دنیا کے ترقی یافتہ شہر کو جمہوریت نے تباہ کر دیا، امریکی سفیر

شیئر کریں:

تحریر شہزادہ احسن شیخ

کراچی کیا تھا یہ مجھے ایک سابق امریکی سفارت کار نے بتایا۔ 2010ء میں سیر کے لیے امریکا گیا ایک دوست مجھے نیویارک میں معمر امریکی سفارت کار کے گھر لے گیا۔ یہ صدر ایوب خان کے دور تک پاکستان میں تعینات رہے اور بھٹو کی جمہوریت میں کراچی کو تباہ ہوتے ہوئے دیکھا۔ پھر جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے بعد پاکستان سے لاطینی امریکا ٹرانسفر کر دیے گئے۔ یہ 2010ء میں رٹائرڈ زندگی گزار رہے تھے۔

کراچی 60 کی دہائی میں سیاحوں کا مرکز تھا

میں ان کے اسٹڈی روم میں ان کے سامنے بیٹھ گیا وہ بیتے دنوں کی راکھ کریدنے لگے۔ انہوں نے بتایا کراچی60ء کی دہائی میں دنیا کے بہترین شہروں میں شمار ہوتا تھا۔ یہ پرامن ترین شہر تھا دنیا جہاں کے سفارت کار، سیاح اور ہپی شہر میں کھلے عام پھرتے تھے۔ ہوٹلز، ڈسکو اور بازار آباد تھے۔

کراچی کا ساحل دنیا کے دس شاندار ساحلوں میں سے ایک ہوا کرتا تھا۔ پی آئی اے دنیا کی چار بڑی ائیر لائنز میں آتی تھی۔ یورپ، امریکا، مشرق بعید، عرب ممالک، سوویت یونین، جاپان اور بھارت جانے والے تمام جہاز کراچی اترتے تھے۔ مسافر کراچی کے بازاروں میں ایک دو گھنٹے گزار کر اپنی منزل کی طرف روانہ ہوجاتے تھے۔

ڈبل ڈیکر بسیں چلتیں اور انڈرگراؤنڈ ٹرین کا منصوبہ

شہر میں ڈبل ڈیکر بسیں چلا کرتی تھیں حکومت نے انڈر گرائونڈ ٹرین کے لیے شہر میں کھدائی مکمل کروا دی تھی اور یوں کراچی ایشیا کا پہلا شہر بننے والا تھا لیکن پھر اس نے ایک سرد آہ بھری اور کچھ دیر کے لئے خاموش ہوگیا۔ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کہا پھر کراچی میں جمہوریت آگئی اور کراچی کی تنزلی کا سفر شروع ہوگیا
جس کراچی میں میٹرو کی سہولت ہونی تھی۔ کراچی کی روشنیاں رات کو دن میں بدل دیتی تھیں ہم تمام سفارت کار کراچی کو روشنیوں کا شہر کہتے تھے۔
کراچی کے بیچ بھی لاجواب تھے ہم گورے ہفتہ اور اتوار کا دن بیچ کی گرم ریت پر لیٹ کر گزارتے تھے۔ ہم ساحل کے ساتھ ساتھ سائیکل بھی چلاتے تھے۔ کراچی میں دنیا بھر سے بحری جہاز آیا کرتے تھے ان جہازوں پر ہزاروں مسافر کراچی آتے تھے۔

کراچی جنکشن تھا

کراچی خطے کا جنکشن بھی تھا یورپ سے لوگ ٹرین کے ذریعے استنبول آتے پھر استنبول سےتہران، تہران سے کوئٹہ اور کوئٹہ سے کراچی پہنچتے۔ کراچی میں رک کر ٹرین کے ذریعے انڈیا چلے جاتے جہاں سے سری لنکا، نیپال اور بھوٹان کا رخ کرتے تھے۔
کراچی میں دنیا کی جدید ترین مصنوعات ملتی تھیں۔ کراچی بڑی گاڑیوں کی بہت بڑی مارکیٹ ہوتا تھا۔ جاپان، یورپ اور امریکا سے مہنگی گاڑیاں کراچی آتی تھیں۔ کراچی کے سیٹھ باقاعدہ بولی دے کر یہ گاڑیاں خریدتے تھے۔ کراچی کی ٹرینیں صاف ستھری اور آرام دہ تھیں۔ ٹرینوں کے اندر کھانا بھی صاف ستھرا اور معیاری ملتا تھا۔ ہم میں سے زیادہ تر سفارت کار ریٹائرمنٹ کے بعد کراچی میں قیام کے منصوبے بناتے تھے۔

بیوروکریسی محبت وطن ہوا کرتی تھی

ہم لوگ کراچی میں پراپرٹی خریدنے کی کوشش بھی کرتے تھے۔ شہر صاف ستھرا تھا فضا بہت اچھی تھی سردیوں اور گرمیوں دونوں میں درجہ حرارت معتدل رہتا تھا۔ بیورو کریسی پڑھی لکھی۔ محب وطن اور کوآپریٹو تھی۔ حکومتی عہدیدار اعلیٰ تعلیم یافتہ اور کلچرڈ تھے۔ میں نے ایوب خان کے ایک مشیر کے گھر اپنی زندگی کی سب سے بڑی پرائیویٹ لائبریری دیکھی تھی۔ لوگ بہت مہمان نواز تھے۔ شہر میں کسی قسم کی ٹینشن اور خوف نہیں تھا۔ کراچی کے کسی سفارت خانے کے سامنے سیکیورٹی گارڈ یا پولیس نہیں ہوتی تھی۔ ہم اپنے ہاتھ سے سفارت خانے کا گیٹ کھولا کرتے اور خود ہی بند کرتے تھے۔

پاکستانیوں کو دنیا بھر میں ائیرپورٹ پر ویزا ملتا تھا

پاکستان کے لیے کسی ملک کے ویزے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ پاکستانی شہری جہاز میں سوار ہوتے اور کسی بھی یورپی ملک کے ائیرپورٹ پر اترتے وہیں گرین پاسپورٹ پر ویزا لگ جاتا تھا۔ اس کی وجہ بہت دلچسپ ہے پاکستان اس وقت دنیا کا واحد ملک تھا جس میں صرف ان لوگوں کو پاسپورٹ دیا جاتا تھا جو واقعی جینوئن مسافر ہوتے تھے۔ پاکستانی شہریوں کو پاسپورٹ کے حصول کے لیے اپنے خوش حال ہونے، صاحب جائیداد ہونے اور سفر کی وجوہات کے ثبوت دینا پڑتے تھے۔
چنانچہ پاکستان کے شہریوں کے پاس پاسپورٹ ہونے کا مطلب صاحب حیثیت اور جینوئن مسافر ہونا تھا۔ اسی لیے تمام ممالک ’’ آن ارائیول‘‘ ویزہ دیتے تھے۔

غیرملکی پڑھنے پاکستان آیا کرتے تھے

پاکستان کا معیار تعلیم پورے خطے میں بلند تھا طالب علم یورپ، عرب ممالک، افریقہ، مشرق بعید، ایران، افغانستان اور چین سے تعلیم حاصل کرنے کے لیے پاکستان آتے تھے۔ کراچی اور لاہور کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھا کرتے تھے۔
امریکا اور یورپ کے پروفیسر روزگار کے لیے پاکستان کا رخ کرتے تھے۔ کراچی شہر میں ایک ہزار کے قریب غیر ملکی ڈاکٹر، طبیب اور پروفیسر تھے۔ پاکستان کا بینکنگ سسٹم جدید اور فول پروف تھا۔ بجلی، ٹیلی فون اور گیس کا انتظام بہت ہی اچھا تھا۔ سیوریج سسٹم شاندار تھا۔ کراچی میں بارش کے آدھ گھنٹے بعد سڑکیں خشک ہو جاتی تھیں۔ روزگار کے مواقع عام تھے۔ فیکٹریاں لگ رہی تھیں اور مال ایکسپورٹ ہو رہا تھا۔ ٹیلی ویژن نیا نیا آیا تھا چنانچہ کراچی کی چھتوں پر انٹینوں کی لمبی قطاریں دکھائی دیتی تھیں۔

آئی ایم ایف پاکستان کو قرضہ لینے پر مجبور کرتے

ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے عہدیدار اس وقت امریکی ایمبیسی آتے تھے اور ہمیں کہتے تھے تم کسی طرح پاکستانی حکومت کو قرضہ لینے پر مجبور کرو۔ ہم وزیر خزانہ سے بات کرتے تو وہ کہتا تھا ’’ہمیں ضرورت ہی نہیں‘ ہم پیسے لے کر کیا کریں گے‘‘۔ یہاں پہنچ کر امریکی سفارت کار نے لمبی آہ بھری اور حسرت سے کہا ’’ ہم سفارت کار اس وقت ایک دوسرے سے پوچھتے تھے کراچی 1980 تک پہنچ کر دنیا کا سب سے بڑا شہر ہو گا یا لندن اور نیویارک اور ہمارے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہوتا تھا۔
اس سفارت کار نے ایک اور لمبی آہ بھری اور کہا ’’ میں آج ٹی وی پر کراچی کے حالات دیکھتا ہوں یا پھر اس کے بارے میں خبریں پڑھتا ہوں تو مجھے بہت افسوس ہوتا ہے۔ میں بڑی دیر تک سوچتا رہتا ہوں کیا واقعی یہ وہی شہر ہے میں جس میں پندرہ سال رہا اور میں جسے دنیا کا شاندار ترین شہر سمجھتا تھا۔ جہاں سنہ 1974 تک جمہوریت کا کھوکھلا نظام نہیں ہوتا تھا پھر 1974 سے جمہوریت شروع ہوئی اور کراچی تباہی کی طرف گامزن ہونا شروع ہوا‘‘۔
زندہ باد جمہوریت زندہ باد

(موصوف پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز کے منیجنگ ڈائریکٹر اور صعنت و پیدوار کے وفاقی وزیر رہ چکے ہیں)


شیئر کریں: