اسمبلیاں توڑے جانے کا خدشہ، عید سے پہلے بڑی “ہلچل” کا امکان

شیئر کریں:

رپورٹ علیم عثمان

تین مارچ کی رات وزیراعظم عمران خان کے سرکاری سیکیورٹی اسٹاف میں اس وقت “تھرتھلی” مچ گئی جب
عمران خان پرائم منسٹر ہاؤس سے گاڑی خود ڈرائیو کرتے ہوئے کسی پروٹوکول اور سیکیورٹی کے بغیر اکیلے
کہیں نکل گئے ۔

طاقتور لوگوں کی دوڑیں کیوں لگیں؟

وزیراعظم اسلام آباد سے سینیٹ کی جنرل نشست پر اپوزیشن کے متفقہ امیدوار یوسف رضا گیلانی کے ہاتھوں
بر سر اقتدار پی ٹی آئی کے امیدوار وفاقی وزیر خزانہ حفیظ شیخ کی شکست پر اس قدر دل برداشتہ اور صدمے
میں تھے کہ اکیلے گاڑی چلاتے ہوئے اسپیکر ہاؤس پہنچے۔

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے کہا ” میں اسمبلی توڑنے لگا ہوں آپ کے پاس مشاورت کے لئے آیا ہوں” اگلی
صبح وزیراعظم کے اس ہنگامی اہم فیصلے سے “پنڈی والے” آگاہ ہو چکے تھے چنانچہ اگلے دن دونوں باوردی چیف
یعنی دونوں عسکری “بڑے” دوڑے دوڑے ملاقات کے لئے عمران خان کے پاس پہنچے۔ ذرائع کے مطابق انہیں سمجھایا
کہ ایسا انتہائی قدم نہ اٹھائیں اور سسٹم کو چلنے دیں۔

ذرائع کے مطابق طاقتور عسکری شخصیات نے وزیراعظم سے کہا کہ وہ جذبات سے مغلوب ہو کر انتہائی قدم اٹھانے
سے گریز کریں۔ اس کی بجائے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لے لیں جو انہیں یقینی طور پر دلا دیا جائے گا تاکہ وہ بے یقینی کی جس کیفیت کا شکار ہیں اس سے باہر آسکیں۔
ذرائع کے مطابق 3 مارچ کو اسلام آباد کی جنرل سیٹ کے الیکشن کے بعد آصف زرداری کو پہلے ہی مخصوص ویمن سیٹ پر بھی “معجزہ” دکھانے سے روک دیا گیا تھا تاکہ وزیراعظم زیادہ دلبرداشتہ ہو کر عجلت میں کوئی انتہائی قدم نہ اٹھا بیٹھیں۔ اسی طرح چند روز بعد وزیراعظم کے لئے اعتماد کا ووٹ حاصل کرلینا بھی یقینی بنا دیا گیا

Cabninet

کابینہ کا کوئی وزیر عمران خان کے ساتھ نہیں رہا؟

لیکن گزشتہ منگل کو وزیراعظم عمران خان اس وقت سکتے میں رہ گئے جب فرانس کے سفیر کی ملک بدری
کے بارے میں قرارداد ، اس مقصد کے لئے خصوصی طور پر بلائے گئے قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش کرنے پر پوری وفاقی کابینہ میں سے ایک بھی وزیر آمادہ نہ ہوا۔
منگل کے روز وزیراعظم عمران خان پارلیمنٹ ہاؤس میں اپنے چیمبر میں موجود تھے وہ قومی اسمبلی کے اس
خصوصی سیشن میں ایوان سے خطاب کرنا چاہتے تھے مگر جب انہوں نے اپنے چیمبر میں وفاقی وزراء کے خفیہ غیر رسمی اجلاس میں اس قرارداد اجلاس میں پیش کرنے کے لئے کہا تو وزیر داخلہ شیخ رشید نے یہ کہتے ہوئے معذوری ظاہر کردی “میری طبعیت خراب ہے”۔ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نورالحق قادری نے بھی کوئی عذر پیش کرتے ہوئے معذرت کرلی۔ جب تمام وزراء میں سے کسی کو بھی یہ قرارداد ہاؤس میں پیش کرنے کے لئے تیار نہ پایا تو وزیراعظم نے میانوالی سے پی ٹی آئی کے ایم این اے امجد نیازی کو اپنے ذاتی تعلق کی بنا پر بطور پرائیویٹ ممبر قرارداد پیش کرنے پر تیار کیا۔
اپنی ٹیم کے رویہ پر ششدر قائد ایوان نے ایوان سے اپنے خطاب کا پروگرام ہنگامی طور پر منسوخ کیا۔

عمران خان مزید کام جاری رکھنے پر تیار نہیں

حالیہ ہفتوں میں کالعدم تحریک لبیک پاکستان اور” جہانگیر ترین فیکٹرز نے وزیراعظم پر ان کی”سیاسی اوقات”
واضح کردی۔ انہیں پھر سے اسمبلیاں توڑ دینے کے انتہائی اقدام کا فیصلہ لینے پر مجبور کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان ان کی جماعت کے اندر حالیہ دنوں میں تیزی سے ہونے والی منفی یا دوسرے لفظوں میں حوصلہ شکن سیاسی پیش رفت کے باعث بری طرح حوصلہ ہار چکے ہیں اور مزید “کام جاری رکھنے” پر تیار نہیں ہیں۔
وزیراعظم کے دل و دماغ پر یہ احساس غلبہ پاتا جارہا ہے کہ ان کی پارٹی ان کے ساتھ نہیں رہی۔ جمعہ کے روز فرانس کے سفیر کی بابت قرارداد قومی اسمبلی کے ایجنڈے میں شامل ہی نہیں تھی۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم کو خفیہ رپورٹس میں بتایا گیا ہے “خدشہ ہے جہانگیر ترین کے حامی ایم این ایز
بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے” انٹیلیجنس رپورٹس کے مطابق تحریک لبیک بھی عید کے بعد حکومت پر کوئی بڑا دھاوا بولنے کا پروگرام بنا رہی ہے جس کی قیادت نے حالیہ معرکے میں بھی حکومت کے مقابلے میں بظاہر کامیابی حاصل کی ہے۔ 2 اہم شرائط کے بدلے 21 اپریل کا اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ اور دھرنا مؤخر کیا۔
ان شرائط میں فرانس کے سفیر کو پاکستان سے نکال دینے کی بابت قرارداد بلا تاخیر قومی اسمبلی میں پیش
کرنا اور کالعدم “ٹی ایل پی” کے گرفتار کارکنوں کی فوری رہائی شامل تھی جبکہ اس کے قائد سعد رضوی نے یہ
کہہ کر رہا ہونے سے انکار کرکے حکومت پر اخلاقی برتری بھی حاصل کرلی کہ “میں اپنی گرفتاری کے خلاف
قانونی جنگ لڑوں گا”

اسمبلیاں توڑے جانا یقینی ہو گیا؟

مبصرین کا خیال ہے کہ اس صورت حال میں وزیراعظم عمران خان احساس سے مغلوب ہوتے جارہے ہیں کہ وہ اپنی
پارٹی اور حکومتی ٹیم یعنی کابینہ میں اکیلے رہ گئے ہیں اور بحران کی صورت حال میں ان کے ساتھ کوئی بھی نہیں
کھڑا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے عید کے بعد ان کی حکومت کو بالخصوص کالعدم تحریک لبیک کی طرف سے
کسی بڑے بحران سے دوچار کردیئے جانے کا خدشہ ہے اس لئے وزیراعظم عمران خان اس سے پہلے ہی اسمبلیاں
توڑ سکتے ہیں۔


شیئر کریں: