راہیں جدا کرنے سے پہلے !

شیئر کریں:

تحریر:عمران اطہر منگی

راہیں جدا کرنے سےپہلے کاش ان میں سے ایک نے بھی ماضی کو پلٹ کر دیکھا ہوتا، اس لمحے کو ، اس وقت کو اس پل کو یاد کیا ہوتا جب وہ پہلی بار ملے تھے اور انہیں یوں لگا تھا جیسے وہ کئی سالوں سے ایک دوسری کی تلاش میں تھے وہ ان گنت باتیں وہ خواب ، وہ خواہشیں جب تکمیل کو پہنچی ہونگی تو لازمی زندگی کا ہر پل ایک خوشگوار یاد بن کر بہترین زندگی کاحصہ رہا ہوگا۔
کاش وہ بچھڑنے سے پہلے اس گھڑی کو یاد کرلیتے جب انہوں نے زندگی بھر ساتھ نبھانے کی محبتوں کی رسمیں ادا کی تھیں۔جدائی ، علیحدگی ، ہجر وفراق یہ لفظ شاید کہنے اور سننے میں بہت اچھے لگتے ہیں لیکن انکی تاثیر بےحد اذیت اور تکلیف دہ ہوتی ہے۔اتنا عرصہ ساتھ گزارکے بعد تو وہ ایک دوسری کی ضرورت نہیں بلکہ عادت بن چکے ہونگے ایک دوسری کی روح میں تحلیل ہونے والے اس رشتے کو آخر ایسا کیا سوجھا جو راہیں جدا کرلی لیکن فلاحی کام پھر بھی ساتھ کرنے کےعزم کا اعادہ کررکھاہے۔
اب ہم ساتھ نہیں چل سکتے اور مستقل بنیادوں پر ہم راہیں الگ کردیتےہیں۔آخر اس عمل کی اتنا طویل عرصہ گزارنے کے بعد بل آخر ضرورت کیوں پیش آتی ہے۔کیا اتنے سالوں میں ایک دوسرے سے دل بھرجاتاہے، یا پھر انسان وہ خیال گمان تصور کرتاہے جو سوچا تھا مجھے وہ نہیں ملا لیکن اتنا طویل عرصہ گزارنے کےبعد بھلا یہ سوچ کیسےجنم لے سکتی ہے۔
ہمارے معاشروں میں رشتے مالی حالات بہتر نہ ہونے کی وجہ سے ہمیشہ جھگڑے لڑائی اور پریشانی کا باعث بنے رہتےہیں لیکن دنیا کے امیر ترین اور بہترین زندگی گزارنے والا وہ شخص جسے دنیا کاچوتھا امیر ترین آدمی کہا جاتاہے۔کیسے اس رشتے سے خود کو الگ کرپایا ہوگا یہ خیال پھر سےانسانی رشتوں کے توقیر اور آبرو کو تار تار کرتا دیکھائی دیتا۔
رشتہ ہونے کےبعد رشتہ نبھانے کا جو تصور ہمارے معاشروں میں پروان چڑھ رہاتھا ابھی اپنی اہمیت کھورہاہے۔ اس میں ہمارے معاشروں میں معاشی بدحالی کو ہی رشتے ٹوٹنے اور بکھرنے کی وجہ مانا جاتاہے۔لیکن رشتے معاشی بدحالی نہیں بلکہ باہمی ہم آہنگی برقرار نہ رکھنے کی وجہ سے شاید برقرار نہیں رہ پاتے۔
میلنڈا گیٹس نے شادی کے 27 سال بعد طلاق لینے کا اعلان کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ‘ہمارے نزدیک اب ہم اب ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہوئے ترقی نہیں کر سکتے۔
یہ کیسی ترقی ہوگی جس میں ساتھ توڑنا لازمی قرار پایا ہوگا سوچ کر عجیب سے کیفیت جنم لیتی ہے۔ محبت کے حسین جذبات سے اعتبار اٹھ جاتاہے۔ٹوٹنا بکھرنا ، الگ ہونا کسی وجہ کے تحت ہو تو بات سمجھ بھی آتی ہے لیکن بچے ہونا پھر ان کا جوان ہونا زندگی کے بہترین پل ساتھ گزرنے کے بعد عمر کے اس حصے میں پہنچنا اور جہاں پہلی کی گئی ملاقات کو تقریبا 41 سال کا عرصہ بیت گیا ہواور 27 سال محبت کے رشتے میں بندھے رہنے کے بعد اس پھولوں سے بھی خوبصورت محبت کے رشتے سے ان دونوں نے کیسے ایک دوسرے کو علیحدہ کیا ہوگا یہ سوال یہ خیال اب بھی روح کے زخم کو چور چور کررہاہے۔
دونوں کی درمیان پہلی ملاقات 1980 کے اواخر میں ہوئی تھی جب میلنڈا نے بل گیٹس کی کمپنی مائیکروسافٹ میں نوکری کا آغاز کیا تھا۔ ان کے تین بچے ہیں۔
ملینڈا اور بل گیٹس کی جانب سے ٹوئٹر پر کی گئی پوسٹ پر انہوں نے اپنی علیحدگی کا اعلان کیا کہ گزشتہ 27 سالوں کے دوران ہم نے تین بچوں کی بہترین پرورش کی ہے اور ایک ایسی فائونڈیشن بنائی ہے جو دنیا بھر میں کام کرتی ہےاور لوگوں کو صحت مند اور بہتر زندگی گزارنے میں مدد کررہی ہے۔ اس کے لیے ہم مل کر کام کرتےرہینگے لیکن ایک جوڑے کی حیثیت سے ہم ساتھ مل کر مزید اکھٹے نہیں رہ سکتے۔
پاکستان ٹیلی ویژن کی معروف اداکارہ بشریٰ انصاری کی علیحدگی جب پہلی بار خبر سنی تھی تب بھی عجیب سی کیفیت نےجنم لیا تھا یوں لگا تھا جیسے اب احساس مصنوعی ہوگیا ہےذاتی اناء اور خواہش کی تسکین لازمی جزو ہے زندگی کا ہے اس میں کسی قسم کی انیست اور قربانی کا احساس کہیں سے جھلک نظر نہیں آئی بشریٰ انصاری نے اپنے ایک انٹرویو میں کہاکہ ہماری بنتی نہیں تھی لیکن سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ شادی کے 36 سال گزارنے کے بعد بھی نہ بنے تو یہ اس رشتے کی تذلیل ہے جس میں وہ اتنے سالوں سے جوڑے ہوئے تھے ۔میں سوچتاہوں یا تو رشتہ ہونا چاہیے یا تو پھر نہیں ہونا چاہیے اتنے سال گزارنے کے بعد ہتھیار پھینک دینا اور انتہائی تکلیف دہ عمل ہوتاہے دونوں افراد کے لیے۔
ڈیجیٹل میڈیا کے اس دور میں مجھے محبت کےجذبے اور انکی تاثیر کمزور ہوتی دیکھاتی دیتی ہے۔ بس ہر شخص ایک ایسے راستے پر نکل پڑاہے جسکی کوئی منزل نہیں بس راستہ ہی راستہ ہے اور وہ آگے کی جانب پہلے سے بھی ذیادہ تیزی سے دوڑتاچلاجاتاہے ۔ وہ کب تھک کر گرے گا اسکا اسے کوئی احساس نہیں ۔
میلنڈا اور بل گیٹس کی علیحدگی نے اس بات کو ثابت کردیکھایا کہ کامیاب زندگی کے لیے صرف دولت اور شہرت کا ہونا ضروری نہیں ۔ اسے کامیاب کرنے میں ذاتی رویوں اور باہمی ہم آہنگی اور ایک دوسرے کی اہمیت سے ہی اسے کامیاب بنایا جاسکتاہے۔وہ لوگ جو اپنی زندگی میں خوشحالی لانے کے لیے دن رات پیسے کی دوڑ میں دوڑتے رہتے ہیں انہیں چاہیے کے اپنے ساتھ جوڑے رشتوں کو نہ صرف اہمیت دے بلکل بار بار مختلف حوالوں سے اپنی محبت کے احساس سے انہیں محسوس کرائے کہ زندگی میں جتنی بھی خوبصورتی ہے آپ کے ہونے سےہی ہے۔
میں تو سوچتا ہوں کسی بھی رشتے کو کامیاب کرنے اور برقرار رکھنے کےلیے بہترین تحفہ ایک دوسرے کو دیا گیا وقت ہوتاہے جو اس بات کا باربار احساس دلاتاہے جو بھی میرے ارد گردمیرےپاس ہے یہی زندگی ہے اور یہی سب کچھ ہے۔


شیئر کریں: