چندہ برائے لوٹ مار

شیئر کریں:

گمنام طالب علم کی ڈائری سے

تحریک انصاف نے ملک میں موجود مافیاز کو چندے کے بدلے لوٹ مار کی کھلی اجازت دے رکھی ہے۔
جس طرف نظر دوڑائیں لٹیرے عوام سے لوٹ مار کرنے میں مصروف ہیں۔
وزیراعظم عمران خان سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی شخص ان کو چندہ دیتا ہے
تو وہ دودھ کا دھلا ہوا ہے اور اسے من مانیاں کرنے کی مکمل اجازت ہے۔
اسی کی زندہ مثال ملک کا مہنگا ترین تعلیمی ادارہ بیکن ہاوس اسکول سسٹم ہے۔
کورونا کی پہلی لہر کے دوران اس پرائیویٹ ادارے کے
ایگزیکٹو ڈائریکٹر ناصر محمود قصوری نے وزیراعظم سے ملاقات کی۔

بیکن ہاوس کے سی او نے وزیراعظم کو دوکروڑ چندے کا چیک دیا۔
وزیراعظم کو دیا گیا چیک ملک کی عوام کے خون پر پلنے والی مافیا کا اپنی ہی پروموشن کے لیے چندہ تھا۔
بیکن ہاوس کی طرف سے دیے گئے چیک کو میڈیا میں بھی جگہ ملی اور سوشل میڈیا پر بھی اسے سراہا گیا۔
لیکن اسی تصویر کا دوسرا رخ سیاہی سے زیادہ کالا ہے۔
دیگر پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی طرح بیکن ہاوس لاک ڈاون کے دوران بھی والدین کو بھاری فیسوں کی مد میں لوٹ رہا ہے۔

اسکول بند ہیں، طلبہ گھروں میں ہیں، آن لائن تعلیم کے نام پر مذاق جاری ہے لیکن والدین نے بھاری فیسیں لازمی ادا کرنی ہیں۔
اس وبا کے دوران لاکھوں افراد بے روزگار ہوگئے لیکن اس بات کا ان تعلیم کے تاجروں پر کوئی اثر نہیں۔
ان تعلیمی اداروں نے تو اپنا دھندا کرنا ہے۔
عمران خان کی جماعت انصاف کے نام پر حکومت میں آئی تھی۔
وزیراعظم کو چندے کی بدلے آنکھیں بند نہیں کرنی چاہیں۔
وزیراعظم کا کام معاشرے میں انصاف کی فراہمی اور قانون کے مطابق ملک چلانا ہوتا ہے۔
اگر بیکن ہاوس جیسے مافیاز تعلیم کے نام پر لوٹ مار کر رہے ہیں تو حکومت کو جامع پالیسی مرتب کرنی چاہیے۔
کیوں کہ اگر اسکول بند ہیں تو تعلیمی اداروں کو بھاری فیسیں لینے کا کوئی حق نہیں


شیئر کریں: