مشرق وسطی میں بڑی تبدیلیاں، امریکا کی جگہ روس لینے لگا

شیئر کریں:

مشرق وسطی کے منظر نامے پر بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ امریکا جہاں مشرق وسطی سے اپنے جھگڑے
سمیٹنے کی تیاری کر رہا ہے تو وہیں مشرق وسطی میں دنیا کے پرانے کھلاڑی نے اپنے قدم جمانا شروع کردیے ہیں۔

روس ایک بار پھر مشرق وسطی کے ممالک کے ساتھ دفاعی تعلقات مضبوط کر رہا ہے۔ روس نے مصر، ترکی اور
الجیریا کے ساتھ جنگی طیاروں کی فروخت شروع کردی ہے۔

اکتوبر کے بعد روس ایران کو بھی طیارے فروخت کرنے کے منصوبے پر حتمی شکل دے رہا ہے۔ روس ایران تعلقات نئے
نہیں دونوں ممالک میں شاہ ایران دور سے اچھے تعلقات ہیں۔ اکتوبر میں امریکی پابندیوں میں نرمی کے فوری بعد
ایران روس سے جدید لڑاکا طیارے خریدنے کے منصوبے پر عمل درآمد شروع کردے گا۔

مصر نے امریکی پابندیوں کے باوجود فروری میں پانچ جدید روسی ایس یو 35 طیارے حاصل کر لیے ہیں۔ مصر
روس سے ففتھ جنریشن ایس یو 35 کے چوبیس طیارے خرید رہا ہے۔

اسی طرح امریکا کا نیٹو اتحادی ترکی امریکی ایف 35 چھوڑ کر اسٹیٹ آف دی آرٹ ایس یو 57 طیارے خرید
رہا ہے۔ روس اس وقت دنیا کے کل اسلحہ کی فروخت کا 21 فیصد اسلحہ فروخت کر رہا ہے۔

روس امریکا کے بعد اسلحہ فروخت کرنے والا دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔ روس اور چین مل کر امریکا کو اسلحہ کی
فروخت میں ٹکر دے رہے ہیں۔

حالیہ طیاروں کی ڈیلز کے بعد روس نے فضائی ہتھیاروں اور جنگی طیاروں کی فروخت کی دوڑ میں امریکا پر
برتری حاصل کر لی ہے۔ اسی طرح چین امریکا پر بحری برتری حاصل کرچکا ہے۔

چین کے پاس اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ نیول وار شپ ہیں اور چین ان کی تعداد میں تیزی سے مزید
اضافہ کر رہا ہے۔ مشرق وسطی میں روسی اسلحہ کی فروخت کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔
امریکا ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مشرق وسطی سے نکل رہا ہے۔ امریکا مشرق وسطی اور افغانستان
سمیت دینا بھر میں اپنی چھیڑی ہوئی جنگیں سمیٹ رہا ہے۔

امریکا کا منصوبہ ہے کہ وہ دنیا بھر میں اپنی جنگیں ختم کرکے تمام توجہ چین اور روس پر مرکوز کرسکے۔
افغان جنگ کا خاتمہ ہو رہا ہے، مشرق وسطی میں ڈیل آف دی سنچری پر کام ہورہا ہے۔ عرب ممالک کا اسرائیل
کے تعلقات بحال ہو رہے ہیں۔ مسئلہ کشمیر کے حل کی باتیں بھی ہورہی ہیں۔

دوسری طرف چین کے گرد گھیرا تنگ کیا جارہا ہے۔ ساوتھ چائینہ سی میں چین کو مصروف کرنے کی کوششیں
کی جارہی ہیں۔ امریکی بحری بیڑے چین کے گرد اپنے اتحادیوں کے پانیوں میں موجود ہیں اور چین کو چیلنج
کر رہے ہیں۔

شطرنج کی بساط پر امریکا اپنی چالیں چل چکا اور اب بھی پیادوں پر توجہ دے رہا ہے۔ اسی دوران عالمی شطرنج
کا دوسرا کھلاڑی مکمل طور خاموش ہے۔ چین اس وقت صرف اپنی معیشت پر توجہ دے رہا ہے اور اپنی جنگی
استعداد میں مسلسل اضافہ کررہا ہے۔

صورت حال اگر اسی طرح تیزی سے بدلتی رہی تو پھر شائد امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جارحانہ پالیسی کے جواب
میں چین زیادہ دیر تک خاموش نہیں رہ سکتا۔
اب دیکھنا یہ ہو گا کہ چین امریکی جارحیت کا جواب کیسے دیتا ہے؟ اور کیا مشرق وسطی میں روسی اسلحہ کی
فروخت کے بعد امریکا کون سے بڑی غلطی کرتا ہے؟


شیئر کریں: