کورونا سے متاثرہ ایٹمی پاورز پاکستان بھارت تعلقات میں میڈیا کا کردار

شیئر کریں:

تحریر ندیم رضا

پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ 7 دہائیوں سے جاری ہے۔ حالات اس قدر بھی خراب ہوئے کہ
نوبت جنگوں تک جاپہنچی اور کبھی سرحدوں پر تیار فوجیں بغیر گولی چلائے پیچھے ہو گئیں۔

اس کے برخلاف دونوں ملکوں کے عوام کشیدہ حالات میں بھی بہتر تعلقات کے خواہاں رہے ہیں۔ خصوصا جب
بھی وہائی امراض اور قدرتی آفت آئی دونوں جانب سے مدد کی پیشکیں ہوئیں۔ اب پھر کچھ ایسی ہی
صورت حال دیکھائی دے رہی ہے۔

کورونا کی نئی لہر اور بھارت

کورونا وائرس کی نئی لہر نے جس طرح بھارت میں موتیں باٹی ہیں اس نے امریکا، برازیل اور اٹلی کو بھی پیچھے
چھوڑ دیا ہے۔ ایک دن میں تقریبا ساڑھے تین لاکھ کورونا کے نئے مریضوں کا اضافہ ہونے لگا۔ جوہری طاقت کے
حامل ملک میں آکسیجن کی ایسی قلت پیدا ہوئی کہ لوگ سڑکوں پر دم توڑنے لگے۔ چتاؤں کو جلانے کے لیے
شمشان گھاٹ کم پڑ گئے۔ قبرستانوں میں تدفین کے لیے جگہ نہیں رہی۔

ایسے میں پاکستان کے عوام، فلاحی اداروں اور حکومت نے دکھ کی اس گھڑی میں ہمدری کا اظہار کیا۔ امداد کی
بھی پیش کش کی۔ پاکستان میں سوشل میڈیا پر بھارتی عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا جارہا ہے۔

یہ وہی سوشل اور مین اسٹریم میڈیا ہے جس نے دونوں ملکوں کے درمیان ماضی میں کشیدگی بڑھانے میں اہم
کردار ادا کیا۔ بھارتی میڈیا نے ریاستی بیانیے پر پاکستان کے خلاف جارحانہ اور جھوٹ پر مبنی رپورٹنگ کی۔ عوام
کے جزبات بھڑکائے۔ جنگی صورت حال میں میڈیا کا ہمیشہ سے اہم کردار رہا ہے اس صورت حال میں پاکستانی
میڈیا نے بھی ردعمل کے طور پر کچھ ایسا ہی کام کیا۔

اگر ایک طرف کا میڈیا جلتی پر تیل چھڑکے تو دوسرے کے لیے ممکن نہیں رہتا کہ وہ تحمل سے رپورٹنگ کرے۔
پھر جب ریاست کی پالیسی ہو تو بحیثیت ریاستی ستون میڈیا اسی پالیسی پر عمل کرتا ہے۔

ہم نے مغربی میڈیا کو بھی دیکھا ہے کہ جس نے جنگی صورت حال میں پراپگنڈا مشینری کا کردار ادا کیا۔ ویتنام،
عراق،یمن، شام اور افغان جنگ کے دوران امریکی میڈیا نے زمہ دارانہ صحافت چھوڑ کر صرف پراپگنڈا مشینری
کا کام کیا۔ اس نے بے بنیاد خبریں نشر کر کے جنگوں کے لیے راہ ہموار کی۔

آج بھی مغربی میڈیا کا جائزہ لیں تو وہ چین، روس اور ایران کے خلاف موثر پراپگنڈا کے ہتھیار کے طور پر کام
کر رہا۔ اسی طرح بھارت کی طرف سے مسلسل منفی پراپگنڈا کیا گیا اور بے بنیاد خبریں نشر کیں۔

میڈیا جنگیں کراسکتا ہے تو امن اور عوام کے مفاد میں بھی اپنا کردار ادا کرسکتا ہے۔ خارجہ پالیسی میں میڈیا
کو ہمیشہ کلیدی اہمیت حاصل رہی ہے۔ میڈیا نا مصائب حالات کے دروان امن کے لیے ذہن سازی میں
اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

جیسا کہ پاکستان کے میڈیا نے ماضی میں امن کی آشا کے نام سے مہم چلائی اور ایک بار پھر سے مین
اسٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا جارہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے سینئر صحافی اور ہمارے دوست محسن رضا خان نے بہت خوبصورت انداز میں
سوشل میڈیا پر دونوں ملکوں کے عوام کے جزبات کی ترجمانی کی ہے۔

“جنوبی ایشیا کی دو ایٹمی طاقتیں ایک کے پاس ویکسین نہیں اور دوسرے کے پاس آکسیجن نہیں اور آخری
میزائل تجربہ دونوں نے اسی مہینے کیا”

پاکستان کے عوام ہوں یا بھارت کے سبھی امن کے خواہاں ہیں کیونکہ جنگوں سے کبھی راحت نصیب نہیں
ہوئی۔ مٹھی بھر انتہا پسندانہ سوچ سے آراستہ لوگوں کو ہی دوسروں کا خون بہا کے تسکین ہوتی ہے۔ اسلحہ
اور بے جان سرحدوں کی حفاظت پر اگر اربوں ڈالر خرچ نہ کیے جاتے تو آج بھارت میں آکسیجن اور پاکستان
میں ویکسین ناپید نہ ہوتی۔

یورپ کیسے جڑا؟

جنگ عظیم دوئم میں تباہ و برباد ہونے والے یورپ سے ہمیں سیکھنا ہو گا۔ جو اپنے اختلافات بھلا کر اور
سرحدوں پر توانائیاں صرف کرنے کے بجائے سائنس و ٹیکنالوجی، صحت اور تعلیم پر توجہ دے کر ترقی
یافتہ ممالک بن چکے ہیں۔

میڈیا کا کردار

ریاست کے اہم ترین ستون میڈیا کے شانوں پر گہری زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سرحد کے دونوں اطراف
کے عوام کو جوڑنے سے متعلق خبریں دیکھائے۔ امن کے لیے حکومتوں کو قائل کرے اور باہمی تجارت اور میل
ملاپ کے فوائد اجاگر کرے۔ مہنگائی اور غربت کی چکی پسنے والے عوام کا مفاد یقینا دیرپا امن ہی میں
پوشیدہ ہے۔


شیئر کریں: