امریکا کی عہد شکنی کے بعد افغانستان میں جھڑپیں تیز ہو گئیں

شیئر کریں:

امریکا کی جانب سے فوجوں کی افغانستان سے یکم مئی تک مکمل طور پر نہ نکالے جانے پر طالبان نے افغان
فورسز پر حملے تیز کر دیے ہیں۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور طالبان کے درمیان غیرجانب دار ملک قطر کے
دارلحکومت دوحہ میں معاہدہ طے پایا تھا۔
معاہدہ کی روشنی میں یکم 2021 تک امریکا اور نیٹو فورسز کو افغانستان کی سرزمین خالی دینی تھی لیکن
موجودہ صدر نے نائن الیون کی بیسویں برسی تک فوجوں کے انخلا کا عمل مکمل کرنے کا اعلان کر دیا۔

طالبان نے اس اعلان کے بعد افغانستان سے متعلق تمام اجلاسوں کا بائی کاٹ کر دیا یہی وجہ ہے کہ ترکی میں ہونے
والا دو روزہ اجلاس گزشتہ ماہ منسوخ کر دیا گیا۔ اب طالبان نے افغانستان کے زیادہ سے زیادہ علاقوں پر کنٹرول
حاصل کرنے کے لیے فورسسز پر حملے بڑھا دیے ہیں۔

گزشتہ جمعہ کی شام صوبہ لوغر میں کار بم دھماکا کیا گیا جس میں 30 سے زائد افراد مارے گئے۔ اسی طرح جنوب
مغربی صوبہ فرح میں افغان فورسز کے قافلے پر حملہ کیا گیا جس میں 8 اہل کاروں کی ہلاکت ہوئی۔

طالبان نے اس وقت ہلمند، غزنی اور قندھار سمیت کم از کم چھ صوبوں میں لڑائی چھیڑ دی ہے۔ جنوبی صوبہ ہلمند
کی بیس امریکی فوج نے افغان فورسز کے حوالے کردی ہے اور یہاں سے غیرملکی فوجوں کا انخلا ہو چکا ہے۔

افیوم کی کاشت سے شہرت رکھنے والے صحرائی صوبہ ہلمند پچھلے 20 سال کے دوران امریکی فوج کے لیے
آسان ثابت نہیں ہوا۔ اس صوبے میں غیرملکی فوجیوں کا بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔ اب بھی طالبان نے اس
صوبہ میں اپنی پیش قدمی شروع کر دی ہے۔ صوبہ کے دارلحکومت لشکر گاہ کے ارد گرد لڑائی شدت
اختیار کر چکی ہے۔

افغان فورسز بھی فضائیہ کو استعمال کرتے ہوئے حملے کر رہی ہے اب تک 100 سے زائد طالبان کو ہلاک کرنے
کا دعوی کیا گیا ہے لیکن سیکیورٹی فورسز کے نقصان کا نہیں بتایا گیا۔ طالبان نے بزور بازو افغانستان پر قبضے
کی کوشش تیز کر دی ہے۔ بظاہر معلوم یہی ہوتا ہے کہ امریکی فوج نے خود ایسی صورت حال کے لیے راہ ہموار
کی ہے تاکہ افغانستان میں کسی طور پر امن قائم نہ ہو سکے۔


شیئر کریں: