پاکستان مں مزدور تحریک ، لیفٹ اور پاکستان پیپلزپارٹی

شیئر کریں:

تحریر: عامر حسینی
آج یکم مئی کو دنیا بھر میں “یوم مزدور” منایا جارہا ہے۔ یہ شگاگو کے ان محنت کشوں کی شہادت کی مناسبت سے منایا جاتا ہے جو کام کے اوقات کار کو آٹھ گھنٹے کرنے کی مانگ کے جلوس پہ ہوئی فائرنگ سے شہید ہوئے تھے۔ پاکستان میں بھی محنت کش تنظمیں ہر سال یوم مئی کو “یوم مزدور” کے طور پہ مناتی ہیں۔

میں ان دنوں “انسٹیوٹ آف ہسٹاریکل اینڈ سوشل ریسرچ” کراچی کی طرف سے شایع ہونے والی کتاب “راہ گزر تو دیکھو” پڑھ رہا ہوں۔ یہ کتاب پاکستان کے چند ایک باحیات بڑے مزدور رہنماؤں میں شمار ہونے والے کرامت علی کے انٹرویوز پہ مشتمل ہے جس کا ایک حصّہ پاکستان میں محنت کشوں کی جدوجہد کے عنوان سے ہے۔ یہ اس اعتبار سے نہایت مفید کتاب ہے کہ ایک تو اس سے پاکستان میں محنت کش طبقے کی جدوجہد کے ابتدائی ادوار کا احوال معلوم ہوتا ہے اور ساتھ ساتھ یہ بھی پتا چلتا ہے کہ پاکستان کے بڑے صنعتی مراکز میں ٹریڈ یونین پہ ززال کا سبب کیا تھا۔

” پاکستان بننے کے بعد شروع میں انڈسٹری اتنی نہں تھی تو اس زمانے میں ٹریڈ یونین اور مزدور جدوجہد پبلک سیکٹر میں بنے اداروں (ریلوے، پوسٹ اینڈ ٹیلی گراف، پورٹس، ٹرانس پورٹ اور کچھ حد تک بینکنگ) میں تھی۔ کراچی، ممبئی، مدراس کی پورٹس یونینز بہت مضبوط تھیں۔ ائرویز جب سے بنی تب سے وہاں یونین تھی۔ پبلک سیکٹر کے کسی صعنتی یا سروسز شعبے میں ہڑتال ہوتی تو وہہ اسی شعبے کی ہوا کرتی تھی اس میں دوسرے شعبوں کے محنت کش شامل نہیں ہوتے تھے اور یہ حالت تب بدلی جب ٹیکسٹائل سیکٹرز قائم ہوا اور ٹیکسٹائل انڈسٹری نے ترقی کی تو اس موقعہ پہ ٹیکسٹائل مزدمروں کی جدوجہد اور ہڑتالوں کا پورے شہر اور پورے ملک پہ اثر ہوا کرتا تھا۔ پاکستان میں پہلے ولیکا ٹیکسٹائل مل کراچی میں لگی یہ 1948ء میں اس کا ابھ اگھاٹن جناح صاحب نے کیا۔ پھر پہلے پہل صنعتیں کراچی کے سائٹ ایریا، لانڈھی اور کورنگی کے صعنتی علاقوں میں لگیں اس کے بعد کوٹری، حیدرآباد میں اور پنجاب میں فیصل آباد،لاہور، شیخوپورا، ملتان اور راولپنڈی میں صنعتیں لگیں۔ لیکن اصل صنعتی مرکز کراچی ہی تھا۔ کراچی میں لگنے والی صنعتوں میں کام کرنے کے لیے سب سے زیادہ محنت کش پنجاب، کے پی کے سے آنا شروع ہوئے۔ ایک ہی علاقے سے آئے ہوئے لوگ ایک ہی ایریا میں رہنا پسند کرتے۔ اور ان کے رہنے کی جگہ ہی ان کے اجتماعی ایکشن کے فیصلوں کو متعین کرتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ماضی میں جتنی بھی مزدور تحریکیں چلیں ان کے پیچھے مرکزی کردار یہی بستیاں تھیں۔۔۔۔۔۔ کراچی کے جو دونوں بڑے انڈسٹریل اسٹیٹس ہیں یہاں جو جو جدوجہد اور ٹریڈ یونین سرگرمیاں تھیں ان میں پختون مزدوروں کا بڑا ہاتھ تھا۔۔۔۔۔۔۔ کرامت صاحب کا خیال ہے کہ جب کوئی معاشرہ لسانی اعتبار سے تقسیم تو سلی خصوصیات بھی اپنا کردار ادا کرنے لگتی ہے۔۔۔۔۔۔ کرامت صاحب کا خیال ہے کہ 1962ء سے 1974ء تک کراچی میں مزدور تحریک میں نسلیت کا طبقاتی شعور پر حاوی ہورہا تھا۔ مستقل طور پہ غالب تو نسلیت ہی ہے اور طبقاتی شعور تو سماجی طور پہ متحرک ہونے سے آتا ہے اور اپ کی تنہائی اس کو تحلیل کرڈالتی ہے۔ نسلیت پرستی نے کراچی میں مزدور تحریک کو بہت سخت نقصان پہنچایا- ایک زمانہ تھا جب ہم نے نیپ پہ پابندی لگائی تھی کہ وہ اپنے دفاتر مزدوروں کے علاقوں میں نہیں کھولیں گے اور پھر حالات بدلے تو آج اے این پی کے زیادہ تر یونٹ ہیں ان مزدور علاقوں میں جہاں پشتونون کی اکثریت ہے۔ طبقاتی شعور اور محنت کشوں کی باہمی یک جہتی کی سب سے بڑی دشمن یہی نسلیت ثابت ہوئی۔”

“کراچی میں پہلی مزدور تحریک یکم مارچ 1963ء کو چلی اور ان تحریکوں کے نتیجے میں 1965ء میں سوشل سیکورٹی آرڈیننس آیا۔ اور سوشل سیکورٹی قوانین کا دائرہ کار سب صنعتی مزدوروں تک پہنچا اور پھر 1968ء میں ویسٹ پاکستان ایمپلائمنٹ سٹینڈنگ آرڈیننس آیا۔ یونین سازی کا پرانا برطانوی قانون کالعدم قرار پایا اور اس کی جگہ انڈسٹریل آرڈیننس آگیا۔ 1963ء سے جو مزدور بستیوں سے محنت کش طبقات کی تحریک اٹھی اس نے سرکاری تنظیم آل پاکستان لیبر فیڈریشن کا خاتمہ کردیا۔”

“دوسری بڑی تحریک 1972ء کی مزدور تحریک تھی جس کا سب سے بڑا مرکز پھر کراچی تھا اور اس تحریک کی لیڈرشپ ماضی کی تحریکوں کی لیڈر شپ سے کوالٹی کے اعتبارسے مختلف تھی۔ اس میں پڑھا لکھا عنصر زیادہ تھا، سوشلسٹ آئیڈیاز اور سوشلسٹ تنظیموں سے روابط تھے- پہلی بار ٹریڈ یونینون میں باہر سے فل ٹائمر آئے تھے اور ان میں سے کئی ایک وہ تھے جن کے بطور طالب علم مزدور یونینوں اور مزدور بستیوں سے تعلق بنے تھے۔ ان ٹریڈ یونینوں میں ایک بہت بڑی کمزوری یہ تھی کہ جن چیزوں کو باقاعدہ ادارہ جاتی ہونا چاہئیے تھا وہ نہیں تھا جیسے باقاعدہ اسٹرائيک فنڈ، باقاعدہ ليگل ایڈ فنڈ پھر تعلیم پہ کوئی توجہ نہیں تھی۔”

“ٹریڈ یونینوں میں جو لوگ سیاسی شعور کے ساتھ آئے وہ اچھی بارگیننگ نہیں کرپاتے تھے۔”

“ایوب خان کے پہلے پانچ سالوں میں جو ٹریڈ یونین پہ پابندی لگی، اس نے جو برٹش دور کا انڈسٹریل آرڈیننس منسوخ کیا اور کارخوں میں کمیٹیاں بنادیں اس سے لبر تحریک کو بہت زیادہ نقصان پہنچا۔ ایوب خان نے ٹریڈ یونین ایکٹ 1927ء اور انڈسٹریل ڈسپییوٹ ایکٹ 1947ء دونوں ختم کردیے(انڈیا میں اب بھی یہی چل رہے ہیں) اس سے ملک گير سطح پہ یونین سازی اور اور ملکی سطح پہ ممبر شپ ہوتی تھی یہ قوانین ختم ہوئے تو یہ اسکوپ ختم ہوگیا- نئے سرے سے قانون بنا تو ملک گیر سطح پہ ایسی صنعت کی یونین بن سکتی تھی جس کا مالک ایک ہو اور اس کے سوا نہیں بنے گی تو اس نے قومی سطح کی ٹریڈ یونین تنظیم اور اس کی قومی سطح پہ رکنیت سازی بھی ممکن نہ رہی۔”

“پاکستان کے مغربی حصّے میں جتنی بھی مزدور جدوجہد اور تحریکیں ابھریں وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے تھیں لوکل اور مقامی کیونکہ ایک تو پاکستان کا کل پانچ سے چھے فیصد حصّہ ہی صنعتی تھا باقی حصّے پہ جاگیردار، قبیل داری سمیت ماقبل سرمایہ داری رشتوں میں جکڑا ہوا تھا۔ اس لیے مغربی پاکستان کی مزدور تحریک کے مشرقی پاکستان کی مزدور تحریک سے بہت ہی کمزور رشتسے تھے۔ چاہے 1963ء سے 65ء تک کی کراچی کی تحریکیں ہوں یا پھر 1972ء میں اٹھنے والی تحریک ہو۔ ہم تو مغربی پاکستان میں ایک جگہ سے دوسری جگہ شاذ و نادر جاتے تھے جیسے کراچی سے لاہور اور فیصل آباد، پشاور اور بلوچستان کے علاقوں میں ہم ایسے فویکل انٹریکشن نہیں کرپائے جس سے مزدور جدوجہد حقیقی معنوں قومی سطح پہ پھیلتی”

“68ء میں ایوب خان کے خلاف جو تحریک منظم ہوئی اس میں صنعتی مزدروں کی بستیوں میں رہنے والے مزدروں اور ملک گیر اور صوبائی سطح کی جو لیڈر شپ تھی ان کے درمیان بہت بڑا فرق تھا۔ لیفٹ اور کمیونسٹ گروپوں کے زیر اثر مغربی پاکستان کے بڑے بڑے ٹریڈ یونین لیڈر اس پوری تحریک کو ہی امریکی سی آئی اےکی پشت پناہی میں چلنے والی تحریک قرار دے رہے تھے۔ مغربی پاکستان کے چین نواز لیفٹ اور اس کے زیر اثر جو ممتاز مزدور لیڈر تھے وہ ایوب خان کے خلاف تحریک میں بالکل ڈھیلے تھے اور وہ فوج کی حمایت کررہے تھے۔ انھوں نے 65ء کی جنگ کی حمایت بھی کی تھی اور بعد اژزاں معاہدہ تاشقند کی بھی کی- اسثوڈنٹس میں ماؤ سوچ کا غالب تھی لیبر میں جو لوگ متحرک تھے جنھوں نے بہت عسکری انداز میں جدوجہد کی تھی چاہے وہ کراچی میں ہوں یا لاہور میں یا پنڈی میں اتفاق سے ان میں زیادہ ترتعداد چین نواز سوچ کی حامل تھی۔ اس لیے طلباء اور مزدوروں کے حلقوں میں “جمہوریت کا سوال” تو سرے سے زیر بحث تھا ہی نہیں۔ تھوڑے سے ماسکو نواز تھے ان میں نیشنل ڈیموکریسی /قومی جمہوریت کا جو تھیسس تھا وہ اس پہ کچھ بات کرتے تھے لیکن ان کے جو لوگ ٹریڈ یونین میں تھے ان میں اس حوالے سے کوئی بحث و مباحثہ نہ تھا کہ اس مرحلے پہ کیا کرنے کی ضرورت ہے۔”

کرامت علی کا خیال یہ بھی ہے کہ جب ایوب خان چلا گیا اور اس کی جگہ دوسرا آمر آگیا تو اس صورت حال پہ بھی مزدور تحریک کے جو نظریاتی رہنما بنتےے تھے انھوں نے دوسرے آمر کو قبول کرلیا۔ اس کے خلاف کوئی مزاحمت نہیں کی۔ ستر کے انتخابات کے موقعہ پہ لیبر موومنٹ اور اسٹوڈنٹس موومنٹ پہ غالب ماؤ نظریات اور ماسکو نواز لیفٹ کا نیپ اور پی پی پی سے ہٹ کر الیکشن میں نیم دلی کے ساتھ جانا اور ماؤاسٹوں کا الیکشن بائیکاٹ کرنا ایک بڑی غلطی تھی اور اس کی وجہ بھی کرامت کے نزدیک لیفٹ اور لیبر موومنٹ کے اندر “جمہوریت کے سوال” پہ کنفیوژن کا موجود ہونا تھا وگرنہ مغربی پاکستان سے لیفٹ اور لیبر موومنٹ کے تجربہ کار اور منجھے ہوئے کم از کم 40 سے 45 ممبران قومی اسمبلی موجود ہوتے اور یہ 1973ء کے آئين کو مزید سیکولر سمت میں لیجا سکتے تھے اور بھٹو کو بھی مذہب شدت پسندوں سے بلیک میل ہونے سے بچا سکتے تھے۔ ایسے ہی اگر ماسکو نواز دوست جیسے ڈاکٹر اعزاز نذیر تھے یہ نیپ سے الیکشن لڑتے تو منتخب ہونے کے مواقع زیادہ ہوتے۔

کرامت علی جو 1970ء کے بعد کی مزدور تحریک کے سرکردہ رہنما بھی تھے کا کہنا ہے کہ لیبر موومنٹ اور لیفٹ کی اکثریت نے جیسے 70ء میں جمہوریت کے سوال کو نظر انداز کیا اور پھر 70ء کے بعد جو مشرقی پاکستان کا بحران سامنے آیا اس پہ اس نے مشرقی پاکستان کے عوام کا ساتھ دینے کے لیے سوائے اکا دکا جگہ مظاہرے کرنے یا بیانات دینے کے کوئی بڑی تحریک نہ چلائی اور اس سے فوجی جنتا کو من مرضی کرنے کا موقعہ ملا (اگر لیفٹ کے 40 سے 50 ممبرکن قومی اسمبلی مغربی پاکستان سے منتخب ہوئے ہوتے اور جمہوریت کے سوال پہ کنفیوژن نہ پایا جاتا تو یہ اراکین پی پی پی اور نیپ کو مجبور کرتے کہ وہ یحیی خان رژیم کو من مانی نہ کرنے دیتا اور عوامی لیگ، نیپ اور پی پی پی مل کر دونوں حصوں کے بارے میں ایسے فیصلے کرنے میں کامیاب ہوجاتے جو نہ ہوسکے اور ملک ٹوٹ گیا۔

کرامت صاحب کا یہ بھی کہنا ہے کہ جس وقت ذوالفقار علی بھٹو کے پاس اقتدار آگیا اور انھوں نے نیشنلائزیشن کی اور انھوں نے 1972ء میں جو لیبر پالیسی اپنائی لیبر موومنٹ اور لیفٹ کی لیڈرشپ نے اس تناظر میں پیدا ہونے والے سوالات پہ سنجیدگی سے غور نہ کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ اس وقت ایک تو سب سے بڑی تبدیلی یہ آئی تھی کہ ایک طرف بھٹو صاحب نے نیشنلائزیشن کرکے صعنتی اور سروسز سیکٹر کا بڑا حصّہ قومیالیا دوسرا انھوں نے کرنسی کی قیمت 28 فیصد کم کردی اور جب ان کی ٹیم پیرس کلب گئی تو ان سے بھٹو حکومت نے جتنے قرضے مانگے انھوں نے بخوشی دیے بلکہ 20 سے 30 فیصد زیادہ دے ڈالے تو یہ جو نیشنلائزیشن تھی بھٹو کی لیفٹ نے اس کی افادیت اور نقصان پہ ٹھنڈے دماغ سے غور و فکر ہی نہ کیا۔ فروری 1972ء مين بھٹو صاحب کی لیبر پالیسی آئی اور لیفٹ اور لیبر موومنٹ کی لیڈرشپ نے اسے یہ دیکھے بغیر جذباتی انداز میں مسترد کردیا یہ لیبر پالیسی تو 1969ء میں نور خان لیبر پالیسی پہ ہی کھڑی کی گئی تھی جس کی اس وقت لیفٹ اور لیبر موومنٹ کی قیادت نے تعریف کی تھی تو اب کیا مصیبت پڑگئی تھی؟ کرامت حسین کے الفاظ ہیں:

“بھٹو صاحب والی جو لیبرپالیسی تھی وہ ایک طرح سے 1969ء کی نور خان لیبر پالیسی پہ تعمیر ہورہی تھی۔ یہ ایک طرح کا ارتقا تھا وہ پیچھے تو نہیں جارہی تھی۔ جب ہم نے 1969ء والی پالیسی کو اتنا خوش آمدید کہا تھا سب لوگوں نے جو بھی اس وقت کی ٹریڈ یونین لیڈرشپ تھی۔ اگر آپ اخبارات اٹھاکر دیکھیں تو اس کو بہت زیادہ انقلابی پالیسی قرار دیا گیا تھا۔ اگر اس کا ایوب خان کی پالیسی سے موازانہ کریں تو اس سے تو یقینا اس میں بہت بہتری آئی تھی۔ وہ بھی ظاہر ہے کہ کوئی ان کی نیک نیتی اور خلوص کا اظہار نہیں تھا بلکہ ورکرز کی جدوجہد کے نتیجے میں ان کو کچھ اقدامات کرنے پڑے تھے۔تو بھٹو والی پالیسی کا کوئی سنجیدہ تجزیہ نہیں کیا گیا۔۔۔۔۔۔۔ ہم سوچتے تھے بھٹو صاحب یونین کمزور کرنا چہتے ہیں ۔ باقی پالیسی کے اندر کوئی قابل اعتراض چیز نہی‍ں تھی۔ اگر آپ غور سے اسے دیکھتے تو اس میں کافی حد تک، جس کو ہم “انڈسٹریل ڈیموکریسی”/صنعتی جمہوریت” کہتے ہیں کی بنیادی شرائط تھیں۔ جس میں کارخانے کی سطح پہ جوائنٹ کمیٹی بنانے کا اصول بھی شامل تھا۔ منیجمنٹ کی سطح میں کچھ ورکرز کو ایک رسائی دی گئی تھیکہ منجیمنٹ کمیٹی کے اندر مزدوروں کے نمائندے ہزں اور ان کو ورکرز کی نمائندہ یونین ہی نامزد کرے گی۔ تو کارخانےکی سطح پہ جو منیجمنٹ ہوتی اس میں آپ کو حصّہ ملنا شروع ہوجاتا بعد میں مزید جدوجہد کرکے آپ اسے وسیع کراسکتے تھے۔ کمپنی کے اکاؤنٹس آڈٹ کا حق اور منافع میں ڈھائی فیصد طے ہوا تھا 1969ء میں اور بھٹو صاحب کی لیبر پالیسی نے اسے 4 فیصد کردیا تھا۔ بھٹو کی لیبر پالیسی سے ورکرز کو یہ حق حاصل تھا کہ کمپنی اکاؤنٹس آڈٹ بارے جو بیلنس شیٹ دے وہ اس کو جیلنچ کرکے ری آڈٹ کراسکتے تھے اور اس کا خرچہ بھی کمپنی کو برداشت کرنا تھا۔ آپ اس سے پہلے کمپنی کی بیلنس شیٹ کو چیلنج کر ہی نہیں سکتے تھے۔ گویا آپ کمپنی کے اندرونی معاملات، ٹیکنکل معاملات ان میں منجیمنٹ کے ساتھ حصّہ دار بن گئے تھے۔ اس کو آگڑ سنجیدگی سے لیا جاتا تو یہ اخیار آپ کو انڈسٹریل ڈیموکریسی کی طرف لیکر جاتا۔ لیکن چونکہ ہمارے اپنی ٹریڈ یونین اور لیفٹ میں ایک تو ڈیموکریسی کا تصور نہیں تھا تو انڈسٹریل ڈیموکریسی کی طرف تو ہماری سوچ تھی ہی نہیں۔”

کرامت صاحب کا خیال یہ ہے کہ بھٹو صاحب کی نیشنلائزیشن میں جو ٹیکسٹائل سیکٹر کو قومیایا نہیں گیا اس سے اس سیکٹر کے اندر جو محنت کشوں کی بہت بڑی تعداد تھی ان کی تحریک اور قومیائے گئے سیکٹر میں جو مزدور اشرافیہ کے زیر اثر جو ٹریڈ یونین ازم آیا ان میں بے گانگی پیدا ہوگئی اور اس سے بڑے وسیع پیمانے پہ مزدور تحریک کو نقصان پہنچا۔ کرامت صاحب 1972ء کی کراچی اور ملک کے دیگر کچھ حصوں میں جو صعنتی علاقوں میں جو مزدور تحریک تھی اس کے رویوں اور اقدامات پہ روشنی ڈالتے ہوئے یہ بتاتے ہیں کہ وہ بہت چھوٹے چھوٹے ایشوز کے گرد کھڑی تھی اور اس میں ٹریڈ یونین لیڈرشپ کی بے جا جذباتیت اور انارکسٹ اور خیالی انقلابیت اور خود بھٹو صاحب کی اپنی انا اور ان کے گرد گھیرا ڈالے کھڑی مفاد پرست قوتوں نے اس تحریک کو ریاست سے تصادم کی طرف دھکیل دیا جس سے محنت کشوں کی ہلاکتیں بھی ہوئیں اور مزدور تحریک بھٹو کی لیبر پالیسی کے تحت جن اصلاحات سے چیزوں کو ژزید بہتر بناسکتی تھی وہ نہ بناسکی۔ اور یوں بھٹو حکومت اور لیبر تحریک ایک نہ ختم ہونے والے تصادم میں پڑگئے۔

کرامت صاحب بھٹو حکومت کے آخری سال میں جہاں ایک طرف پاکستان قومی اتحاد کی تشکیل کا جائزہ لیتے ہیں وہیں بھٹومخالف صنعت کاروں، سرمایہ داروں مالکان بنایا آل پاکستان لیبر الائنس کی تشکیل کا بھی بتاتے ہیں جس میں دائیں بازو کی لیر تنظیمیں ، مالکان کی قائم کردہ پاکٹس یونینز بھی شامل تھیں جن میں جماعت اسلامی کی ٹریڈ یونینز بھی شامل تھیں۔ کرامت صاحب اپنے ایک برطانوی صحافی دوست کا حوالہ دیتے ہیں جو ان سے راولپنڈی کے ایک لیبر یونین لیڈر بارے پوچھتا ہے اوروہ بتاتا ہے کہ بھٹو حکومت کے خلاف امریکی پیسہ اس یونین لیڈر کے ہاتھوں مزدروں میں تقسیم کیا گیا۔ پھر جو نیپ پہ پابندی لگی تو اس کے بعد این ڈی پی (نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی) بنائی گئی اس کے سربراہ سردار شیر باز مزاری تھےاور اس میں بیگم نسیم ولی خان بہت متحرک تھیں اور اسے جیل میں بند ولی خان کی اشیر باد حاصل تھی اس کی جو ڈائریکشن تھی وہ رائٹ ونگ بن گئی اور اس نے پی این اے میں شمولیت اختیار کرلی اور اس میں پختون عنصر زیادہ تھا۔ بلوچ نیشنلسٹ تین بڑے لیڈر مینگل، میر اور مری تینوں جیل میں تھے تو بلوچ نیشنلسٹ اور میر صاحب کے زیر اثر لیفٹ اس کا حصّہ نہ بنا۔ دیکھا جائے تو اے پی ایل کے زریعے مزدروں کے نام پہ اور پی این اے کے زریعے سیاسی کارکنوں کے نام پہ بھٹو کے خلاف رجعت پرست طاقتیں تو اکٹھی ہوئی ہی تھیں لیکن خود نیپ کا ایک بڑا دھڑا این ڈی پی کے پلیٹ فارم سے بھٹو کے خلاف دائیں سمت جھک گیا۔

اب سوال یہاں یہ جنم لیتا ہے کہ کراچی، فیصل آباد، راولپنڈی، لاہور اور ملتان میں جو لیفٹ کے زیر اثر لیبر موومنٹ تھی اور ٹریڈ یونینز تھیں ان کا کیا کردار تھا۔ کرامت صاحب کے بقول کل پاکستان سطح پہ بھٹو دور میں ٹریڈ یونین کی ممبر شپ 7 لاکھ تک جاپہنچی تھی اور یہ ماضی کی نسبت بہت بڑی تعداد تھی۔ لیکن ان ٹريڈ یونینوں کی لیڈرشپ کا المیہ یہ تھا کہ ایک تو یہ بھٹو حکومت سے نالاں تھے اور بھٹو کی لیبر پالیسی کی طرف ان کا جو نامعقول رویہ تھا اس نے بھٹو سے ان کے فاصلے بہت بڑھا دیے تھے اب یہ نہ تو بھٹو کے ساتھ گئے اور نہ ہی یہ پی این اے کے ساتھ گئے۔ یہاں پہ میرے ذہن میں پھر وہی سوال کھڑا ہوتا ہے کہ جب لیفٹ کے زیر اثر ٹریڈ یونین اور لیبر موومنٹ کو یہ صاف نظر آرہا تھا کہ مزدور محاذ اور سیاسی محاذ پہ بھٹو حکومت کے خلاف جرنیل، ملاں، اینٹی بھٹو جاگیردار اور سرمایہ دار اور ساتھ ساتھ امریکی سرگرم ہوگئے ہیں اور وہ ملک کو انتہائی رجعت پرست فوجی مارشل لا کی طرف دھکیلنے جارہے ہیں تو انھوں نے دائیں بازو کے اس متحد مرکز کے خلاف جوابی تحریک کیوں شروع نہ کی؟ کیا صرف بھٹو سے نفرت اور بغض کے سبب؟ جبکہ بقول کرامت صاحب میر غوث بخش بزنجو جیل میں بیٹھ کر بھی بھٹو صاحب کی تمام تر غلطیوں کے باوجود بھٹو صاحب اور پیپلزپارٹی سے مذاکرات اور رابطے کے حق میں تھے۔

کرامت صاحب کی طرف اس صورت حال میں جو جواب ہمیں سننے کو ملتا ہے وہ یہ ہے کہ کراچی سمیپت بڑے شہروں میں جو لیبر موومنٹ اور ٹریڈ یونینز لیفٹ کے زیر اثر تھیں وہ نہ تو بھٹو کے ساتھ گئیں اور نہ اے پی ایل کے ساتھ اس کے برعکس وہ چھوٹے چھوٹے ایشوز کے گرد متحرک رہیں اور کرامت ثابت خود مانتے تھے ان کے اس عمل کے بعد جو اے پی ایل یعنی دائیں بازو کی مزدرو تنظیموں کا اتحاد تھا اس کے ہاں جو ریل پیل ہوئی اس میں دوسری کوئی آواز تو سنائی دیتی نہیں تھی پھر بڑے شہروں میں مارشل لا لگا جو پورے ملک میں مارشل لاء پہ ختم ہوا اور ایک سیاہ ترین لمبی رات کا آغاز ہوگیا۔

جنرل ضیاء الحق کی آمریت کے 11 سال اور اس کے بعد ان کی باقیات کا راج جس میں کہیں کہیں وقفوں سے پی پی پی کو بمشکل چند سال حکومت کے ملے تو کرامت صاحب یہ مانتے ہیں کہ ضیاء الحق نے بھٹو کی نیشنلائزیشن کو پلٹا کر ان رجعت پرست طبقات کو پھر سے معاشی طور پہ طاقتور کیا جسے بھٹو کی نیشنلائزیشن نے کمزور کیا تھا جیسے بڑے کارخانے، جننگ فیکڑیوں کی واپسی جس سے صنعتکار، تاجر، آڑھتی مضبوط ہوئے اور اس دوران ٹریڈ یونینوں اور طلباء یونینوں پہ پابندی لگادی گئی۔ اور جنرل ضیاء الحق کے مرنے کے بعد ںگران حکومت نے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے بڑے پیمانے پہ بنیادی صنعتوں اور بڑے سروسز سیکٹر میں شعبے تھے ان کی مکمل نجکاری کا معاہدہ کرلیا۔ کرامت صاحب یہ تسلیم کرتے ہیں کہ محترمہ بے نظیر بھٹو جب برسراقتدار آئیں تو انہوں نے اگرچہ وہ معاہدہ ختم تو نہیں کیا لیکن انہوں نے بڑا سروسز سیکٹر اور بھاری بنیادی صنعتوں کی نجکاری بھی نہیں کی یہ نواز شریف کے دو ادوار تھے جن میں ان معاہدوں پہ عمل ہوا اور پھر نجی سیکٹر میں بڑے پیمانے پہ ٹھیکے داری سسٹم متعارف کرایا گیا اور پاکستان کا بڑا فارمل صنعتی و سروسز سیکٹر انفارمل سیکٹر بن گیا اور آج پاکستان کے محنت کشوں کی 90 فیصد افرادی قوت انفارمل سیکٹر میں ہی کام کرتی ہے۔

پاکستان کا آج لیفٹ کا اشراف طبقہ بدقسمتی سے وژن اور پالیسی میٹرز میں اور زیادہ انٹروسپیکشن /خود احتسابی کرنے کی بجائے اس ملک کے لیفٹ نظریات سے تائب ہوکر لبرل ہوجانے والے یا شروع سے لبرل سوچ کے ساتھ چلنے والے اشرافیہ کے پيجھے لگا ہوا ہے اور یہ اتنا بے وقعت ہوچکا ہے یہ پاکستانی کمرشل نو لبرل کے پیچھے چل کر نواز شریف میں ایک ترقی پسند اور حقیقی جمہوریت پسند تلاش کرتا پایا جاتا ہے۔ یہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پہ چھائے کمرشل لبرل جن میں سر فہرست ڈان میڈیا گروپ، جنگ جیو میڈیا گروپ کے مالکان اور اس سے وابستہ درجن بھر مہان کمرشل لبرل (نجم سیٹھی اور حسین حقانی کے نیٹ ورک) کی دی گئی لائن فالو کرتا ہے۔ اور پاکستان ميں مزدور تحریک کے ولن پاکستان پیپلزپارٹی، ذوالفقار علی بھٹو، بیگم نصرت بھٹو ، محترمہ بے نظیر بھٹو اور آج آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کو ٹھہراتا ہے۔ یہ ماضی اور حال میں اپنی خود احتسابی کرنے کے لیے اتنی سی کوشش بھی نہیں کرتا جتنی کم از کم کرامت علی جیسے کرتے دکھائی دیتے ہیں


شیئر کریں: