دلّی میں آکسجین سپریا شرما

شیئر کریں:

ترجمہ عامر حسینی

سپریا شرما نے اپنے خاندان کے لیے نان بریتھر ماسک خریدا تھا

صحافت کا ایک غیر تحریری اصول ہے کہ اعصاب پہ بھاری پڑنے والی تحقیقاتی خبريں اتوار کے روز قاری کے لیے
اچھی نہیں سمجھی جاتیں لیکن 8 اپریل کو جو اتوار آیا وہ معمول کے دنوں میں آنے والا اتوار نہیں تھا۔
کورونا کی خوفناک لہر نے ہندوستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا اور لوگ دم گھٹنے سے مر رہے تھے کیونکہ
اسپتالوں میں بیڈ دستیاب تھا اور نہ ہی آکسجین۔

میرے ساتھی صحافیوں اور میں نے چند دن ہندوستان میں آکسجین کی کمی کے بحران پہ تحقیقات کرتے گزارے۔
ششدر کردینے والے حقائق میں سے ایک ہم نے یہ پایا کہ مودی سرکار نے وبا کے پھیل جانے کے 8 ماہ بعد 162
آکسجین پلانٹس کے لیے ٹینڈر طلب کیے تھے۔ اکثر نہ تو تعمیر ہوئے اور نہ ہی اکثر نے کام شروع کیا۔

ہماری رپورٹ شایع ہونے کے ایک گھنٹے بعد میری والدہ نے مجھے فون کال کی اور بتایا کہ میرے انکل کا کرونا کا
ٹیسٹ مثبت آگیا ہے۔ وہ 62 سال کے تھے ان کو شوگر اور بلڈ پریشر کے امراض لاحق تھے ان کا آکسجین لیول
گر رہا تھا۔

میں دہلی میں رہتی ہوں۔ ہندوستان کا سب سے زیادہ مراعات یافتہ شہر ہونے کے ناطے، ملک بھر کا یہ بہترین
انفراسٹرکچر رکھتا ہے جس میں ہزار فی کس آبادی کے لحاظ سے سب سے زیادہ تعداد ميں اسپتال بیڈز موجود ہیں۔

گزشتہ سال وبا کے ابتدائی ہفتوں میں اسپتالوں میں بیڈز کی قلت کا مںظر دیکھنے کو ملا تھا لیکن ایک بار
جب اسپتالوں میں بستروں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا اور سسٹم بہتر بنالیے گئے تھے تو صورت حال معمول پہ
آگئی تھی۔ نومبر کے مہینے میں جب کوورونا کیسز کی یومیہ تعداد 8600 تھی تب بھی اسپتالوں میں گنجائش
کی قلت کی کوئی رپورٹ نظر نہیں آئی تھی۔

سن 2021 کا آئاز اچھے نوٹ سے ہوا

سولہ ملین/ ایک کروڑ 60 لاکھ کی آبادی کے شہر میں جنوری میں کورونا کے کیسز کی شرح 100 سے نیچے چلی
گئی تھی۔ کورونا وائرس پسپائی کا شکار لگ رہا تھا۔

موسم بہار دہلی میں بہترین وقت ہوتا ہے۔ اس سال بھی یہ دیدہ زیب تھا۔ تنہائی میں کئی ماہ کام کرنے کے بعد
میرے ساتھیوں اور میں نے ایک مشترکہ مقام پہ اجلاس کرنا اور آپریٹ کرنا شروع کردیا تھا۔ ماسک پہنے ہوتے
لیکن جب چائے آتی تو ان کو اتار دیا جاتا تھا۔

ہم نے وزیراعظم کے “ناقابل شکست” ہونے کے تصور کو خریدا نہیں تھا لیکن ہم محتاط ہوکر حیرانی سے یہ
سوال ضرور کرتے تھے کہ کیا واقعی آبادی کے کچھ حصّے میں اس وائرس سے نمٹنے کی قوت مدافعت موجود ہے
جس نے ہندوستانیوں کو ایک حفاظتی دیوار مہیا کر رکھی ہے۔

پریشان کن بات اگرچہ مہاراشٹر کے مشرقی حصّے میں تھی جہاں فروری کے مہینوں میں کورونا کیسز میں تیزی
سے اضافہ دیکھنے کو ملا تھا۔ مارچ کے وسط میں مہاراشٹر کے بڑے شہروں میں سے ایک ناگ پور میں تو 15
دن کا لاک ڈاؤن کرنا پڑا۔

دہلی میں گڑبڑ پھر بھی کم ہی محسوس ہوئی۔ مارچ کے آتےآتے کم کیسز بڑھتے بڑھتے 5000 یومیہ پہ آگئے اور پھر
نئے کورونا کیسز اپریل کے آغاز میں آنا شروع ہوگئے۔

ناخوشی کے ساتھ ہم نے مشترکہ طور پہ مل کر کام کرنے کی جگہ کو چھوڑا اور پھر گھروں میں بند ہوگئے لیکن شہر کا سب سے زیادہ اکثریت نے ایسا نہ کیا۔ بازاروں میں رش تھا ریستورانوں میں جگہ نہیں تھی۔ شادیاں جاری رہیں۔شہر نے معمول پہ آجانے کےبعد دیوار پہ لکھے / نوشتہ دیوار کوپڑھنے سے انکار کردیا تھا۔

اپریل کی 8 تاریخ کو میں نہ چاہتے ہوئے بھی ناگزیر ذاتی کام کے لیے دو افراد کو ملنے کے لیے باہر جانے پہ مجبور ہوگئی۔ اگلے دن مجھے پتا چلا کہ ان میں سے ایک نوجوان عورت جو بظاہر بالکل ٹھیک نظر آرہی تھی اس دوپہر، رات کو تیزبخار کے ساتھ اسپتال داخل ہوگئی تھی۔

ایک دن بعد اس سے بھی زیادہ صدمے والی خبر ملی میرے بڑے نرم دل پڑوسی جو نیچے فلور پہ رہتے تھے آکسجین کی اچانک کمی سے چل بسے۔

چند ہفتے کے بعد میں کورونا ٹیسٹ کے لیے ایک ایسے مرکز میں گئی جو عام طور پہ ویران پڑا رہتا تھا اور اب میں دس پریشان نظر آنے والے لوگوں کی قطار میں کھڑی تھی۔

شکر ہے 12 گھنٹوں میں رپورٹ نیگٹو آگئی

دلّی میں کورونا کے کیسز میں اضافے سے پہلے ہی مہاراشٹر کی ہماسایہ ریاستوں بشمول چھتیس گڑھ، مدھیا پردیش ۔ گجرات میں کیسز کی تعداد میں بے تحاشا اضافہ ہوچکا تھا۔

میڈیا خبروں سے کم اور دوستوں اور رشتے داروں کے زریعے سے جو ان ریاستوں میں تھے میں نے اسپتالوں میں بستر کی گنجائش ختم ہونے کی کہانیاں زیادہ سنیں۔

یقینی بات ہے مرکز کی سرکار کو پتا تھا کہ طوفان آنے کو ہے۔ پھر بھی پردھان منتری مودی جی اور ھوم منسٹر امیت شاہ صرف دو آدمی تھے جن کی حکومت میں چلتی ہے نے کسی اور جگہ توجہ مرکوز رکھی۔ یعنی وہ صرف مغربی بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی چناؤ میں جیت پہ توجہ مرکوزرکھے ہوئے تھے۔

ادھر دلّی سے 200 کلومیٹر دور بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکار والی ریاست اترکھنڈ کے دامن میں لاکھوں لوگ کمبھ میلے میں اکٹھے ہورہے تھے۔ یہ میلا کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے لیے تباہ کن وجہ بن سکتا ہے جیسے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے اترکھنڈ کے چیف مسٹر نے دعوا کیا کہ گنگا ماتا اس وائرس کو ناش کرنے کے لیے کافی ہوں گی۔ کچھ دنوں بعد اکھاداس ایک ہندؤ روحانی سلسلے کا ایک گرو کا دیہانت ہوا تو اس سلسلے کے ماننے والوں نے حکومت سے زیادہ سمجھ داری ک ثبوت دیا اور وہ کمبھ میلے میں شرکت سے دستبردار ہوگئے۔

بحران جو شدت پکڑ رہا تھا اسے نظر انداز کرتے ہوئے، دہلی میں ہیلتھ منسٹری نے اپنے آپ کو بے کار کے پریس بیانات جاری کرنے میں مصروف رکھا- انھوں نے حزب اختلاف کی حکومتوں والی ریاستوں کی جانب سے ویکسین کی قلت پہ کوئی توجہ نہیں دی الٹا ایک دوسرے کو مبارکباد کے مراسلوں کے تبادلے میں یہ مصروف رہی۔

ایسے ایک بیان نے میری توجہ اپنی طرف مبذول کرائی: “پرائم منسٹر کیئر فنڈ کے تحت آکسجین پلانٹ رکھنے والے 100 نئے ہسپتال بنانے کا فیصلہ”، انھوں نے کہا۔ لیکن ان 162 آکسجین پلانٹ کے ساتھ کیا ہوا جن کو اسی فنڈ سے بنانے کے فیصلے ک خوب تشہیر کی گئی تھی؟

ہم نےمرکزی سرکار کے ایک ادارے کی طرف سے اکتوبر میں جاری ایک ٹینڈر کی دستاویز دیکھی جبکہ وبا کو پھیلے آٹھ ماہ ہوچکے تھے۔۔۔۔ اس میں 150 آکسجین پلانٹ جو کہ 14 ریاستوں کے اضلاع میں نصب کیے جانے تھے کے لیےسربمہر پیکشش طلب کی گئی تھیں۔ میرے ساتھی ارونابھ صاعقہ اور وجے للوانی نے دستاویز میں موجود اضلاع کے ہسپتالوں کو فون کرنا شروع کیے۔ انھوں نے 60 ہسپتالوں کی تفصیلات معلوم کیں۔ صرف 11 ہسپتالوں نے بتایا کہ آکسجین پلانٹ نصب ہوچکے ہیں ۔ اور ان میں بھی محض 5 کام کررہے تھے۔

وزرات صحت نے ہمارے سوالات کا جواب نہ دیا کہ کیوں پلانٹ کی تنصیب اور ان کے فعال ہونے میں دیری ہورہی ہے۔ لیکن جوں ہی ہماری رپورٹ شایع ہوئی ، اس نے ٹوئٹ کے ایک سلسلے میں بتایا کہ 162 پلانٹس میں سے اب محض 33 پلانٹس کی تنصیب ہونا باقی ہے۔

اپریل کی 18 تاریخ کو جیسے ہی میں نے اپنی ماتا سے فون پہ بات ختم کی تو میں دہلی سرکار کی ایک ویب سائٹ پہ گئی: “دہلی فائٹس کورونا”

اس کا ڈیش بورڈ پورے شہر میں کورونا مریضوں کے لیے ہسپتال بستروں کی دستیابی دکھارہا تھا۔ میں نے لسٹ پہ نظر ڈالی- میں جانتی تھی کہ اکثر امیر ہندوستانی شہری سرکاریہسپتالوں کی جگہ پرائیویٹ ہسپتالوں میں جانا پسند کرتے ہیں۔ لیکن میں جلد ہی جان گئی کہ ہمارے پاس کوئی چوائس تھی ہی نہیں- تمام نجی ہسپتالوں میں جگہ بھر چکی تھی سرکاری ہسپتالوں میں بھی سوائے دو کے کہیں جگہ نہیں تھی۔ میرے انکل تو سرکاری ہسپتالوں میں جانے سے گھبراتے تھے۔ میں نے دونوں ہسپتالوں میں کال کی تو دونوں ہی میں بستر دستیاب نہ تھے۔

میں نے دوستوں کو کال کی – صورت حال بہت خراب ہے، ھوم کئیر کی تلاش کرو، انھوں نے کہا۔

میں نے ہو گغیر سروسز کمپنوں کو فون کیے تو ان کا جواب بھی یہ تھا کہ وہ پہلے ہی سے بہت زیادہ لوگوں کو دیکھ رہے ہیں اور اب ان کے پاس فالتو اسٹاف ہی نہیں بچا تھا۔ انھوں نے معذرت کرلی۔

ایک ڈاکٹر سے میں نے بات کی تو اس نے کہا صورت حال بہت ہی خوفناک ہوچکی ہے۔

میرے انگل کا آکسجین لیول 86 سے نیچے گرچکا تھا جبکہ بہتر نشان 94 ہوتا ہے۔ اس سے نیچے والی سطح پہ میڈیکل توجہ بہت ضروری ہوجاتی ہے۔ خوش قسمتی سے میں میرا ایک کزن اپنے دوست سے ایک آکسجین کانسٹریٹر مستعار لینے کے قابل ہوئے جو ان کے دوس کی والدہ نے اس وقت تک استعمال کیا تھا جب تک وہ ہسپتال میں بیڈ پانے میں کامیاب نہ ہوئیں۔

لیکن جن ڈاکٹروں سے ہم نے کنسلٹ کیا تھا انھوں نے ہمیں متنبہ کیا تھا کہ میرے انکل انتہائی ہائی رسک والی درجہ بندی میں شامل ہیں ان کے سی ٹی اسکین سے پتا چلا کہ ان کے پھیپھڑے انتہائی متاثر تھے ۔ان فلممیٹری مارکرز جو بیماری کی شدت معلوم کرنے میں مددگار ہوتے خطرناک حد تک بلند تھے۔ ان کو فوری طور پہ انٹروینوس ادویات کی ضرورت تھی اور وہ کہہ رہے تھے کہ ان کو بلا تاخیر ہسپتال لیجانے کی ضرورت ہے۔

میرا سارا خاندان اب فون پہ جتا ہوا تھا اور ہر ایک سے معلوم کررہا تھا کہ کیا وہ دلّی میں ایسے ہسپتال سے واقف ہیں جہاں بیڈ مل سکے۔ یہاں کہ میرے ایک عزیز جو ایک کارپوریٹ فریم کے ہیلپ ڈیسک فرنٹ پہ کام کرتے تھے انھوں نے بھی انکار کیا جبکہ اس ڈیسک کا کام ہی ملازمین اور ان کے خانداانوں کو کویڈ سے لڑنا سکھانا تھا۔

شام کو میرے ایک دوست نے لیڈ دی: ہم ایک غیر منافع بخش ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں کوشش کرکے انکل کو داخل کراسکتے ہیں۔ ہم ہسپتال کی طرف دوڑے۔

ایمرجنسی وارڈ میں ڈبل ماسک پہنے داحل ہوتے ہی میں نے وہاں ایک عام ہندوستانی ہسپتال جیسی افراتفری کا سماں دیکھا بلکہ شاید یہاں فراتفری اور آپا دھاپی کچھ زیادہ ہی تھی۔ ایک نرس نے میرے انکل کو چیک کیا اور پھر ایک ڈاکٹر ان کا معائنہ کرنے آیا، دونوں پی پی ای (پراپر پروٹیکشن ایکوپمنٹ) کٹس میں پہنے ہوئے تھے۔”ان کو آئی سی یو میں شفٹ کرنے کی ضرورت ہے۔” ڈاکٹر نے نے یہ بتاۓ بغیر کہا کہ کیوں صروری ہے۔”ہمارے پاس جگہ نہیں ہے ان کو کہیں اور لیجائیں۔”

میرا دل ڈوب گیا۔ یہاں تو ہسپتال کا بیڈ تلاش کرنا ہی ممکن نہیں تھا تو ایسے میں آئی سی یو زمین کے کس حصّے پہ تلاش کیا جاسکے گا؟

کچھ بھی سوچ پانے کے قابل نہ ہوتے ہوئے میں نے اپنا فون نکالا اور ٹوئٹر پہ گئی اور وہاں درخواست ڈال دی۔ کچھ منت میں ہی وہاں پہ پیغامات کا تانتا بندھ گیا تھا۔ لیکن اکثر معلومات بے کار تھیں۔ ہم نے پورا دن ہر اس نمبر پہ ٹرائی کرنے میں گزارا جو ہمیں لوگوں سے ملا تھا۔ اور لوگوں کے ساتھ مجھے یوتھ کانگریس لیڈر کی ٹپ دی گئی جس نے کورونا کے مریضوں کی مدد کے لیے لوگوں کو متحرک کرنے میں نام کمایا تھا- میں نے اس سے فون پہ بات کی – وہہمدردی تو کررہے تھے لیکن تسلیم کررہے تھے کہ وہ آئی سی یو بیڈ نہیں لیکر دے سکتے۔

ایک ہیلتھ ایکٹوسٹ نے میرا ٹوئٹ دیکھا تو دو بار مجھر نصحیت کی کہ ہم وہیں ہسپتال ٹھہریں، وہاں سے مت جائیں ” ہسپتال پہ وہیںجگہ پانے کے لیے دباؤ ڈالیں”‎

پھر اس رات کو ہسپتال نے میرے انکل کے لیے اپنے آئی سی یو میں کمرہ بنادیا۔

اگلی صبح آئی سی یو میں ایک سینئر ڈاکٹر نے ہمیں ریمیڈیزویر کے چھے انجکشن کا انتظام کرنے کو کہا۔

اس سے ایک دن پہلے ہم نے ممبئی کے ایک ڈاکٹر کا انٹرویو شایع کیا تھا جس نے اینٹی وائرل ڈرگ کے استعمال پہ احتیاط کا مشورہ دیا تھا اور کہا تھا کہ بے احتیاطی سے یہ دوا تجویز کی جارہی ہے اور شواہد اس کی حمایت میں نہیں ہیں۔

شک کے سبب میں نے آئی سی یو ڈاکٹر سے سوال کیا، اس نے لمبی سی ہمیں وضاحت دی کہ ہمارے انکل مریضوں کی اس قلیل کیٹیگریمیں ہیں جن کو اس ڈرگ سے فائدہ ہوسکتا تھا۔ زیادہ احتیاط کرتے ہوئے میں نے سیکنڈ اوپینن لین مناسب سمجھی جس نے اڈوائس کو ٹھیک قرار دے دیا۔

اب پھر فون کالز کا ایک اور راؤنڈ شروع ہوگیا۔ میں نے درجن بھر سے زیادہ فارماسسٹ کو فون کیا جنھیں دہلی سرکار نے ان انجکشن کے اسٹاکٹس کے طور پہ رجسٹرڈ کیا ہوا تھا۔ کسی کے پاس یہ نہ تھے۔ میں نے ایک دوست کو اس کے گھر کے پاس فارمیسی کے پاس جانے کو کہا جس کے بارے مں مجھے بہت سے وٹس ایپ میسج آئے تھے کہ وہاں یہ موجود ہے۔ لیکن وہاں سے بھی نہیں ملی۔

\ گھریلو دوستوں نے ہمیں ایسے ایجنٹوں کے فون نمبر دیے جو مہنگے داموں یہ انجکن بیچ رہے تھے۔ ان سے ہمیں جو سب کم کوٹیشن ملی وہ 25 ہزار روپے کی تھی جکہ ریٹل پرائس میں ایک انجیکشن 899 روپے کا تھا۔

مایوس ہوکر ہم نے ادائیگی کا فیصلہ کیا۔ ہم نے ڈیڑھ لاکھ روپے کا کیش لیر 30 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا اور پتا چلا کہ انجیکشن جعلی تھے اور ان کے باکس پہ اسپیلنگ ہی غلط تھے۔

اس رات ہم نے ان انجکشن کے ملنے کی امید ہی چھوڑ دی تھی جب ہمیں خاندان سے کسی نے ہسپتال کے ایک ایڈمنسٹریٹر سے بات کرنے میں کامیابی حاصل کی جس نے ان کی فارمیسی سے انجکشن ریلیز کرنے کی منظوری حاصل کرلی۔ یہ شاید ہسپتال کے اسٹاف کے لیے محفوظ رکھے گئے تھے- دو سینئر ڈاکٹر آئی سی یو میں تھے۔

اگلی صبح میں ہسپتال گئی اور میں نے فارمیسی سے وارڈ اور وارڈ سے فارمیسی کے کئی گھنٹوں میں چکر لگائے تاکہ انجکشن حاصل کرپاؤں۔ لگتا تھا بات لیک ہوگئی تھی اور ہسپتال نے ڈاکٹروں کی اسٹمپ اور دستخط نسخے پہ لازم کردیے تھے۔ ایک ایسا ٹاسک تھا جس کے لیے ڈاکٹروں کے پاس وقت ہی نہیں تھا۔

ہسپتال کی بھول بھلیوں میں سرگرداں ، جس کے کچھ حصوں کو جو کورونا وارڈ تک جاتے تھے ان کو بند کیا ہوا تھا جہاں رسائی محدود تھی میں نڈھال سی ہوکر گرنے کو تھی کہ ایک سیکورٹی گارڈ نے مجھے تسلی دی اور کرسی بیٹھنے کے لیے دی۔

“بہت برا حال ہے”، اس نے کہا،”لوگ جیسے اب مر رہے ہیں ایسے پہلے نہیں دیکھے۔”

میں نے اس سے پوچھا کہ کیا وہ ویکسن لے چکا؟ وہ کویڈ ہسپتال میں روز گھنٹوں گزارتا تھا۔ اس نے کہا کہ ہاں لے چکا ہوں۔ اس کو ابھی پہلی ڈوز ملی تھی۔

اسی دوران روحان وینکٹ رام کرشن جو میرے کولیگ ہیں نے مجھے لکھا کہ روزانہ کی بنیاد پہ ویکسین لگانے کی شرح ہندوستان میں گر رہی ہے جبکہ کورونا کے کیسز کی شرح بلند تر ہورہی ہے۔ اس نے نئی ویکسین پالیسی مین پائے جانے والے ابہامات کا سراغ بھی لگایا۔ عارفہ جوھری نے کورونا کی دوسری لہر کے ملک بھر میں تباہ کن اثرات کو ڈاکومنٹ کیا۔وجیتا للوانی نے حکومتی مراسلوں تک رسائي حاصل کی جن سے پتا چلا کہ دلّی میں جب لاشوں کے انبار لگ رہے تھے تو مودی سنٹرل وزٹا پروجیکٹ پہ کام جاری رہا اور اسے لازمی سروس قرار دیا گيا۔

لیکن کوئی بھی مسئلہ آکسجین بحران سے زیادہ جلدی حل کا متقاضی تو نہ تھا

ارونابھ صاعقہ اور زیادہ گہرائی میں جاکر یہ بات معلوم کی کہ ہندوستان میں مائی آکسجین سے لیکر کرائیوجینک ٹینکرز ، سلنڈر اور ان کو لانے لیجانے کے لیے ضروری ٹرانسپورٹ اور ان کو ذخیرہ کرنے کی جگہیں تک سب کی قلت ہوگئی ہے۔ جنگی بنیادوں پہ ہسپتالوں میں آکسجین پلانٹ کی تنصیب سے اس بحران کو ختم کیا جاسکتا تھا۔ اگر ہندوستان نے دو ہزار کروڑ خرچے ہوتے تو یہ 1540 ن روزانہ کی آکسجین فراہمی کی صلاحیت حاصل کرلیتا اور وہ 10 لاکھ مریضوں کے لیے کافی ہوتی۔

جب میں یہ اسٹوری ایڈیٹ کررہی تھی تو ٹوئٹر پہ ایک خبر فلیش ہوئی کہ ہسپتال جہاں میرے انگل داخل تھے وہاں دوگھنٹے کی آکسجین رہ گئی ہے۔ میں بے حس و حرکت رہ گئی ۔خوش قسمتی سے آکسجین ہسپتال میں وقت پر پہنچ گئی۔

دوسرے اتنے خوش قسمت نہ تھے۔ 50 کے قریب لوگ دلی کے ہسپتالوں میں مرگئے جہاں آکسجین کی رسد نہ پہنچ سکی تھی۔

کم از کم دلّی مين ہسپتال کی انتظامیہ حکومت کو لکارنے میں آزاد تھی – پڑوس میں اتر پردیش میں ایسا ہی بحران پھوٹ چکا تھا اور وہآں کا چیف منسٹر تنقید کو خاموش کرنے کے لیے “آکسجین کمیابی کی افواہیں پھیلانے والوں کے خلاف پولیس ایکشن کی دھمکیاں دے رہا تھا۔ اس دوران ایک ایکٹوسٹ نے کہا کہ گاؤوں مں لوگ ایسے مرکر گررہے ہیں جیسے مردہ مکھیاں گررہی ہوں۔

گزشتہ سال میں نے جونپور ضلع مشرقی اتر پردیش سے رپورٹ کیا تھا جہاں کی آبادی 52 لاکھ ہے اور محض 17 بستر ایسے تھے جہاں وینٹی لیٹر دستیاب تھے۔ ایک سال بعد تعداد 28 ہوسکی تھی۔ جیسے جیوتی یادیو نے “دا پرنٹ” میں رپورٹ کیا تھا۔ ایک ڈاکٹر نے اسے بتایا تھا،” صورت حال دیکھو، یہ پھٹ پڑنے کو ہے۔”” ہر کسی فرد کا کورونا پازیٹو آرہا ہے ۔یہ گاؤوں سے آرہے ہیں”

دلّی میں، ایمبولینسوں کے سائرن تیز سے تیز تر ہوتے جاتے ہیں اور ٹوئٹر پہ امداد کی درخواستیں بڑھتی جاتی ہیں۔ دلّی میں ہسپتالوں میں بستر ہی نایاب نہیں بلکہ کورونا ٹیسٹ اور آکسجین سلنڈروں کا حال بھی یہی ہے۔

ایک ہیلتھ جرنلسٹس گروپ جس کا میں بھی حصّہ ہوں ، جہاں رپورٹرز نوٹس، ماہرین کے رابطہ نمبر، لطیفے اور ٹیسٹنگ لیب، فارمسسٹ اور آکسجین سپلائرز کے رابطہ نمبروں کا تبادلہ ہوتا ہے۔

.
ظاہر ہے بہت سارے ہندوستانیوں کو ایسی آن لائن سروسز تک رسائی نہیں ہے۔

ایک صبح میں فون کال کے سبب اٹھ گئی – ایک بلڈنگ ٹھیکے دار جسے میں جانتی تھی جو پڑوس میں آٹو رکشا چلاتا تھا- اس کا آکسجین لیول تیزی سے گر رہا تھا۔

کچھ دن پہلے اس کا ٹائیفایڈ ٹیسٹپازیٹو آیا تھا۔ ایک ڈاکٹر نے اسے ٹائیفائیڈ کی دوائیں لکھ کر دیں اور ساتھ کورونا کا ٹیسٹ کرانے کو کہا۔ لیکن کورونا کا ٹیسٹ دستیاب نہ تھا۔ دوسرے بہت سے مریضوں کی طرح اس کی حالت بھی اچانک سے ابتر ہوتی چلی گئی ۔

میں فون کل کرنا، مسیج بھیجنا شروع کیے، ٹوئٹرپہ اپیل داغی- کویڈ سٹیزن ایکشن گروپ جو رضاکاروں کا ایک چھوٹے سے گروپ پہ مشتمل ہے نے جواب دیا۔انھوں نے صبح تک سات مریضوں کے لیے بیڈ کا انتظام کرلیا۔ صرف اس وجہ سے کہ پرانے مریض جو ان بیڈز پہ تھے مرچکے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ایک اور کے لیے بھی وہ تلاش جاری رکھیں گے۔

لیکن اس سے پہلے کہ بستر مل پاتا کنٹریکٹر انتقال کرگیا۔

میں پندرہ دن پہلے تو اسے ملی تھی اور وہ واپس بہار اپنے گھر جانے کی تیاری کر رہا تھا۔ لوگوں کے گھروں کو بناکر اس نے اپنے خاندان کے لیے ایک گھر بنانے کا انتظام کرلیا تھا- اس سے پہلے وہ اپنےے گھر پہنچتا کورونا نے اسے آلیا تھا۔

وائرس تو ہر جگہ تھا۔ میری گھریلو نوکرانی ک شوہر بھی چند دن پہلے کورونا میں مبتلا ہوا اور اس نے ٹیسٹ کی سہولت نایاب ہونے سے چند دن پہلے ٹیٹس کروایا جو پازیٹو آگیا۔ اب سارا خاندان بشمول اس کی تین بیٹاں بخار ميں مبتلا ہیں ۔ وہ ایک کمرے والے گھر میں رہتے ہیں اور ان کے پاس آئسولیٹ ہونے کی جگہ بھی نہیں ہے۔ پریشان کن بات یہ ہے کہ اس کے پھیپڑے تو پہلے ہی ٹی بی کا شکار ہیں جو ایسی بیماری ہے جس کا نشانہ سب سے زیادہ ہندوستان کے غریب ہی ہوتے ہیں اور یہ بیماری انھیں کورونا کا آسان شکار بناتی ہے۔ میں نے ان کے گھر کے باہر آکسی میٹر لٹکادیا اور کہا کہ آکسجین لیول چیک کرتے رہیں اور فون پہ بتاتے رہیں۔ پریشان مت ہوں ۔

پچھلے سال دلّی سرکار نے دعوا کیا تھا کہ وہ گھروں پہ صحت یاب ہونے والے مریضوں کی مانیٹرنگ کررہی ہے اور انھیں آکسی میٹر بھی فراہم کررہی ہے۔ اس سال سسٹم ہی ڈھے گیا ہے۔ کوئی ہیلپ لائن کام نہیں کررہی ،کوئی گھریلو مانیٹرنآگ نہیں ، کوئی ہسپتال منیجمنٹ نہیں اور کوئی تین رکنی نظام نہیں ۔ مریضوں کے خاندان بس گرتے پڑتے ایک کے بعد دوسرے ہسپتال میں جگہ تلاش کرنے کو چھوڑ دیے گئے ہیں اور اس پروسس میں وائرس اور تیزی سے پھیلتا چلا جائے۔

جس شام میں گھر واپس پہنچی تو میرے کزن کی مجھے کال آئی: میری آنٹ کا آکسجین لیول گر رہا تھا اور ان کے خون کے ٹیسٹ سے انتہائ؛ بلند انفلیمٹری مارکرز کا پتا چلا تھا۔ میں نے خود کو بالکل ہی بے بس محسوس کیا۔ میں نے ایک ڈاکٹر کو کال کی جس نے ان کو ڈیکسا میتھاسین شروع کرنے کو کہا تھا جو کہ عالمی ادارہ صحت نے شدید کویڈ کے مریضون کے لیے تجویز کیا تھا ، جب تک ہم ہسپتال میں بیڈ نہ تلاش کرلیں۔

میرے کژزن اس رات ساؤتھ دہلی کے گرد پھرتے رہے لیکن وہ ڈیکسامیتھاسون یا اس کا متبادل معیاری یا سستی دوائیاں جو عام حالات میں ہر کیمسٹ کے پاس دستیاب ہوتی ہیں نہ پاسکے۔

اگلی صوبہ میں نے بھی کوشش جاری رکھی لیکن کچھ نہ ہوا- جھنجلاہٹ ميں، میں نے ایک ٹوئٹ کیا ، اس مرتبہ مں نے مدد نہیں مانگی تھی بس اپنے غصّے اور فرسٹریشن کو دور کیا تھا۔ پہلیبار ردعملجو آئے وہ ٹھوس لیڈ والے تھے۔

بعد از دوپہر میں نے سٹرائیڈ پالیا۔ لیکن میری آنٹی کو آکسجین سپورٹ کی بھی ضرورت تھی ۔ فون کالز آکسجین سپلائرز کو کی گغیں تو ایک اور پہلو سامنے آکیا۔ ” کیا آپ کے پاس سلنڈر ہے؟ آپ کو میں ری فل کرکے دے سکتا ہوں۔” اس نے جواب دیا۔ خود اپنا سلنڈر حاصل کرنا ٹاؤن میں ایک نئی بات تھی۔

ایک بار پھر خوش قسمتی سے میرے کزن کو ایک دوست مل گیا جس سے ایک سلنڈر مستعار مل گیا لیکن اس میں ماسک/کنولا نہیں آکسجین ڈلیور کرنے کے لیے ۔ فارمسیوں کے ایک بار پھر چکروں کا دور شروع ہوا لیکن بنا کچھ نہیں۔ ہم نے آن لائن تلاش کیا۔ ایمزون کےپاس خالی نان- بریتھر ماسکس تھے لیکن ڈیلیوری میں چند دن لگنے تھے۔

کويڈ سٹیزن ایکشن گروپ کے رضا کار ایک بار پھر بچاؤ کے لیے ائے۔ شام کو انہوں نےایک ہمارے لیے تلاش کرلیا۔

اس دوران میری ماں نے فون کیا اور بتایا ایک دوسری آنٹ اور انکل بھی بخار سے نڈھال ہیں۔ کورونا کے ٹیسٹوں کو تو بھول ہی جائیں۔ہم تو ان کے ان فلیمٹری مارکر بلڈ ٹسٹ بک کرانے کے بھی قابل نہیں ہیں۔

ہندوستان میں ہیلتھ کئی سسٹم ہمیشہ سے عدم مساوات پہ مبنی رہا ہے۔

میرے خاندان کے پاس پیسہ ہے، مراعات یافتہ ہے اور ایسے نیٹ ورک جو عام طور اس ملک میں ہیلتھ کیئر کو خریدنے کے لیے کافی ہیں۔

کورونا کی دوسری بڑی لہر نے ہمارے سارے حفاظتی حصّار توڑ ڈالے ہیں ۔ یہاں تک کہ ہمارے جیسے لوگوں کو بھی سخت جدوجہد کرنا پڑرہی ہے۔ جو ہماری مدد کو آرہے ہیں وہ ہمارے روابط نہیں ہیں بلکہ ایک برادری ہونے کا احساس چاہے یہ ٹوئٹر پہ آن لائن کمیونٹی ہو یا رضاکار گروہ یا روایتی جگہیں جیسے گورودوارے اوپن ائر آکسجین لنگر خانے پیش کررہے ہیں۔

لیکن اگر آپ یہ سوچتے ہیں کہ یہ بحران مراعات یافتہ طبقے کو ہندوستان کے انتہائی غیر مساوی نظام صحت کو ازسر نو تشکیل دینے پہ سوچ بچار کرنے پہ مجبور کردییں گے تو آپ غلطی پہ ہیں۔

پہلے ہی جو آکسجین کانسٹریٹر خریدنا برداشت کرسکتے ہیں اس کو باہر سے امپورٹ کررہے ہیں۔ چند ہفتوں میں امیر تو اس صورت حال سے نکلنے کے لیے گھروں میں آئی سی یوز بنالیں گے جبکہ باقی کے ہندوستانی سسٹم کے رحم و کرم پہ ہوں گے۔

چند ایک ہوں گے جو ان فالٹ لائنوں بارے تحقیق کریں گے یا تنقد کریں گے جو ہمیں اس نہج پہ لیکر آئی ہیں۔ کیا ہمارا جو ہیلتھ کیئر ماڈل اس کا ذمہ دار ہے جو ہیلتھ انشورنس پھیلانے پہ زور دیتا ہے لیکن اصل صحت کی کیپسٹی کو بڑھانے پہ زور نہیں دیتا۔ چاہے ہسپتال ہوں یا آکسجین پلانٹس ہوں یا ڈاکٹرز ہوں یا نرسیں ہوں یا ہماری سیاست ہو جہاں آکسجین بحران ایک جانبدارانہ لڑائی میں بدل چکا ہے ، یہ پروپیگنڈا اور جھوٹی معلومات کی شدت سے بھرا ہوا ہے۔ اس کا زیادہ حصّے کا مقصد بس اس افسانے کو باقی رکھنا ہے کہ پرائم منسٹر پرواہ کرتا ہے۔

یہ آرٹیکل انگریزی میں ویب سائٹ سکرول ان پہ شایع ہوا- سپریا شرما ہندوستان کی معروف نیوز پورٹل “سکرول ان” کے اسٹاف میں ہیں اور وہ این ڈی ٹی وی اور ٹائمز آف انڈیا کے لیے بھی کام کرچکی ہیں- اردو ترجمہ عامر حسینی نے کیا جو پاکستان کے صحافی، ادیب مترجم اور پانچ کتابوں کے مصنف ہیں


شیئر کریں: