افغانستان سے امریکی اور نیٹو فوجوں کی 20 سال بعد واپسی کا آغاز

شیئر کریں:

افغانستان سے طویل انتظار کے بعد امریکا اور نیٹو فوج کی واپسی شروع ہو گئی ہے۔ فروری 2020 میں طالبان
اور امریکا کے درمیان دوحہ میں غیرملکی فوجیوں کی واپسی کا معاہدہ ہوا تھا۔
معاہدہ کے مطابق یکم مئی 2021 کو تمام غیرملکی فوجوں کو افغانستان کی سرزمین سے نکل جانا تھا لیکن
یکم مئی کو آغاز ہوا ہے اور آخری فوجی 9 الیون کی بیسویں برسی والے دن نکلے گا۔

طالبان نے امریکا کی وعدہ خلافی پر اتحادی فوج پر حملوں کی دھمکی دے دی

یکم مئی کو دارلحکومت کابل کے قریب بگرام ائیربیس پر امریکی فوج کی سرگرمیاں معمول سے زیادہ دیکھائی
دیں۔ یہاں سے پہلے مرحلے میں فوجیوں اور کچھ سامان کو امریکا بھیجا گیا۔ اس موقع پر سیکیورٹی کے
غیرمعمولی انتظامات کیے گئے تھے۔

بعض افراد خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ امریکی فوجیوں کے نکل جانے یا اس سے پہلے طالبان افغانستان پر اپنی
حکومت قائم کرنے کے لیے طاقت کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ لیکن امریکا افغانستان میں مزید قیام کسی طور
نہیں کر سکتا۔
امریکی فوج کی واپسی سے پہلے ہی افغانستان میں دھماکے اور ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔
افغان عوام کو خدشات ہیں کہ ان واقعات میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔


شیئر کریں: