ضربت اميرالمؤمنين علی ابن ابی طالب عليه السلام

شیئر کریں:

ماہِ رمضان المبارک کی انیسویں شب کو لوگ مسجد ہی میں آرام کررہے تھے۔ یہاں تک کہ صبح نمودار ہوئی
اور اپنی بیٹی ام کلثوم کے گھر سے اميرالمؤمنين حضرت علی عليه السلام مسجد میں تشریف لائے۔

امام علی عليه السلام نے جیسے ہی اَلصَّلَاۀ اَلصَّلَاهٔ کی آواز دی کچھ دیر بعد یکایک تلوار چمکی۔ پھر اميرالمؤمنين
کی آواز گونجی “فُزْتُ‏ وَ رَبِّ‏ الْكَعْبَةِ” یعنی ربِ کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا۔

پھر آواز دی یہ مرد بھاگنے نہ پائے۔ زہر آلود تلوار سے ضربت لگانے والے لعین ابن ملجم کو گرفتار کر لیا جاتا ہے۔
اس دوران نمازی امام کے پاس جمع ہوجاتے ہیں۔ امام کے سر پر کاری ضرب لگی ہوئی ہے۔ مولا محراب کی خاک
اٹھاکے سر پر ڈالتے ہیں۔ زخمی حالت میں قرآن پاک کی تلاوت کرتے رہے۔ مولائے کائنات 21 رمضان المبارک کو
زخم کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوئے۔ اس طرح خانہ کعبہ سے شروع ہونے والا زندگی کا سفر مسجد کوفہ میں
مکمل ہوا۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی پوری زندگی دین الہی کی ترویج میں گزرا۔ جنگوں میں فتح و کامرانی مولائے
کائناب کا مقدر ٹھرتی۔ منصف اور امین میں کوئی ثانی نہیں۔

رمضان کی انیسویں شب یہ شبِ قدر کی راتوں میں سے پہلی رات ہے۔
شبِ قدر ایسی عظيم رات ہے کہ عام راتیں اس کی فضیلت کو نہیں پہنچ سکتیں اس رات کا عمل ہزار مہینوں
کے عمل سے بہتر ہے۔
اسی رات تقدیر بنتی ہے اور افضل ترین ملائکہ اسی رات فرشتوں کے ہمراہ زمین پر نازل ہوتے ہیں۔


شیئر کریں: