سید قمر عباس شہید پی پی پی کی درخشاں تاریخ کا تابناک باب

شیئر کریں:

تحریر عامر حسینی

آج 6 مئی سید قمر عباس کی برسی ہے جو پاکستان پیپلزپارٹی کے پشاور سے تعلق رکھنے والے ملک گیر شہرت کے حامل جیالے کارکن تھے۔ آج کے دن وہ پشاور شہر میں اپنے بھتیجے انور علی اخوندزادہ کے ساتھ موٹر سائیکل پہ جاتے ہوئے دہشت گردوں کی فائرنگ سے شہید ہوگئے تھے۔

یہ اندوہناک واقعہ 6 مئی 2007ء کو پیش آیا- سید طاہر عباس برادر صغیر سید قمر عباس کی مدعیت میں تھانہ ہشت نگر پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کے بشیر بلور، غلام علی بلور، الیاس بلور، ہارون بلور اور عثمان بلور کے خلاف مقدمہ قتل درج کیا گیا۔ سید طاہر عباس نے اپنی درخواست میں وجہ عناد دونوں خاندانوں کے درمیان چلی آرہی دشمنی کو بتایا جو 1997ء کے ضمنی الیکشن میں پی پی پی اور اے این پی کی انتخابی ریلیوں کا آمنا سامنا ہوگیا اور دوطرفہ فائرنگ میں جہاں ایک طرف غلام علی بلور کے صاحبزادے عثمان بلور۔ انجنئیر محمد خان اور ایس ایچ او قتل ہوئے تو دوسری طرف سید قمر عباس اور ان کے بھانچے اسد ممتاز شدید زخمی ہوگئے۔
دونوں اطراف سے ایف آئی آرز کا اندراج ہوا۔ سید قمر عباس اس مقدمے میں دو سال جیل کاٹنے کے بعد بے گناہ قرار پاکر رہا ہوئے۔ اس دوران اے این پی اور پی پی پی سمیت کئی ایک لوگوں نے دونوں فریقین میں صلح کرانے کی کوششیں کیں لیکن بلور خاندان صلح کرنے پہ راضی نہیں تھا۔ وہ سید قمرعباس کا سر مانگتا تھا۔ اس نے سید قمر عباس پہ کئی جان لیوا حملے کرائے اور پھر 6 مئی 2007ء کا وہ منحوس ترین لمحہ آن پہنچا اجرتی قاتلوں نے سید قمر عباس پہ فائرنگ کی جب وہ اپنے بھتیجے کے ساتھ موٹر سائیکل پہ سوار ہوکر واپس گھر جارہےتھے- وہ پارٹی کے ایک جیالے کی دعوت ولیمہ میں شرکت کے بعد واپس جارہے تھے۔ دونوں موقع پہ ہی دم توڑ گئے۔
انا للہ وانا الیہ راجعون ۔۔۔۔۔۔۔

سید قمر عباس اکتوبر 1950ء میں پشاور کے تاریخی محلہ خداداد میں معروف ترقی پسند شاعر و ادیب سید فارغ بخاری کے گھر پیدا ہوئے تھے جو 50 سے زائد کتابوں کے منصنف ، انجمن ترقی پسند مصنفین کے بانی رکن تھے اور باکمال شاعر تھے۔ انھوں نے گورنمنٹ پرائمری اسکول محلہ خداداد سے پرآئمری اور گورنمنٹ پشاور ہائی اسکول 1 بی سے میٹرک کیا- پشاور پولی ٹیکنکل انسٹی ٹیوٹ سے انھوں نے ڈیی کام اور سی کام کیا اور پھر انھوں نے 1972ء میں قائداعظم کامرس کالج پشاور سے بی کام کیا۔ 1977ء میں انھوں نے پشاور لاء کالج سے قانون کی ڈگری لی اور پشاور یونیورسٹی سے انھوں نے ایم اے اردو کی سند لی۔

سید قمر عباس جب پشاور پولی ٹیکنل انسٹی ٹیوٹ میں تھے تو ان دنوں ملک بھر میں ایوب خان کے خلاف تحریک زوروں پہ تھی اور وہ گھر کے ترقی پسند جمہوری بائيں بازوکے ماحول کے سبب پہلے دن سے اس تحریک کا حصّہ بن گئے تھے۔ انھوں نے ابتداء میں پاکستان اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے سیاست کا آغاز کیا- وہ ایوب شاہی کے خلاف چلنے والی تحریک کے دوران ہونے والے مظاہروں میں شریک ہوئے۔ کئی بار گرفتار ہوئے۔ اس دوران وہ معروف بائیں بازو کے رہنما معراج محمد خان سے متاثر ہوئے اور ان کے ساتھ کام بھی کیا۔ لیکن پاکستان پیپلزپارٹی کے قیام کے فوری بعد جب ذوالفقار علی بھٹو نے پشاور کا دورہ کیا تو وہ پی پی پی ميں شامل ہوگئے۔ انھوں نے 1971ء میں قائداعظم کامرس کالج میں پیپلزاسٹوڈنٹس فیڈریشن کی بنیاد رکھی اور اسی پلیٹ فارم سے انھوں نے دو بار کالج اسٹوڈنٹس یونین کے الیکشن بھی جیتے۔ وہ دیکھتے ہی دیکھتے پشاور میں طالب علموں کے مقبول ترین رہنماؤں میں شمار ہونے لگے تھے۔ انھوں نے پی ایس ایف کے صوبائی رہنماء کے طور پہ صوبہ خیبرپختون خوا اور فاٹا میں پی ایس ایف کے کالجوں اور جامعات میں پرائمری یونٹس اور پھر سٹی و تحصیل و ضلع اور ڈویژن کی سطح پہ تنظیمیں قائم کیں اور نوجوانوں کی بڑی تعداد کو بھٹو اور پی پی پی کے ساتھ جوڑا۔ حیات خان شیر پاؤ کا انھیں خصوصی اعتماد حاصل تھا۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو بھی ان کی بہت قدر کرتے تھے۔

سید قمر عباس حق گو، بے باک اور کارکن دوست آدمی تھے۔ حیات خان شیر پاؤ کی شہادت کے بعد جب نصراللہ خٹک کے پی کے کے چیف منسٹر بنے تو نصراللہ خٹک کی اشراف پنے سے اور پارٹی اور اس کے ذیلی ونگز کی تنظیموں میں مداخلت کرنے کی وجہ سے ان کے اختلافات خٹک سے بن گئے ۔ اس نے قمر عباس کو جیل میں ڈال دیا۔ بھٹو صاحب کی خصوصی مداخلت پہ وہ رہا ہوئے۔

سید قمر عباس کا دوسرا ہنگامہ خیز دور جنرل ضیاء الحق کی آمریت کے خلاف جدوجہد سے شروع ہوا۔ انھوں نے خاص طور پہ پشاور وادی کو جنرل ضیاء کے خلاف متحرک کیا اور نوجوانوں کو کھڑا کیا۔ان کو مارشل لاء ريکولیشن کے تحت پیپلزپارٹی کے 12 ہزار کارکنوں سمیت پانچ کوڑوں اور ایک سال کی سزا ہوئی تھی- اس قید اور کوڑوں نے سید قمر عباس کے عزم کو اور پختہ کر دیا۔

ان کی بہادری اور تنظیم سازی کی صلاحیتوں سے متاثر ہوکر بیگم نصرت بھٹو نے انھیں محترمہ بے نظیر بھٹو کا سیکرٹری مقرر کردیا۔ جنرل ضیاء الحق اور اس کے حواری سید قمر عباس کو پکڑنے کی کوشش میں تھے ان کے ہاتھ یہ موقعہ پی آئی اے کے طیارہ اغوا کیس میں آگیا۔ سید قمر عباس کو جنرل ضیاء کے قاتل ہرکاروں نے پیشکش کی کہ اگر وہ یہ بیان دے دیں کہ طیارہ اغوا کیس کی سازش بے نظیر بھٹو نے تیار کی ہے تو ان کو حکومت میں اہم منصب دے دیا جائے گا۔ انھوں نے اپنے آپ کو بیچنے سے انکار کردیا جس کی پاداش میں ان کو مختلف اذیب خانوں میں رکھا کیا جس میں شاہی قلعے کی جیل بھی شامل تھے۔ ان پہ انسانیت سوز تشدد کیا گيا۔ بجلی کے جھٹکے لگائے گئے۔ ان کے گردن کے مہرے تک متاثر ہوئے۔ ایک مرتبہ تو ان کے مرنے کی خبر بی بی سی ريڈیو نے نشر کردی۔

جنرل ضیاء الحق کے 11 سالہ دور آمریت میں جہاں قومی سطح پہ سید قمر عباس روشن خیال، ترقی پسند جرآت مند ، بہادر اور چٹان جیسے عزم رکھنے والے سیاسی کارکن کے طور پہ ابھرے وہیں ان کا نام اس دور کے عظیم ترین مزاحمتی جدوجہد میں طاق سیاسی کارکنوں جیسے جام ساقی تھے کے ساتھ لیا جانے لگا تھا۔ کے پی کے میں پی ایس ایف کے نوجوانوں کے لیے وہ “گرو” کی طرح تھے۔ پی ایس ایف کی کوئی کارنر میٹنگ ہوتی، کوئی جلسہ ہوتا اور کوئی مظاہرہ ہوتا اس میں جہاں بھٹوز کے نعرے لگتے تو ساتھ ساتھ “تیری آواز،میری آواز – قمر عباس قمر عباس” کا نعرہ لازمی لگا کرتا تھا۔

سید قمر عباس پی پی پی کے ان کارکنوں میں شامل ہوتے ہیں جنھوں نے صوبہ خیبرپختون خوا کے ہر شہر، تحصیل اور ہر ضلع میں پی پی پی کو مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ پی پی پی کا صوبہ خبیر پختون خوا میں جڑں مضبوط کرنا اس حوالے سے بہت ہی حیران کن واقعہ تھا کہ یہاں پہ خدائی خدمتگار تحریک سے لیکر نیشنل عوامی پارٹی اور پھر اس سے آگے عوامی نیشنل پارٹی تک کا سفر طے کرکے آنے والی باچا خان کے عقیدت مندوں کا زبردست غلبہ تھا اور اپنی تشکیل کے وقت سے پی پی پی کی کے پی کے اندر جڑیں بننے کا عمل اکثر وبیشتر سیاسی پنڈتوں کے لیے نہ سمجھ میں آنے والا عمل تھا۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ جب خان ولی خان نے خیدرآباد جیل سے رہا ہونے کے بعد سے لیکر بھٹو کی پھانسی تک اور اس کے بعد ایم آر ڈی میں شرکت نہ کرکے اور جنرل ضیاء الحق کی حمایت کرکے وہ گراؤنڈ کھو دیا تھا جو ان کو اس سے پہلے حاصل تھا- ایسے میں سید قمر عباس جیسے نوجوان جیالے کارکنوں نے اس خلا کو پر کیا جو ولی خان کی رجعتی سیاست سے پیدا ہوگیا تھا۔ مجھے تو ایسے لگتا ہے کہ بھٹو کی پھانسی کے بعد سے نہ صرف پنجاب، سندھ، بلوچستان بلکہ صوبہ خیبر پختون خوا میں بھی پیپلزپارٹی ایک نئے روپ میں ابھرکر سامنے آئی تھی اور اس کے مزاحمتی روپ کے سب سے بڑے تخلیق کار قمر عباس جیسے نوجوان تھے جنھوں نے پارٹی کے ہراول دستے کا کردار سنبھال لیا تھا۔ اور آمریت کے دانت کھٹے کردیے تھے۔

سید قمرعباس 1988ء اور 1993ء کے انتخابات میں پشاور سے صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ۔ سید قمر عباس کی جیت ایک بڑا معجزہ تھی کیونکہ پورے پاکستان میں انتخابی سیاست کی حرکیات میں پیسہ، برادری، قبیلہ اور سماجی طاقت کے ديگر عوامل بہت اہمیت اختیار کرگئے تھے اور ساتھ ساتھ اسٹبلشمنٹ کی مداخلت بھی بہت زیادہ تھی۔ سید قمر عباس نے یہ الیکشن نظریہ، عزم اور خلوص، عوام دوستی اور خوئے دلنوازی کی بنیاد پہ جیتا تھا۔ انھوں نے زیادہ کمپئن موٹرسائیکل پہ کی اور ڈور ٹو ڈور کمپئن کی ۔ بے ںطیر بھٹو نے ان کو 1988ء میں پی پی پی کی حکومت میں ہاؤسنگ اورپارلیمانی افئیرز وزارت کا قلمدان دیا اور 1993ء میں انھیں وزیر جیل خانہ جات کا منصب کے پی میں پی پی پی کی حکومت میں دیا گیا۔ سید قمر عباس پارٹی کی صوبائی تنظیم کے جنرل سیکرٹری اور سینئر نائب صدر کے عہدوں پہ فائز رہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے صوبہ خیبرپختون خوا کے تمام اضلاع میں نئے اور پرانے جیالوں میں سید قمر عباس مزاحمت اور امید دونوں کی علامت کے طور پہ دیکھے جاتے رہے اور آج بھی خیبرپختون خوا کے جیالے چاہے وہ پشتو بولنے والے ہوں یا وہ ہندکو بولنے والے ہوں یا سرائیکی بولنے والے ہوں سب ان سے پیار کرتے ہیں۔ ان کو ہم سے جدا ہوئے 14 سال ہوگئے ہیں لیکن وہ آج بھی پارٹی میں رول ماڈل کے طور پہ دیکھے جاتے ہیں۔ ان کا خانوادہ پشاور میں آج بھی پیپلزپارٹی کا پرچم تھامے ہوئے۔ ان کے بھائی سید طاہر عباس ہوں یا شہید قمر عباس کا بیٹا ہو سب کے سب پی پی پی کے پرچم کو اٹھائے ہوئے ہیں اور کوہستان سے لیکر ڈیرہ اسماعیل خان تک جیالے سید قمر عابس کے راستے کو اپنا راستا قرار دیتے ہیں۔ انہیں شہید ذوالفقار علی بھٹو، بیگم نصرت بھٹو اور محترمہ شہید بے نظیر بھٹو کے بااعتماد ساتھی ہونے کا شرف حاصل رہا۔ وہ دیانت داری میں اپنی مثال آپ تھے۔ انھوں نے کتاب دوستی اپنے والد سے ورثے میں پائی تھی۔ خود بھی کئی کتابیں لکھیں جن میں سے ” وزیر جیل سے جیل تک” انہوں نے اپنی خودنوشت لکھی جو ان کی شہادت کے بعد 2009ء میں بے نظیر بکس لاہور سے چھپی۔ اپنے والد کی سوانح عمری انھوں نے مرتب کرکے شایع کی ۔ وہ ہندکو زبان اور اردو زبان میں شایع ہونے والے دو رسالوں کے ایڈیٹر بھی رہے اور روزنامہ مشرق پشاور میں وہ باقاعدگی سے کالم بھی لکھتے رہے۔ وہ عملی سیاست کے میدان کے شہ سوار بھی تھے اور قلم دھنی بھی تھے۔ یہ دونوں خصوصیات بیک وقت ایک آدمی میں پائی جانا بہت مشکل ہوتی ہیں ہم ایسے نام گننا شروع کریں تو بڑے بڑے معروف سیاست دانوں کے نام ہی ذہن میں آئیں گے۔

آج پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت بلاول بھٹو زرداری کے ہاتھ میں ہے جو خود جوان رعنا ہیں اور ان کے دائیں بائیں اگر ایک طرف شہید بے نظیر بھٹو کے بااعتماد تجربہ کار ادھیڑ عمر ساتھیوں کی بھير ہے تو نوجوان چہروں کی بھی کمی نہیں ہے۔ یہ خوش آئیند بات ہے۔ پیپلزپارٹی کو اشد ضرورت ہے کہ وہ پی پی پی کی ضلعی تنظیموں ميں شہید قمر عباس جیسے تھے ویسے متحرک نوجوانوں کو عہدوں پہ لیکر آئے اور ان کو پارٹی کی تنظیموں کو منظم کرنے کا مو‍قعہ تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ پی پی پی اس ملک سب سے مضبوط ترین سینٹر لیفٹ کی پارٹی بنکر نہ ابھرے۔

پس نوشت: شہید قمر عباس کی یادگار تقریر جو انھوں نے جنرل مشرف کے دور میں کی نوجوان سیاسی کارکن اسے ضرور سنیں


شیئر کریں: