فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم، خاموش امت مسلمہ روزوں اور عبادت میں مصروف

شیئر کریں:

تحریر عمید اظہر

مسلمانوں کے مقدس مہینے میں اسرائیلی قابض فورسز کی طرف سے فلسطینوں پر مظالم کا سلسلہ شدت اختیار
کر گیا ہے۔ اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں کے درمیان مقبوضہ بیت المقدس میں جھڑپیں جاری ہیں۔ ایک ہفتے
سے جاری پرتشدد کارروائیوں میں ڈیڑھ سو سے زائد فلسطینی زخمی ہو چکے ہیں۔ درجنوں فلسطینی گرفتار ہیں۔
یہی نہیں بلکہ فلسطینیوں پر غزہ میں ماہی گیری پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے اب وہ مچھلی کا شکار بھی
نہیں کرسکیں گے۔

اوسلو معاہدے کے مطابق فلسطینی 20 ناٹیکل مائلز تک کے پانی میں‌ مچھلیوں‌ کا شکار کر سکتے ہیں لیکن
اس معاہدے پر کبھی عمل درآمد نہیں کیا گیا پہلے 12 ناٹیکل مائلز اور پھر اب صرف 9 ناٹیکل مائلز کے
علاقے تک انہیں محدود کر دیا گیا۔
تازہ پابندی کی وجہ سے تقریبا 2 ہزار افراد کا روزگار بند ہو گیا اور 20 لاکھ آبادی کے اس علاقے کے
لوگ مچھلی سے بھی محفروم ہو جائیں‌ گے۔

اسرائیل کے قدآمت پسند یہودی رہنماؤں نے دھمکی دی ہے اگر فلسطینی شہریوں نے احتجاج نہ روکا تو
اسرائیل مغربی کنارے پر بڑا حملہ کرسکتا ہے۔

مقبوضہ بیت المقدس میں کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب اسرائیل نے دمشق گیٹ پر رکاوٹیں کھڑا کر کے
فلسطینوں کا قبلہ اول کے لیے راستہ روکنا چاہا۔

اسرائیل جانتا ہے کہ مسلمان ماہ رمضان میں بہت زیادہ عبادت کرتے ہیں۔ اسی لیے فلسطینی مسجد اقصی
میں عبادت کرنا چاہتے ہیں لیکن اسرائیل نے ان کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں۔

دمشق گیٹ پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کا مقصد فلسطینیوں کو مسجد اقصی سے آنے سے روکنا ہے۔ اس غیرقانونی
عمل پر فلسطینی بھرپور ردعمل دے رہے ہیں۔ نہتے نوجوان ساری ساری رات صیہونی فوجیوں کے خلاف
احتجاج کر رہے ہیں۔

اسرائیلی فوج کی طرف سے مظاہرین کے خلاف گھوڑے، ڈنڈے اور آنسو گیس کا استعمال کیا جارہا ہے۔ پرامن
مظاہرین پر طاقت استعمال کی گئی حماس نے راکٹس سے اسرائیل کو جواب دیا۔ چند روز کے دوران 40 سے زائد
راکٹ داغے جا چکے ہیں۔

اس وقت مشرقی مقبوضہ بیت المقدس میں شدید کشیدگی ہے۔ اس صورت حال میں عربوں نے نہ صرف آنکھیں
بند کی ہوئی ہیں بلکہ یروشلم کے مقدس مقامات کی نگہداشت کے حق کے حصول کے لیے اسرائیل کو سہولت
کاری فراہم کی جارہی ہے۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اسرائیل کے ساتھ مل کر اردن کے بادشاہ عبداللہ دوئم کا تخت الٹنے کی
سازش کی تھی۔

اس سازش کے بدلے سعودی عرب یروشلم کے مقدس مقامات کی نگہبانی کا حق لینا چاہتا تھا۔ اس وقت ان مقامات
کی نگہداشت اردن کے پاس ہے۔

فلسطینیوں کا کہنا ہے سعودی عرب مغربی کنارے پر اسرائیل کی غیرقانونی آبادکاری اور فلسطینیوں کی نسل کشی
میں اسرائیل کے سہولت کار کا کام بھی کر رہا ہے۔

پچھلے سال ستمبر میں اسرائیل کے ساتھ عرب ممالک متحدہ عرب امارات، بحرین، تیونس اور سوڈان سفارتی
تعلقات بحال ہو چکے ہیں۔ ان ممالک کی جانب سے فلسطینیوں پر کیے جانے والے مظالم پر مجرمانہ خاموشی ہے۔

دنیا میں 57 مسلمان ممالک ہیں اور دنیا کی تقریبا 8 ارب کی آبادی میں 2 ارب مسلمان ہیں۔ اسرائیل
کی آبادی ایک کروڑ بھی نہیں ہے لیکن اس کے باوجود مسلمان ممالک اپنے معاشی مفادات کی وجہ سے
فلسطینیوں کے حق آواز بلند نہیں کرتے۔

ترکی ہو، ملائشیا یا سعودی عرب سب سب نے خاموشی ساد رکھی ہے صرف ایک پاکستان ہے جس نے اسرائیلی
مظالم کی کھلم کھلا مزمت کی ہے باقی سب انسانی زندگیوں پر تجارت کو فوقیت دیتے ہوئے رمضان کی عبادت
میں مصروف ہیں۔


شیئر کریں: