مانک دا کی یادیں شیوانی (گورا پنت)

شیئر کریں:

ترجمہ عامر حسینی
(یہ مضمون ویب سائٹ پربھاس ڈاٹ کوم پہ انگریزی میں ” اے ڈراپ آف ڈیو” کے عنوان سے شایع ہوا- اس مضمون کی خالق گجرات انڈیا سے تعلق رکھنے والی مصنفہ گورا پنت تھیں جن کا قلمی نام شیوانی ہے اور انہوں نے اسے ہندی میں لکھا تھا ۔ ان کی بیٹی ارا پانڈے نے اسے انگریزی روپ دیا اور اب اس کا اردو روپ پیش کیا جارہا ہے جو عامر حسینی نے دیا ہے۔ مضمون معروف بنگالی فلم ساز و موسیقار ستیہ جیت رے کی مرتیو پہ لکھا گیا۔ شیوانی رابندرناتھ ٹیگور کے کلکتہ جو اب کول کتہ ہوگیا ہے میں ان کے آشرم شانتی نکتین میں اپنے بڑے بھائی اور بڑی بہن کے ساتھ پڑھا کرتی تھیں جب وہاں پہ ستیہ جیت رے بھی پڑھ رہے تھے۔ وہ ان کے بڑے بھائی کے دوست تھے اور اس مناسب سے شیوانی ان کو مانک دا کہا کرتی تھیں۔)

جرمنی کے شہر درماشت کے ایک وسیع ہال میں ٹیگور پہ سیمینار کا پہلا دور ابھی ختم ہی ہوا تھا جب کسی نے میرے پاس آکر بتایا کہ جرمن ریڈیو نے ابھی ابھی خبر دی ہے کہ ستیہ جیت رے کا دیہانت ہوگیا ۔ میں نے ستیہ جیب رے کو کبھی ان کے اصل نام سے نہیں پکارا تھا- ہم آشرمیوں کے لیے وہ ہمیشہ “مانک دا” تھے۔ ہم سے اس وقت کسی کو بھی یہ معلوم نہیں تھا کہ ایک دن وہ اسی عرف کے ساتھ سارے کی طرح چمکیں گے۔

میں نے اپنے آنسو چھپانےکے لیے اپنا منہ موڑ کر کھڑکی کی طرف پھیرلیا۔ بارش کی بوندوں سے بھرے زرد رنگ کے بادل باہر ایسے اڑتے پھر رہے تھے جیسے سورگ میں کسی نے تعزیتی جلسے کے انتظام کرنے سے پہلے کالے رنگ کی پٹیوں کی ڈرائنگ کردی ہو۔ جیسے ہی میں نے باہر لزرتے پتوں، کھڑکیوں پہ چھن چھن کرتی بارش کی بوندوں کو گرتے ہوئے دیکھا تو ایک گہری اداسی نے مجھے ڈھانپ لیا۔ اور میں اس غم کو بھوگنے میں تنہا نہیں تھی ۔ جیسے ہی خبر پھیلی تو وہاں سارے اجتماع پہ خاموشی چھاگئی ۔ میں اپنے وطن سے کوسوں دور تھی، میں سوچ رہی تھی کہ میں اپنے دوست ک سوگ سینکڑوں ایسے لوگوں کے ساتھ منارہی ہوں جن کے میں ناموں سے بھی واقف نہیں ہوں۔

یادوں کے ایک ہجوم نے میرے دماغ پہ یلغار کردی اور مجھے منظر صاف دیکھنے کے لیے اپنے سر کو جھٹکنا پڑا۔ کچھ عرصے سے ہم سب جانتے تھے کہ مانک دا اب مستعار لیے وقت پہ گزارا کررہے ہیں۔ ان کو نحیف و کمزور دل ان کے وجود کو زندہ رکھنے کے لیے بہادری سے لڑائی لڑرہا تھا لیکن ہم جانتے تھے کہ بس گچھ وقت کی بات ہے یم راج، موت کا دیوتا کامیابی سے ان پہ چھپٹے گا اور ان کو ہمارے پاس سے دور لے جائے گآ۔ کہا جاتا ہے کہ یم راج مکمل طور پہ جذبات سے عاری ہوتا ہے جب وہ اپنا انعام پانے کے لیے جھپٹتا ہے۔ ان سب باتوں کے باوجود جب میں نے مانک دا کے مخصوص مدھم سے سریلے لہجے میں امریکی اکادمی برائے موشن پکچر کیطرف سے نائف ٹائم ایوارڈ کی قبولیت کا سنا تو میں نے سوچا تھا کہ اس طرح کی پاٹ دار آواز بھلا کیسے سخت بیمار آدمی کی ہوسکتی ہے۔ کون جانے اس مرتبہ بھی وہ ویسے ہی صحت یاب ہوجائیں جیسے وہ امریکہ سے لوٹا تھے جہآں ڈاکڑ ڈینٹن کولے ان کو موت کے کنارے سے کھینچ کر واپس لے آئے تھے۔ اس وقت بھی تو وہ آخرکار واپس لوٹ آکر آئے اور اپنی ایک نامکمل فلم کو پورا کیا۔

آخری بار جب میں انھیں کولکتہ میں ملی تو اس وقت وہ ابھی بیماری سے پوری طرح صحتیاب نہیں ہوئے تھے۔ آخری ملاقات سے چار سال پہلے، میں جب کولکتہ آئی تھی تو مانک دا مجھے ملنے کے لیے آئے تھے۔ میری بیٹی کے سسر بی ڈی پانڈے اس وقت مغربی بنگال کے گورنر تھے اور انھوں نے راج بھون میں میرے سب آشرمی دوستوں کے لیے ایک شام ان کے ساتھ گزارنے کا انتظام کیا تھا اور ہم سب نے خوشی سے ایک دوسرے کی گردنوں میں ہاتھ ڈال کر رقص کیا تھا۔ مانک دا، سچیترا مترا، میری اسکول کی سب سے عزیز سہیلی اینما سین ہمارے معزز استاد کی بہو، اچاریہ کشتی موہن ، ارون مکھرجی، تارا سرکار۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” شانتی نکتین میں ہمارا یقینی طور پہ سب سے زیادہ سنہرا دور ہے” میں نے اس روز فخر سے اتنی مشہور شخصیات کے اجتماع پہ نظر ڈالی تو خوشی سے پکار اٹھی تھی۔

مانک دا سنجیدگی کے ساتھ ہمیں یہ یاد کرانا نہیں بھولے تھے کہ ہم جو کچھ بھی آج تھے اس کی وجہ وہ تربیت تھی جو ہم نے آشرم میں پائی تھی۔ وہ ہمیشہ بہت ہی نپی تلے اور سوجھ بوجھ والے لہجے میں بات کرتے تھے اور میں نے اچانک اپنے آپ پہ خود بڑا افسوس کیا کہ میں اپنی پھوں پھاں میں بنیادی حقیقت کو نظر انداز کرگئی تھی۔

کولکتہ جیسا ميں نے بطور طالبہ کے دیکھا تھا اب بہت بدل چکا تھا کہ مجھے اپنے ساتھ آنے والے یونیورسٹی کے ڈاکٹر اوپادھائے سے پوچھنا پڑا تھا کیونکہ مجھے شک تھا کہ میں ڈاکٹر ستیہ جیت رائے کا گھر ڈھوںڈ بھی پاؤں گی۔ ڈاکٹر اوپادھائے کولکتہ کے ایک باحیات لیجنڈ سے ملاقات کے پیش نظر بہت پرجوش تھے اور مسلسل میرا اس بات پہ شکریہ ادا کرتے جاتے تھے کہ میں نے انہیں ساتھ رکھا۔ بشپ لفرے روڈ پہ واقع معروف فلیٹ کی بیل بجائی تو مانک دا نے خود دروازہ کھولا۔ برآمدے میں پودوں کے گملوں کی بہتات تھی اور شاید وہ پودوں کو پانی دے رہے تھے جب ہم پہنچے۔ میں نے اچانک ہی ان سے ملنے کا پروگرام بنالیا تھا اور کوئی اپائنٹمنٹ بھی طے نہیں کی تھی۔ لیکن پھر بھی وہ ہمیں گرم جوشی سے ملے جیسے ہی ہم وہاں پہنچے۔ مانک دا مجھے دیکھ کر مساراتے ہوئے بولے،”کیا سرپرائز ہے بھئی” اورپھر ہمیں اندر آنے کو کہا۔ میں نے بہت سارے لوگوں کو وہاں موجود دیکھا جو شاید اپائنٹمنٹ لیکر آئے تھے ۔ مانک دا ان کے درمیان سے ہمیں گزارتے ہوئے اپنی کچھار میں لے آئے۔ ایک دیوار پہ ان کے والد سک کمار رائے کی تصویر نمایاں طور پہ آویزاں تھی۔ کمرہ ایک خول کی طرح سے تھا جہاں پہ ہر طرف کاغذوں کا انبار لگا ہوا تھا۔

مانک دا دیوقامت تھے اور ان کا جسم جو دھان پان سا تھا ہمیشہ ایستادہ رہا کرتا۔ ان کی آواز جیسے مندر میں بجتی مدھر گھنٹیوں کی سی تھی اور جب وہ بولا کرتے تھے ہر کسی کی توجہ کھینچ لیا کرتی تھی ۔ لیکن اس دن، پہلی بار، مجھے لگا کہ ان کی اب عمر ہوگئی ہے، اب ان کی آواز میں وہ دم خم نہیں رہا تھا، شاید اس دن ان کا گلا خراب تھا۔ پھر بھی وہ مجھ پہ ایک مسکان بھری نظڑ ڈالتے یا ہنستے ہوغے ایک حاص ادا کے ساتھ اپنے سر کو جھٹکتے تو وہ اس سے کہیں زیادہ مانک دا ہوجاتے جن سے میں ہمیشہ سے واقف تھی اور جن کی میں نے ہمیشہ تعریف کی تھی۔

مانک دا کبھی بھی باتونی نہیں رہے تھے۔ حقیقت میں وہ ہر لفظ کو ناپ تول کر ونہ سے نکالنے کا تاثر دیا کرتے تھے اور شاید یہی وجہ تھی کہ ان کی تقریر ميں گرائی اور کشش بڑھ جایا کرتی تھی۔ ميں چپڑچپڑ کرتی تھی اور وہ حسب معمول نہایت توجہ سے سنے جاتے یہاں تک کہ مجھے احساس ہوتا کہ باہر ان کے انتظار میں ان کے مداحوں کا ہجوم بڑھتا جارہا ہے۔ ان کا اتنا زیادہ وقت لینے پہ مجھے شرمندگی ہوتی اور مں جانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوا کرتی تھی۔ “بیٹھ بھئی بیٹھو”، وہ اصرار کرتے رہتے لیکن میں خود سے معذرت کرتی اور جانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوتی۔ آج بھی میں جلد ہی اپنے آپ کو اس کمرے سے روانہ ہونے کے لیے دھکا دیا لیکن مجھے ٹھیک سے اندازہ ہی نہیں تھا کہ یہ ہماری آخری ملاقات بھی ہوسکتی تھی۔

“چلو ٹھیک ہے، کم از کم جانے سے پہلے ایک رس گلہ تو کھاتی جاؤ”، یہ کہہ کر وہ مسکرائے اور پھر کہا،”میں جانتا ہوں تمہیں وہ بہ پسند ہیں۔ میں نے تمیں آشرم میں کالو کی دکان پہ انھیں کھاتے ہوئے دیکھا ہے” ان کی آنکھوں ميں شرارت جھلک رہی تھی۔

یہ انکشاف سن کر میرا تو منہ حیرت سے کھلا رہ گیا۔ ہم تو ان کے آز حد معترف تھے اور وہ میرے رس گلے سے شغف تک کا نوٹس لیا کرتے تھے یہ بات میرے لے انکشاف کا درجہ رکھتی تھی۔ آشرم کے دنون مں، مانک دا ہمارے جھمگٹے کے پاس سے بنا نظریں اٹھائے گزر جایا کرتے تھے۔ کالو کی دکان اس کے رس گلوں کی وجہ سے ہمارا خاص ہدف ہوا کرتی تھی – اس کے رس گلے اتنے نرم ہوتے کہ آپ کو اسے منہ میں ڈالنے کے لیے اس کا رس چوس لینا ہوتا تھا ورنہ آپ کو اڑنچھو لگ سکتا تھا۔

مانک دا کا میرے بڑے بھائی تری بھون سے بڑا یارانہ تھا۔ میں سوچتی ہوں کہ ان کے دماغ میں میں ہمیشہ سے وہی ایک مخبوط الحواس سی چھوٹی بہن کی صورت موجود رہی۔ کبھی کبھار میں ان سے بات کرنے کی ہمت کرلیا کرتی تھی لیکن اکثر و بیشتر ہم ان کو اور ان کے گینگ کو اکیلا چھوڑ دیا کرتے تھے۔ ان دنوں میں ان کی اپنی الگ تھلگ فضا سے ہٹ کر وہ آشرم میں لیجنڈری سک کمار رائے کے بیٹے ہونے کے طور پہ مشہور تھے۔ اگٹر ان کی ماتا جوبہت پرکشش اور معزز خاتون تھیں اتریان آیا کرتی تھیں جو ٹیگور کا گھر تھا۔ وہ سلائی کڑھائی کی ماہر تھیں اور کانتھا کشیدہ کاری پر ایک بار انہوں نے لیکچر دیا تھا جو مجھے یاد تھا۔ بدقسمتی سے میں مانک دا کی پتنی سے کبھی نہ مل سکی لین ان کی بڑی بہن گوری دیدی سے میری بڑی دوستی تھی۔ جب کبھی گوری دیدی ممبئی آیا کرتیں وہ سشیلا کے ہاں قیام کیا کرتیں جو ہماری ایک اور آشرم کی ساتھی تھیں اور وہاں مجھے بلایا کرتیں۔ وہ کہا کرتی تھیں ‘جلدی کرو اور آجاؤ ، میں نے نئے گڑ سے کچھ پواس بنائے ہیں آج۔”

گوری دیدی کشور کمار کی ساس اور امیت کی نانی تھیں۔ جوں ہی وہ ہميں پواس کا باؤل چاٹ کر خالی کرتے دیکھتیں تو کہا کرتی تھیں کاش امیت میں آپاتا۔ وہ بھی میرے بنائے پواس بہت پسند کرتا ہے۔

آخری بار ہم جب ممبئی میں ملیں تو میں نے ان سے مانک دا بارے پوچھا تھا۔ ان کا مسکراتا چہرہ دھواں دھواں ہوگیا تھا۔” میں بھلا کیا کہہ سکتی ہوں؟” انھوں نے تاسف سے سر ہلایا۔” اب وہ اپنی سابقہ انا کے خول میں رہتا ہے۔ یہ بات مجھے ڈرا دیتی ہے کہ وہ دن بدن کسقدر کمزور ہوتا جارہا ہے۔”

کئی مرتبہ ميں نے لکھنے کے لیے قلم اٹھایا اور پھر رکھ دیا۔ سینکڑوں خطوط جو ان کے کولکتہ واللے گھر میں ہی پڑے ہوں گے، میرے لیے کس قدر اہم ہوسکتے ہیں؟ بہتر ہے اپنے آشرم کے دنوں کو یار کرنے کے لیے پییچھے جاؤں اور یاد کروں اس وقت وہ کیسے تھے۔ ایک مرتبہ، جب ہم نے “سنہا سادان” کھیل کو سٹیج پہ پیش کیا تو اس وقت مجھے ایک مسلم لڑکے کا کردار دیا گیا تھا۔ بول پور سے مسلم ٹوپی لائی گئی اور کسی نے مجھے مشورہ دیا کہ میں کالا بھون میں شاگرد جینت ڈیسائی سے چوڑی در پاجامہ اور کرتہ مانگ لوۂ۔

میں زرد پڑگئی تھی – جینت مساجنسٹ ہونے میں بری طرح سے بدنام تھا اور اس سے کوئی چیز ادھار مانگنا اپنے آپ کو مصیبت میں ڈالنا تھا۔ ناچار میں گئی۔ اس نے اوپر سے نیچے تک مجھے دیکھا اور پھر پوچھا،”کیا تم تری بھون کی بہن ہو؟’

ميں نے اثبات میں سر ہلایا۔

ٹھیک ہے، یہ لو، اس نے کلف لگا چوڑی دار پاجامہ اور کرتے کا جوڑا مجھے دے دیا۔”اسے کاٹنے کی کوشش نہ کرنا، واپس کرنے سے پہلے دھو ڈالنا”، اس نے ایسے مجھے کہا جیسے میں کسی ناگفتنی بیماری کا شکار ہوں۔

جینت ڈیسائی کا جثّہ مجھ سے تین گنا زیادہ تھا۔ کوئی مسئلہ نہیں تھا کہ میں نے اس کرتے کو اٹکانے کی کتنی سخت کوشش کی، یہ کسی طرح سے فٹ ہی نہیں بیٹھتا تھا۔ جہاں تک اس کے چوڑی دار پاجاموں کی بات ہے ، اگر میں ان کو اپنے گردن تک بھی لیپٹ لیتی تو تب بھی مں اس کے اندر اپنے آپ کو سمو نہ پاتی۔ ایک اور دوست جیتندر پرتاپ کا بھلا ہو جو میری ہی قامت کا تھا اس نے اپنی شیروانی مجھے دی اور میں نے کرتے کو اس میں اڑس لیجا۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ اس دن اس نے میری ایک تصویر بھی کھینچی تھی جو شایداب بھی اس کے پاس ہو۔

ہمارے میک اپ آرٹسٹ گوری دیدی، نندلال باسوکی بیٹی تھیں اور انھوں نے مجھے اتنے شانداردار طریقے سے بنایا سنوارا کہ میری والدہ بھی مجھے پہچان نہ پائیں۔ مسٹر سٹروک مونچھیں تھیں جو کمال مہارت سے میرے اوپر لب سے اوپر چپکادی گئی ت۔ انہوں نے اپنے ہاتھوں کی کاریگری دیکھی تو بے ساختہ قلقاریاں مار کر ہنسنے لگیں اور کہا،”تم اب بالکل ایک غنڈا لگ رہی ہو۔” جب میرے سارے گینگ نے مجھے دیکھا تو انھوں نے خوب میری ہنستے ہوئے بھد اڑائی۔ ان میں سے ایک سندھیا رائۓ تھی اس نے میری گردن میں اپنے بازو حمائل کرڈالے اور سرگوشی کی،”اگر تم واقعی لڑکا ہوتیں تو میں تمہاری عاشق ہوجاتی۔” ایک اور سہیلی جیا اپاسوامی نے مجھ پہ طائرانہ نظر ڈالی اور کہنے لگی، اگر تم ہتھوں ميں ایک سلگتا سگریٹ تھام لیتیں اور کش لگاتیں تو پھر تم پوری طرح سےاپنے کردار میں مکمل لگتیں۔

پچاس سال پہلے کسی لڑکی کا سگریٹ پینا بہت کی کمیاب نظارہ تھا اور وہ بھی آشرم میں۔ کوئی اسے سلگانے کا بھی خواب میں بھی سوچ نہیں سکتا تھا۔ میں نے جیا اپاسوامی کو بتایا کہ اگر کوئی المورا میں میرے دادا کو یہ سب لکھ بھیجتا تو مجھے لازمی خاندان سے نکال دیا جاتا۔

جیا نے جواب دیا، اری او پگلی لڑکی، میں تمہیں سچی میں تھوڑا سگریٹ سلگانے کو کہہ رہی ہوں۔ اجوائن کے بیج کسی کائذ کے ٹکڑے میں لپیٹ لو اور پھر دھویئیں کے چند دائرے بنا ڈالنا۔ بس کام ختم۔

اور ٹھیک یہی میں نے کیا۔ آپ نے میری کارکردگی کی جو چرچا ہوئی وہ سنی ہوگی۔ تو چند دن بعد ، ہاتھ سے لکھا ایک رسالہ آشرم کے کسی ساتھی نے مجھے پہنچایا تو غضّے سے میرا خون کھول اٹھا۔’ کیا آشرم میں اسٹیج پہ کسی لڑکی کو یوں سگریٹ پین بنتا تھا؟” کسی نے بدلے کی بھاؤنا کے ساتھ لکھا تھا،”ہم محسوس کرتے ہیں کہ اسے کوئی مناسب سزا دینی بنتی ہے۔”

تبصرے کے نیچے کسی کا نام نہیں تھا لیکن ہمیں یقین تھا کہ مانک دا کے دوستوں میں سے کوئی اس کے پیچھے تھا۔ میں طوفان کی طرح ان کے پاس گئی اور بڑے ہی غصّے سے ان کے سامنے وہ رسالہ لہرایا۔’آپ کو پتا بھی ہے کہ میں نے کیا سلگایا تھا؟’ میں پھٹ پڑی ۔ ” یہ بس اجوائن کے بیج تھے’ میں 20 گواہ پیدا کردوں گی جو اس بارے گواہی دیں گے۔ آپ اتنا کچھ میری کارکردگی کے بارے ميں کیوں نہ کہہ سکے، مجھے بتائیں؟’

میں شرم سے اب بھی سرخ پڑ جاتی ہوں جب کبھی مجھے اپنا وہ خوفناک سلوک یاد آتا ہے جو ميں نے مانک دا سے روا رکھا۔ کیا واقعی میں نے اپنے زمانے کے سب ہدایت کاروں سے زیادہ معروف ڈائریکٹر سے یہ سب کرنے کی جرآت کی تھی جس نے اس روز میری کارکردگی کی سب سے زیادہ تعریف کی تھی؟ مانک دا نے میری غصّہ بھری بات کو بہت تحمل سے اور مدہوش کرنے والی مسکان کے ساتھ سنا تھا۔ انھوں نے ایک بار بھی مجھے یہ نہیں کہا کہ میں نے جب یہ نہیں لکھا تو تم مجھے یہ سب کیوں بتارہی ہو؟ بہت دنوں کے بعد ان کے دوست سمندرا میرے پاس آئے اور اس مضمون کو لکھنے پہ مجھ سے معذرت کی۔’لیکن آپ نے مانک دا پہ اپنا سارا غصّہ کیوں نکالا؟’ اس نے مجھ سے پوجھا،’بیچارا جانتا تھا کہ میں قصوروار ہوں مگر وہ چپ رہا’۔

ایک بار دوسرے موقعہ پہ ہم سب پکنک پہ گئے ہوئے تھے۔ ہر سال، آشرم والے ہم کو شہیوری یا کوپائی آؤٹنگ کے لیے لیجاتے تھے۔ تمام شانتی نکتین کے شاگرد چاہے وہ کالا بھون، سکشا بھون، سنگیت بھون یا ودیا بھون سے ہوتے شریک ہوتے تھے۔ ہمارے ساتھ چھکڑے تھے جن میں کافی برتن، مرتبان اور سلگانے کے لیے لگریاں دیگر ساز و سامان لدھا ہوا تھا۔ ہمارا کھانا کھلے میں پکتا تھا اور ہم سب اکٹھے نیچے بیٹھ کر انتہائی لذیذ کھچڑی، دہی، چٹنی، مچھلی ، سبزیاں اور کڑی وغیرہ پتوں پہ رکھ کر کھاتے تھے۔ دعوت کے آخر میں کشتیش رائے جو یہ سب دیکھتا تھا پوچھتا تھا، کیسا تھا یہ سب؟’

اور ہم سب یک آواز ہوکر کہتے ‘شاندار’ اور پھر “گرو جی کی فتح” کہتے۔ باورچی ہمارے آشرم کے ہوا کرتے تھے: ہری ہر، نگندرا ، ایک ساؤتھ انڈین باورچی چولم کہلاتا تھا اور دوسرا بہار سے تھا جس کا نام سراجو تھااور ان سب کی صدر خانساماں سروجنی دیدی تھیں جن کو اچاریہ ہجاری پرشاد دیویدی نے انا پورنا کا نام دیا تھا۔ اس سال ان کے بیٹے راہول کا اچانگ سے دیہانت ہوگیا اس نے اپنے پیچھے ایک بیوہ رانو بوڈی چھزڑی تھی۔ اس کے باوجود وہ ہمارے ساتھ آنے سے نہیں رکیں۔ وہ کہتی تھیں کہ یہ پکنک تو سال میں ایک بار ہوتی ہے اور اگر میں نہ گئی تو کچھ غلط ہوسکتا ہے ۔

صرف ہم میں سے جو خوس قشمت تھے جو ان پکنکوں میں گئے جان سکتے ہیں کا وہ کیسی تھیں۔ ہمارے میوزک ٹیچر تھے شالیجا موجمدار اپنے اسراج کے ساتھ اور پھر وہاں امیتا دیدی ہوا کرتیں جن کی پیاری سی آواز پہاڑیوں میں دور دور تک جاتی تھی

او اناتھر ناتھ
او اگاتیر گاتی ۔۔۔

ان کبھی مائيک کی ضرورت نہ پڑتی- ان کی مضبوط آواز ہوا کے دوش پہ ہمارے کانوں تک پہنچ جایا کرتی۔ کانیکا دیدی “باجے کروں سوارے’ جیسا پیارا گیت گایا کرتیں جسے گرودیو نے خاص طور پہ کارناتک راگ میں ساؤتھ سے آئے اپنے پسندیدہ شاگرد ساوتری دیدی کے لیے کمپوز کیا تھا۔ اور پھر کشتیج دا کورس مين گاتے’رانگے رانگے’

مرکزی آواز ہمارے انگریجی کے استاد کشتیج رائے کی ہوتی جن کا خوش کن چہرہ سب سے نمایاں ہوا تھا۔ چند سال پہلے، جب میں ایک فنشن میں ان سے ملا تو یہ دیکھ کر میری آنکھیں بھر آئیں کہ بڑھاپے نے ان کے چہرے کے ساتھ کیا کردیا تھا۔ وہ اپنی پیاری بیوی اور عزیز بیٹی کو کھو چکے تھے ۔ اب اکلے رہ گئے تھے اور اس وقت وہ ٹوٹی ٹانگ کے ساتھ ان کا کریا کرم کرنے گئے تھے۔ میں جب ان کو ملنے گئی تو وہ ایا ایزی چئیر پہ بیٹھے تھے اور ایک ٹفن ان کے سامنے دھرا تھا جس تک آسانی سے ان کی پہنچ تھی۔

انھوں نے شاید دہشت میرے چہرے پہ دیکھ لی تھی جس کا سبب تنہائی کی حالت تھی۔’ ایک لڑکا مجھے کینٹین سےکھانا دے جاتا ہے ۔” انھوں نے نحیف آواز میں کہا۔”اور میں سارا دن یہاں پڑا رہتا ہوں ، اور ماضی میں تمہاری آوازوں کو سنت رہتا ہوں۔”

یہاں جرمنی میں، دوسرے دن میں ان کی بیٹی شرمیلا سے ملی۔ اسے ٹیگور پہ سیمینار کے موقعہ پہ گانے کے لیے مدعو کیا، جہاں مجھے بھی بات کرنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ میں اسے پہچان نہ پاتی اگر وہ اپنی ماں اوما دیدی کا دھندلا عکس نہ ہوتی۔ میں اسلیے اسے فوری پہچان گئی- اس نے ایک فرانسیسی سے شادی کی ہے اور پورپ میں رابندر ناتھ ٹیگور/ ٹھاکر کے سنگیت کو مقبول بننے میں بڑا کردار ادا کیا۔

” ایک بار تو میں بابا سے ملاقات کو جاتی ہوں لیکن بار بار ہندوستان جانا آسان نہیں ہے اور اس کی آنکھیں آنسوؤں سے پر تھیں۔ اس کے بابا کبھی آشرم کی پکنکوں کی جان ہوا کرتے تھے۔ میں نے اسے بتایا اور اچانک ایک بار پھر مانک دا کی مجھے یاد آگئی۔ ہمارے پرانے خانساماں ہری ہر رنگاماہی میں اس سال پکنک کے بعد گم ہوگیا تھا۔ ہم سب نے اسے آوآزيں دیں لیکن ہماری آوازیں باز کشت بنکر واپس لوٹ آئیں۔ بوڑھے آدمی کا کوئی نشان نہیں مل رہا تھا اور ہر ایک کو سخت پریشانی لاحق ہونی شروع ہوگئی تھی۔ پھر کسی نے مشورہ دیا کہ ہم مانک دا کو کہیں وہ ہری ہر کے نام سے اسے آواز دیں۔ ” ان کی آوآز بروان تک پہنچ سکتی ہے۔’ اس آدمیی نے کہا تھا۔

مانک دا، کوئی شک نہیں ہے ہمارے طفلانہ خیالات سے اوب کر ہمارے شور مچانے والے گروپ سے دور چلے گئے۔ وہ ایک درخت کے تنے سے ٹیک لگاکر سیکچ بنانےلگے۔ بلی کے گلے میں گھنٹی باندھے کون؟ ہم نے درخت کے نیچے کھڑے آرٹسٹ تک درخواست پہنچاننے کے لیے ان کے دوست سمندرا کو راضی کرلیا- ہم ان دونوں کو کسی بات پہ ایک دوسرے سے الججھتے دیکھ سکتے تھے،تب مانک دا بادل نخوااستہ اٹھ کھڑۓ ہوئے اور اپنی مدھر بھری ٹون میںں پکارے “ہری ہر ارے او ہری ہر۔۔۔’ میں سوچتی ہوں کہ یہاں تک کہ سارا جنگل انصھیں سننے کو رک گیا تھا۔

تھوڑی دیر کے بعھد بھیڑ کی طرح منمناتا ڈرا ہوا ہری ہر آن پہنچا، کہنے لگا،’بھگوان کی کرپا ہو تم نے مجھے پکارا، میں تو گم ہوکر مایوس ہوگیا تھا، بابو، مانک دا کی صاف اور بلند آواز کام کرگئی تھی۔ یہ وہی صاف اور بلند پکار تھی جس نے بعد میں ایک اور گمشدہ روح کو واپس لوٹایا تھا اور وہ تھی بنگال کے گمشدہ فنکارانہ ورثے کی روح ۔۔۔۔ وہ شاید اپنی بہترین فلموں کی وجہ سے زیادہ جانے جاتے ہیں لیکن بنگال میں مشکل سے کوئی ایسا فنکارانہ پہلو ہوگا جسے رائے کی پرشوق ذہانت نے چھوا نہ ہو۔ اس اعتبار سے دوسرے رینے سانس / احیائی آدمی —– اپنے گرو رابندرناتھ ٹیگور کی طرح تھے وہ ۔ مانک دا نے ایک بار لکھا تھا:’ شاعری، ڈراما، ناول، پینٹنگ ، موسیقی، فلسفہ اور تعلیم _______ ان سب شعبوں میں ٹیگور کا حصّہ شیکسپئیر سے بھی زیادہ ہے۔ میں خود ایک بنگالی ہوں اور پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ جہاں تک موسیقی کا تعلق ہے چند کمپوزر ہی ٹیگور کی ذہانت کو چھوسکتے ہوں گے۔ میں اس میں مغربی مویسیقاروں کو بھی شامل کرتا ہوں۔ مخض بطور شاعر ہی نہیں یہاں تک کہ بطور ناول نگار بھی ٹیگور اپنی انفرادیت برقرار رکھتا ہے۔ اس کے مضامین حیرت انگیز حد تک وسعت کے حامل ہیں اور ان کی دور بین بصیرت اور وژن کے حامل ہیں جو ہمیں اکثر جن دوسرے انشا پردازوں سے واسطہ پڑتا ہے میں نظر نہیں آتے۔ اور ان کے افسانونی کردار ان کی ناقابل تقابل ذہانت پہ مہر ثبت کردیتے ہیں۔’

شاید یہی وجہ ہے کہ ستیہ جیت رائے ٹیگور کو بار بار اپنی فلموں اور اکثر اپنے میوزک میں بھی استعمال کرتے تھے۔ رابندر ناتھ ٹیگور کے سنگیت کو برہ راست لینے کی بجآئے وہ سنگیت کو ایسے جیسے ‘امی چینی گو، جینی تومارے، اوگو ودیشنی ۔۔۔”(چارولوتا) لیتے ہیں وہ اسے استادی کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔ یہ گیت ٹیگور کے انچیچی مورا انچیچی مورا(لوٹپوٹے، بالمیکی، پرتبھا)سے ماخوذ ہے اور پھر مغربی نوٹیشن سسٹم کو فالو کرتا ہے۔ دوسرے دن جب شرمیلا نے ان میں سے کئی ویسٹرن میلودی رابندر ناتھ ٹیگور سے لیکر گائیں تاکہ ٹیگور کی موسیقیائی ذہانت کو پیش کیا جاسکے تو جرمن حاضرین کو بہت مسحور کیا۔

ایسی ہی کاسموپولٹن/شہری معیار رائے کے کام میں جھلکتا ہے اور اس جھلک نے ہی تو ہندوستان سے باہر بھی ان کو بہت مقبول بنایا۔ وقت، سچويئش، کردار اور بیانیہ کو شاندار طریقے سے باہم ملان اور ان کا امتزاج میوزک کی کائنات میں ان کے ہاں واقعی ایک منفرد اپچ تھی اور کارنامہ تھا۔ اور یہ وہ ودیعت تھی جسے رائے اپنے فائدے کے لیے ہمیشتہ استعمال کرتے تھے

وہ لکھتے ہیں: ‘ فلم اور میوزک شاندار ہم آہنگی رکھتے ہیں۔ دونوں زمان و مکان ، عروض اور قلب انساں کا لحاظ کرتے ہیں۔ مالیخولیا پن، خوشی ، عکس یہ وہ طریق جنھوں نے مغربی موسیقی کی آرائش کی۔ ہمارا اپنا موسیقی کا ورثہ مکمل طور پہ مختبلف ہے۔ ہندوستانی کلاسیکل موسیقی کم ڈرامائی اور زیادہ مسجع مقفع ہے۔

شاید رئے کی چنوتی کا جواب دینے کے لیے دو فلم ساز اصل میں پیرس کئے تاکہ مغربی کلاسکی موسیقی کو پڑھ سکیں لیکن جیسے شیام بینگل نے کسیجگہ لکھا ہے: ان کی دانشورانہ خودستائی اور غرور کبھی رائے کی ذہانتب کے فطری بانکپن کا مقابلہ نہ کرسکے۔

رائے نے جو غور و تفکر کیا اس کا عکس دکھایا بھی اور پھر پیچیدہ خیال کے پروسس کو ایک واحد تماثیل میں بدلنے کا انتظام بھی کرکے دکھایا۔ مجھے شک ہے کہ شاید کوئی اس کے برابر بھی پیش کرنے کے کبھی قابل ہوگا۔ وہ تو ایک ایسے دریا کی طرح تھے جو پورے جوبن پہ ہو اور کوئی جھیل، ندی نالہ بھلا اس کے فنکارانہ بہاؤ کی شدت کا مقابلہ کیسے کرسکتا ہے۔ اپو ٹرائیولوجی ، پارس پتھر، جلسہ گھر سے لیکر بعد میں چارولوٹا، آسانی، گنشترو تک اس کی ذہانت اور عبقری پن ہمیشہ سے برقرار اور مضبوط رہا۔

رائے نے ہمارے سامنے جو رکھا وہ تھرتھرا دینے والی ایک نئی ووثول کائنات تھی۔ انھوں نے ہماری روزمرہ کی زندگی کو مکمل طور پہ ایک نئی جہت کے ساتھ ہمارے سامنے رکھ دیا۔ ہر ایک نظر اور تماشائی کے لیے چاہے وہ پنجاب سے تھا، دور دراز ساؤتھ سے تھا یا مہاراشٹر سے راغۓ کی فلموں نے ایسے کردار پیش نہیں کیے جو بہت ہی تنگ نظر دنیا سے بندھے ہوں۔ اس کے کردارہم سب سے برابر بولتے ہیں۔ ا کی فلموں میں ہوا کا ہر جھنکا اوربارش کے قطروں سے گرنے والی ہر ایک بوند ایک جیسی شدت کے ساتھ ہمیں چھوتے ہیں۔ اس کی فلموں میں ہم نے جن مدروں اور عورتوں کے چہرے دیکھے وہ ہمارے دیکھے بھالے ہیں اور ہم ان کو جانتے بھی ہیں اور ان چہروں کی جھریاں ہمارے دکھوں کے ساتھ ملکر ان کے لیے ہمدریاں پیدا کرتی ہں۔

رائے کی جادو کی چھڑی نے اداکاروں اور اداکاراؤں کو (چاہے ولاس کی فلم میں ایک ہوسٹ/میزبان کے طور پہ سومترا ہو یا چارولوٹا میں مادھوی مکھرجی ہو یا اپور سنسار میں شرمیلا ٹیگور ہو یا اپارانا سین تین کنیا میں ہو) ایسے کردروں میں بدل دیا جو ان کی شہرت سے کہیں زیادہ عظیم تھے۔ اس کے تمام اداکاروں نے یہ بات تسلیم کی اور یہی وجہ ہے شاید کہ مادھوی نے ستیہ جیت رائے کوجب وہ ستر سال کا ہوچکا تھا تو مہانگر میں لکھا تھا کہ رائے نے اسے ایک نئی زندگی دی ہے۔ اس نے میرے لیے ایک جھوٹا سا جھروکہ کھولا جس سے باہر میں نے بہت بڑی دنیا میں جھانکا۔ میں تو بس مٹی کا ایک لوتھڑا تھی اس نے پہلے مجھے ایک مجسمے میں تراشا خراشا اور پھر مجھے دیکھنے کا تحفہ دیا۔

راجندریادیو نے حال ہی ميں لکھا کہ فکشن اپنے ہیرو اور ہیروئینوں کو کھوچکا ہے__________ اب تو بس ان کی یادیں رہ گئی ہیں۔ اب تو یہ یاد داشتیں ، نہ کہ فکشن مستقبل ہیں۔ اسے ایسا ہوتا نظر آتا ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ وہ مرچکے ہیں ، میں ان کو بتانا چاہتی ہوں کہ وہ اب بھی زندہ ہیں: ہوا صرف یہ ہے کہ ہم یہ بھول چکے کہ انھیں پہچاننا کیسے ہے۔ حتی کہ اگر ہم سیکھ بھی لیں، ہم اپنی نظریں پھیر لیتے ہیں تاکہ ان کو پہچان نہ پائیں۔ اس کا مطلب کیا ان کو تخلیق کرنے کی ہماری قابلیت کی شکست نہیں ہوگا۔ ہماری نخوت ان کی موجودگی کو تسلیم کرنے سے ہمیں منع کرواتی ہے۔ ستیہ جیت رے اس کو بہت اچھے سے جانتے تھے اور ان کی فلمیں ہمارے زمانوں کے ہیرو اور ہیروئین کی پہچان کروانے میں کبھی نکام نہیں رہی تھیں۔ اس نے ہمیں اس کی تمام تر شکستگی اور کمزوریوں کے باوجود ناقابل تسخیر انسانی جذبے سے واقف کرایا بلکہ اس نے ہمیں اس کی طاقت اور لچک سے بھی روشناس کرایا۔ کوئی شئے رے کی آنکھ سے بچ نہیں سکتی تھی۔ انسانی جذبے کو ہمارے سامنے پیش کرنے کی اس کی قابیلت رائے کے ایک کیمرہ آرٹسٹ کے طور پہ کامیابی کی ذمہ دار تھی۔

یادوں کے طور پہ میرا یقین ہے کہ انھوں نے دنیائے فکشن کو رنگ لگائے۔ یہ حقیقت ہے لیکن اگر ان کو ریکارڈ کرتے وقت ہماری نخوت اور انانیت اس کے اندر رینگ آئے تو اور بات ہے۔ ہماری زندگیاں بدلتی ہیں، اقدار تبدیل ہوتی ہیں ہماری پسند ناپسند بھی بدل جاتی ہیں۔ ہمیں اسے کیسے اس میں منعکس نہیں کرپاتے جو ہم اپنی آنے والی نسلوں کو محسوس کرنے اور جاننے کے لیے چھوڑ جاتے ہیں؟

مانک دا کی موت کے بعد کسی بھی طرح بھی میں ان کے بارے میں لکھنے کے لیے اپنے آپ کو تیار نہ کرپائی۔ دنیا نے ان کا سوگ کئی طرح سے منایا۔۔۔۔۔۔ خطوط، سیمینار، یادرگاری تقریبات۔۔۔۔۔۔۔ ان کے مداحوں کی صفوں میں میں کہاں کھڑی تھی؟ میں نے یہ سوچا۔ میں ایک دوسری ہی دنیا سے تعلق رکھتی تھی اور میں نے ویسے ہی محسوس کیا جیسے سوداما نے لازمی محسوس کیا ہوگا جب وہ بھگوان کرشن کے دربار میں گئے ہوں گے۔ میں ستیہ جیت رے کو اتنے قریب سے نہیں جالتی تھی جتنا دوسرے بہت سارے جانتے تھے۔ میرے لیے تو وہ ہمیشہ سے مانک دا ہی رہے۔ ایک نرم اور شفیق دیو قامت شخص جس کا پتلا سا چہرہ مسکراہٹ کے ساتھ جمک اٹھا تھا جب میں نے ایک دن کوکلتہ میں ان کے گھر بی بیل بجائی تھی اور جسے مجھے ایک رس گلہ پیش کرنا یاد رہا تھا، جو مجھے رحضت کرنے دروازے تک آیا تھا۔ میں کیسے ایسے آدمی کو بھلاسکتی ہوں؟

ہندوستان ہمیشہ اپنے قیمتی جواہرات کو پہچاننے میں کافی دیر لگاتا رہا ہے- یہاں تک کہ بھارتری ہری ہمارے لیے اس وقت قابل احترام بنا جب ایک انگریز مشنری نے اس کے کام کا ترجمہ کیا اور اس سے دنیا ک روشناس کرایا۔ کالی داس کو ہم نے تب مانا جب جرمن مفکرین نے ان کی عبقریت کو تسلیم کیا- رابندر ناتھ ٹیگور ہماری لیے بڑ شخصیت تب بنے جب ان کو نوبل انعام ملا۔ مہارشی رامائن، سوامی ویکانند ہم تک مغرب کے راستے سے آئے۔ کاش مغرب کی طرف سے سراہے جانے سے پہلے ہم ان کی عبقریت کو پہچان چکے ہوتے ۔ اور رامانجن بارے کیا وہ ریاصی کا عظیم مفکر جو ہماارے ہاں بھوک سے مرنےکے قریب آن پہنچا تھا؟ میں اکثر حیرانی سے سوچتی ہوں کہ کیا ہمارا انگریزی خواں طبقہ کبھی اپنشد کی طرف متوجہ ہوتی اگر ٹی ایس ایلیٹ پیدا نہ ہوا ہوتا۔ رے بھی اسی وقت ہمارا قومی ورثہ بنا جب اس کی پہلی فلم نے ملک سے باہر ایوارڈ جیتا۔

میری ماتا کے پاس ایک لہایت خوبصورت لگری کا بکسہ تھا جس پہ پیتل کے ناخنوں کا جڑاؤ تھا جہاں وہ اپنا سارا خزانہ رکھا کرتی تھیں۔ کبھی یہ سارا کا سارا خزانہ میرے دادا کی ملکیت ہوا کرتا تھا- جب کبھی وہ اسے کھولا کرتی تھیں تو ہم سب بچے اس کے گرد جمع ہوجاتے تاکہ اس سے خارچ لطیف خوشبو کو سونگھ سکیں اور ان کی کہانیاں سن سکیں، یہ میری والدہ کا ذاتی ذخیرہ تھا اور مجھے بعد میں پتا چلا کہ لطیف خوشبو کستوری کے ایک بیگ اور پام پتوں کے مسودوں اور شیر کے پنچےسے آتی تھی جس پہ سمونے کا پانی جڑھا ہوا تھا۔ ان میں سب سے قیمتی شئے مشیمی(حاملہ بلی کی نال)جس کے بارے میں میری ماں کہا کرتی تھی کہ دنیا میں سب سے مشکل شئے اس کو حاصل کرنا ہے۔ میری ماں حیرت سے آنکھیں پھیلائے بچوں کو بتایا کرتی تھں کہ اگر کوئی واقعی کوئی بلّی کو اس میشمی کو اس کو دینے پہ راضی کرلے تو لکشمی دیوی کبھی تمہارا گھر چھوڑ کر نہیں جائے گی، وہ ہمیں اپنے قیمتی مرجان کی مالائیں دکھایا کرتی تھیں جو ایک درباری عورت کے ہار سے لیے گئے تھے کیونکہ جو عورت اسے پہنتی ہے وہ کبھی بیوہ نہیں ہوگی۔ وقت کے ساتھ ساتھ انھوں نے ان مرجانوں میں سے کافی کو دوسری عورتوں کو تقسیم کردیا تھا تر اب ان کے پاس چند مرجان بچ رہ گئے تھے۔پام کے پتے کا ایک مسودہ تھا جس پہ میری والدہ کی خوش خط لکھائی سے رگھوونش،منس اور بھوج پربندھ سے ماخوذ سطریں لکھی ہوئی تھیں۔ میر خیال ہے کہ میری بیٹی مرینال کے پاس بھی کچھ ٹکڑے ایسے ہوں گے۔

میرے اپنے خود کے خزانے میں ٹیگور کے ہاتھوں سے بنا میرا اسکیچ ہے جس کے نیچے ان کی اپنی لکھائی میں میرے لیے دعائيہ سطریں لکھی ہیں، ایک خط ہے جواہر لال نہرو کا جو انھوں نے کبھی میرے والد کو لکھا تھا، نند لال باسو ، گوری دی، جمنا دی اور وینائیک مسوجی کی بنائی چند پینٹنگز ۔دو شاندار واٹر کلر جو مجھے ابانندریناتھ ٹیگور اورنندلال باسو نے تحفہ کیے تھے جب میری شادی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔ ان تمام کو میں نے اپنے بچوں میں بانٹ دیا ہے۔

پھر بھی کچھ ایسی قیمتی چیزیں ہیں جن کا میں اپنے سے جدا ہونا برداشت نہیں کرسکتی۔ ان میں دو تومانک دا کے طویل خطوط ہیں جو ان کی خوبصورت لکھائی میں ہاتھ سے بنائے کاغذ پہ لکھے گئے۔ چند ماہ پہلے ایک فین کی لچھے دار باتوں میں آکر میں نے وہ دونوں اس کی پتنی کو دینے کے لیے اس کے حوالے کر ڈالے جو رے کے کام پہ ریسرچ کررہی تھی۔ کتنا بیوقوفانہ کام کیا میں نے۔ اس نے وعدہ کیا تھا دو دن مين لوٹانے کا لیکن اس کے بعد تو وہ واپس ہی نہیں لوٹا۔ میں مزید چند دن انتظار کیا پھر اپنے ایک دوست کی مدد سے جو پولس میں ہے میں نے ان کو واپس لیا۔ اب وہ محفوظ ہیں واپس میرے پاس۔ اس کے علاوہ میرے پاس مانک دا اور ہماری اکٹھے کی تصویر ہے جو اس وقت کھینچی گئی تھی جب مانک دا فلم “شطرنج کے کھلاڑی” کی شوٹنگ کے لیے لکھنؤ آئے تھے۔

سالوں پہلے جب مانک دا ایک چھوٹے سے لڑکے تھے تو وہ اپنی آٹوگراف بک رابندرناتھ ٹیگور کے پاس لیکر گئے تو ٹیگور نے یہ سطرین ان کے لیے لکھیں:

Bahu din dhare bahu krosh doore
Bahu vyay kari bahu desh ghure
Dekhite giyechchi parvat-mala,
Dekhit giyechchi sindhu |
Dekha hoy naai chakshu meliya
Ghar hote shudhu dui paa pheliya
Ek ti dhaner shisher upare
Ek ti shishir-bindu |

میں کئی دن تک میلوں چلا ، وقت اور پیسہ پہاڑوں، سمندروں کو دیکھنے میں خرچ کیا – ميں نے ہر شئے وہاں دیکھی لیکن کبھی میں وہاں شبنمی قطرے کو جھوم پڑے ہوئے نہیں دیکھا جیسے وہ میرے وطن میں دھان کے کھیت میں جھوم کر گرتے ہیں۔

کس قدر ٹیگور نے درست پیشن گوئی کی تھی جب انہوں نے یہ سطریں لکھی تھیں! ستیہ جیت رے ساری دنیا گھومے اور وہ دھرتی ماتا میں موجود عظیم الشان پہاڑی سلسلوں اور سمندروں کو دیکھا کئے لیکن پھر بھی وہ کبھی اپنے وطن میں دھان کے کھیتوں میں پڑے شبنمی قطرے کی خوبصورتی کو نہیں بھولے۔

اصل مضمون ہندی میں ‘ایکتی ششر بندو” “رے ٹروسپیکٹو 2001” میں شایع ہواجسے ستیہ جیت رائے کی یاد میں تالیف کیا، ایڈیٹ اور شایع کیا اندرانی موجمدار نے نئی دہلی 2020ء میں۔ ہم شکر گزار ہیں گوپا موجمدار کے جو ستہ جیت رائے کے کام کو ترجمہ کرنے والوں میں ممتاز حثیت کے مالک ہیں۔ جنھوں نے اس خاص مضمون کی طرف ہماری توجہ کرائی۔ ہم ارا پانڈے کے مشکور ہیں جنھوں نے ہندی سے انگریزی میں اسے شایع کیا۔

The original article in Hindi, has been published as Ekti shishir bindu! in RayTrospective2001: A Celebration, compiled, edited, and published by Indrani Majumdar (New Delhi, 2002). We gratefully acknowledge Gopa Majumdar, noted translator of Satyajit Ray’s work among others, for bringing to our attention this particular article. We also thank Ira Pande for translating this article into English

https://www.parabaas.com/satyajit/articles/pShivani.html


شیئر کریں: