریشانی میں کس کو کال کروں گی؟
آفس کے مسئلے کس سے شئیر کروں گیَ؟
خوشیاں کس کے ساتھ منائوں گی؟

امبرین تمہیں اندازہ ہے کہ تم میرے ساتھ کیا کر گئی ہو کتنی ضرورت تھی مجھے تمھاری؟
نہیں! شاید تمھیں اندازہ نہیں کیونکہ اگر تمھیں ذرا سا بھی اندازہ ہوتا تو اس طرح چھوڑ کر کبھی نا جاتیں۔
اللہ سے تھوڑی مہلت اور مانگ لیتیں۔ اپنی بیماری کے دنوں میں تم نے مجھ سے ایک بار کہا تھا سعدیہ آپ
مجھے بھول تو نہیں جائیں گی؟

لو آج دیکھ لو امبرین کہ تمھاری یاد کس طرح ہر لمحہ ساتھ ہے تمھارے ساتھ گذارے ہوئے پل تمھاری باتیں
کس طرح بے کل کئے ہوئے ہیں۔

بظاہر سب کچھ پہلے جیسا ہے لیکن یہ میں جانتی ہوں کہ میرے لئے اب کچھ بھی پہلے جیسا نہیں۔
میری زندگی میں تمھاری کمی نے ایک ایسا خلا پیدا کر دیا ہے جو کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔
امی کا غم برداشت کر لیا تھا کہ تم جیسے دوست ساتھ تھے لیکن اب تمھارا غم کیسے برداشت کروں
کہ یہ تکلیف بہت زیادہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔!


شیئر کریں: