بُھول جانے کا ہُنر مجھ کو سکھاتے جاؤ

شیئر کریں:

تحریر: امبرین کا بھائی

مسلمانوں کے ماہ مبارک رمضان سے اب ڈر لگنا شروع ہوگیا۔ یہ مہنیہ ہر اس شخص کو مجھ سے دور کرتے جارہا ہے جو بہت قریب تھا۔ اس بار اس مقدس مہینے نے ایسا گہرا زخم پہنچایا ہے کہ اس زخم سے خون پہلے دن کی شدت سے رس رہا ہے۔
دو دن کی جدوجہد کے بعد خود کو لکھنے کے قابل بنایا ہے۔ دکھ اس قدر زیادہ ہے لفظوں کا ذخیرہ ختم ہوگیا۔
اس بار ایسے زندہ دل دوست کو کھویا ہے کہ میرے لکھے گئے ہر لفظ پر آنسو اس کے نام کا ورد کر رہے ہیں۔

بعض اوقات درد اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ انسان اپنا انداز بیان بھول جاتا ہے۔ اس بار قدرت نے جس زندہ دل دوست کو چھینا ہے اس کی موت کے صدمے سے نکل نہیں پا رہا۔ صدمہ صرف مجھے ہی نہیں میرے جیسے سیکڑوں لوگ ہیں جن کے لیے ان کی موت پر یقین کرنا ناممکن تھا۔ اتنا زندہ دل، جواں سال اور ہر ایک کے لیے درد رکھنے والا انسان کیسے اتنی جلدی جاسکتا ہے۔

طویل قد و قامت کے اس دوست کا اخلاقی قد بھی ناقابل بیاں حد تک بلند تھا۔ کیمرہ مین، آفس بوائے یا کوئی بھی ہو وہ سب کو عزت دیتی، مشکل کی گھڑی میں سب کے ساتھ ہوتی۔ ان نے پہلی ملاقات میں ہی اپنا بنا لیا تھا۔ ہم نیوز کے ابتدائی ایام میں دفتر میں چند ہی لوگ ہوا کرتے تھے، خاموشی، بوریت اور سستی ہر طرف ہوا کرتی تھی۔

ایک دن ایک عجب سے لڑکی آفس میں آئی۔
مجھے پہلے دن سے اس میں اپنایت محسوس ہوئی۔ اس کی توانائی نے نیوز روم کا ماحول بدل دیا اور
ہر طرف قہقہے اور مثبت انرجی پھیلا دی۔ ان کے ساتھ کام کرنے کا مزہ الگ تھا۔
وہ ناراض ہوتی تھی لیکن کام سیکھاتی تھی۔ آہستہ آہستہ یہ رشتہ دوستی کا بن گیا۔
میری بہن کا نام امبر ہے اور وہ بھی امبر تھی۔میں نے انہیں بتایا تو انہوں نے مجھے اپنا بھائی بنا لیا۔
میرے دکھ سکھ میں ہمیشہ ساتھ دینے والی، ناراض ہوتی تھی تو بڑی بہن کی طرح پیار بھی بہت کرتی تھی۔ مجھے ان کی ناراضی سے پتا چل جاتا تھا کہ میرے لیے ان کے دل میں کتنا پیار ہے کیوں کہ ناراض تو اپنوں سے ہوا جاتا ہے، جس پر انسان کو مان ہوتا ہے اس سے۔

وہ لڑکی اپنے نام سے ہی بلکہ حقیقتا جنت کی خوشبو تھی۔ آخری آیام بیماری کی وجہ سے سخت گزرے لیکن کسی کو خبر نہ ہونے دی۔
چند قریبی لوگوں کو خاص تاکید تھی کہ کسی کو میرے بیمار ہونے کی خبر نہ ہونے دینا، لوگ پریشان ہوں گے۔ وہ کہتی تھیں کہ صحت مند ہو کر سب سے ملوں گی۔

اس دنیا سے کوچ کرنے سے ایک رات قبل ان کا پیغام ملا، آج بھی اس پیغام کو پڑھوں تو کلیجہ پھٹ جاتا ہے۔ شاید ان کو اپنے جانے کا علم پہلے ہی ہوگیا تھا۔
آج کی تحریر میں کوئی ربط نہیں کیوں کہ دماغ ابھی بھی ان کے جانے کی حقیقت کو تسلیم کرنے سے عاری ہے۔
وہ جاتے جاتے اپنے پسند کے شعر کو سچ کر گئی کہ

بُھول جانے کا ہُنر مجھ کو سکھاتے جاؤ
جا رہے ہو تو سبھی نقش مٹاتے جاؤ
چلو رسماً ہی سہی مُڑ کے مجھے دیکھ تو لو
توڑتے توڑتے تعلق کو نبھاتے جاؤ

دنیا کے لیے وہ چلی گئی، میرے لیے ہر لمحہ ساتھ ہے۔ موت تب ہوتی ہے جب زندہ انسان اپنی شناخت گنوا دیتے ہیں مگر وہ دور ہو کے بھی ہر لمحہ قریب ہیں۔ ان کی موجودگی کا احساس ابھی ہوتا ہے۔ ابھی جب یہ آرٹیکل لکھ رہا تو محسوس ہورہا ہے وہ ساتھ بیٹھی مجھے جملے اور الفاظ بتا رہی ہیں۔ وہ زندہ ہیں، وہ زندہ ہیں، وہ زندہ ہیں۔۔ میری بات کا یقین کرو وہ زندہ ہے اور ہمارے ساتھ ہیں۔
اللہ دل پھٹ جائے گا ۔۔۔


شیئر کریں: