ریاست کن طبقات کی خدمت پہ مامور ہے؟

شیئر کریں:

کالم عامر حسینی

ماڑی گیس کمپنی نے رواں مالی سال کے جنوری-مارچ مہنوں میں 6 ارب 90 کروڑ کا خالص منافع کمانے کی
پریس ریلیز جاری کی ہے۔ 2020-21 کے پہلے نو ماہ میں کمپنی نے 23 ارب 30 کروڑ روپے کی کمائی کی تھی
یہ گزشتہ سال کی آمدنی سے 10 کروڑ روپے زیادہ ہے۔

اینگرو فرٹیلائزر کمپنی نے جنوری سے لیکر مارچ کے مہینے تک 5 ارب 70 کروڑ روپے خالص منافع کمایا ہے۔
یہ گزشتہ سال کے جنوری-مارچ مہینوں کی کمائی کے مقابلے میں 905 فیصد زیادہ ہے۔ گزشتہ سال جنوری سے
مارچ تک اینگرو فرٹیلائزر نے 571ملین روپے خالص منافع کمایا گیا تھا-
اینگرو کمپنی کے مطابق اس کی آمدنی میں سالانہ 173 فیصد اضافہ ہورہا ہے۔ جبکہ مالیاتی لاگت میں سالانہ
بنیادوں پہ 78 فیصد کمی واقع ہوئی ہے اسی اینگرو کمپنی کا دوسرا کاروبار جو اینگرو پملیمر اینڈ کیمکلز کے نام
سے ہے اس کے جنوری- مارچ کے مہینوں میں خالص منافع میں 21 گنا اضافہ ہوا ہے اور اس نے 4 ارب 10 کروڑ
کا خالص منافع کمایا ہے۔ اس کی پی وی سی کی فروخت میں 60 فیصد اضافہ ہوا ہے جو 53 ہزار ٹن تک
جاپہنچی ہے۔

روزنامہ ڈان کے مطابق آٹو فنانسنگ (قسطوں پہ گاڑیوں کی خریداری) 285 ارب روپے کے ریکارڈ ہدف کو چھو
چکی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آٹو فنانسنگ کے زریعے کاروں کی خریداری کل خریداری کے 50 فیصد ہے اور
اس میں آٹو فنانسنگ کے عمل میں بالائی درمیانہ اور ہائر انکم گروپ سے تعلق رکھنے والے افراد ہی حصّہ لے
رہے ہیں کم آمدنی والے گروپ اس میں شامل نہیں ہیں۔

ایوان ہائے تجارت و صنعت کی فیڈریشن کے صدر نے کہا ہے مقامی اور ملٹی نیشنل کمپنیمں نے ڈالر کی قیمت
میں سترہ فیصد کمی کا فائدہ عوام کو نہیں پہنچایا اپنی پروڈکٹس کی قیمتوں مں تاحال کوئی کمی نہيں کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جس وقت ڈالر کی قیمت اوپر گئی اور مقامی کرنسی سستی ہوئی تو مقامی اور ملٹی نیشنل
کمپنیوں نے اپنی پروڈکٹس کے نرخ ہفتہ وار اور مہینہ وار بنیادوں پہ زیادہ کیے فارما کمپنیوں ، کھاد، سمینٹ،
چینی بنانے والوں نے آکست سے اپریل تک ڈالر کی قیمت میں 17 فیصد کمی کا فائدہ عوام کو نہ پہنچایا

اشرافیہ کی سیاسی سودے بازیاں غیر رسمی طریقے سے ہوتی ہیں قومی اشرافیہ کے درمیان مختلف نسلیاتی
ثقافتی گروہوں اور طبقات کا جو سلسلہ سماجی مراتب ہوتا کے متعلق یہ قدرے مستحکم معاہدے بھی ہوتے ہیں۔
پاکستان کے کیس میں ریاستی ادارے بھی ان مراعاتی سودے بازیوں میں شامل ہوتے ہیں۔ ان کو بھی معاشی
وسائل اور دیگر مواقع تک رسائی میں شامل کیا جاتا ہے۔ مواقع سے مراد حکومتی اخراجات، سبسڈیز/
رعایت، لائنسز اور ریاستی و نجی سرمائے تک رسائی ہیں۔

اشرافیہ کی سودے بازیاں ایک ایسا تصور ہے جو پاکستان کی سیاسی- معشیت کا موثر منظرنامہ پیش کرتا
ہے۔ 1947 کے بعد سے اشرافیہ نے باہمی سودے بازی کی جو آج تک چلی آرہی ہے اگرچہ ان اشرافی طبقے کے
اراکین کے درمیان اکثر و بیشتر ٹکراؤ بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ اگٹر و بیشتر یوں ہوا ہے کہ عسکری اشراف نے
طبقہ اشراف کے اس اتحاد کی قیادت حاصل کرلی اور اس نے اپنے ساتھ زمیندار اشرافیہ، سرمایہ دار اشرافیہ اور
مذہبی اشرافیہ کو مراعات کے بدلے میں ساتھ ملالیا۔

ریاست کے وسائل جو پہلے ہی محدود ہیں ان کا ایک بڑا حصّہ جہاں پر فوجی بجٹ کی مد میں خرچ کیا جاتا
ہے وہیں پہ بڑے پیمانے پہ زمیندار اشرافیہ، سرمایہ دار اشرافیہ اور مذہبی اشرافیہ کو دل کھول کر سبسڈیز
دینے میں خرچ کردیا جات ہے۔ (نیاز مرتضی یہاں بھول جاتے ہیں کہ جس ترقیاتی بجٹ کہا جاتا ہے اس کا ایک
بڑا حصّہ بھی یہ ساری اشرافیہ مل بانٹ کر کھاجاتی ہے) غیر اشرافیہ طبقات پہ جو سماجی اخراجات ہونے ہوتے
ہیں ان کو کم سے کم کرنے کا سلسلہ شروع رہتا ہے۔

حال ہی میں یو این ڈی پی نے رپورٹ جاری کی ہے جس میں انھوں نے مختلف ممالک میں اشرافیہ کی سودے
بازیوں کے زریعے لی جانے والی مراعات اور ان سے بڑھنے والی عدم مساوات بارے اعداد و شمار پیش کیے ہیں۔
پاکستان سے متعلق رپورٹ میں لکھا ہے کہ پاکستان میں عدم مساوات بہت زیادہ ہے ۔ اس عدم مساوات کا
اندازہ مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں کی آمدنی کے تناسب سے لگایا گیا ہے۔ پاکستان کے
سب سے زیادہ 20 فیصد امیر ترین افراد کی آمدنی سب سے کم ترین آمدنی والے نچلی سطح کے 20 فیصد
افراد کے مقابلے میں 5 گنا زیادہ ہے۔ اوپر کے زیادہ آمدنی والے 20 فیصد امیر افراد کے اثاثوں کا فرق تو نچلے
کم ترین آمدنی والے 20 فیصد افراد سے کہیں زیادہ ہے۔ یو این ڈی پی کی یہ رپورٹ یہ بھی کہتی ہے کہ آمر
جنرل مشرف کے دور میں عام آدمی کے طبقات اور اشراف کے درمیان یہ عدم مساوات کہیں زیادہ تھی جمہوری
دور ميں اس عدم مساوات میں قدرے کمی واقع ہوئی اگرچہ معشیت کی شرح نمو(گروتھ ریٹ) کم تھا۔

اس سے یہ پتا چلتا ہے کہ جمہوریت نے کم آمدنی والے طبقے کے لیے بہتر نتائج پیدا کیے ( یہاں پر ایک ابہام
کالم نگار نے برقرار رکھا ہے جو عام طور پہ لبرل جمہوریت پسند اشرافیہ کی اکثریت کا وتیرہ ہے اور وہ یہ ہے کہ
اس نے یہ نہیں دکھایا کہ پی پی پی کے دور میں بلند آمدنی والے طبقات اور کم آمدنی والے طبقات کے درمیان عدم
مساوات کس حد تک قائم ہوئی اور مسلم لیگ نواز اور پی ٹی آئی کے دور میں اس عدم مساوات میں کتنی کمی
واقع ہوئی ۔ ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ پی پی پی ، مسلم لیگ نواز اور پی ٹی آئی کے ادوار
حکومت میں تنخواہ دار طبقے، کسان طبقے اور ایسے ہی محنت کش طبقے کی آمدنیوں کا اشراف طبقے کی آمدنی
سے جو فرق تھا وہ کتنا تھا اور کس جمہوری دور نے غیر اشراف طبقات کی آمدنیوں اور قوت خرید میں اضافہ
زیادہ کیا۔
یہ ابہام نواز شریف کیمپ کا لبرل جمہوریت پسند اشراف صحافتی کیمپ اس لیے برقرار رکھتا ہے
کیونکہ اس سے یہ کلیشے ٹوٹ جاتا ہے کہ نواز لیگ کی حکومت اور گورننس عام آدمی کے حق میں پی پی پی
کی حکومت سے بہتر ہوتی ہے۔ مثال کے طور پہ پی پی پی کے دور حکومت میں بنیادی تنخواہوں اور مراعات
میں اضافہ عام تنخواہ دار طبقے کے لیے جو ہوا اس کا موازانہ نواز لیگ کے دور حکومت سے کیا جائے گا تو پتا چلے گآ کہ پی پی پی کے مقابلے میں ان دو جماعتوں کی حکومتیں کتنی بری تھیں، ایسے ہی کسانوں کے لی سپورٹ پرائس مقرر کرنے کا موازانہ بتائے گا کہ کونسی حکومت کسان دوست کہلانے کے قابل تھی۔ اور پھر یہ دیکھا جائے کہ پی پی پی نے اپنے دور میں بجلی اور گیس کس قیمت پہ فراہم کیے اور عام شہری کو کتنی سبسڈی اس مد میں دی جبکہ دوسری حکومتوں نے کیا جبکہ پی پی پی دور میں تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک جاپہنچی تھی اور پی پی پی کی حکومت آئی ایم ایف سے معاہدہ کرنے پہ بھی مجبور ہوئی تھی لیکن نواز لیگ کے زمانے میں تیل کی قیمتيں سستی ترین شرح تک پہنچیں، ان کو سعودی عرب سے مفت تیل ملتا رہا اور پھر قرضے پہ ملتا رہا لیکن اس نے ان آسانیوں کو غیر اشراف طبقات تک منتقل نہیں کیا۔ پی ٹی ائی حکومت کا حال تو اس سے بھی برا ہے)

یو این ڈی پی کی رپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ پاکستان عدم مساوات کے اعتبار سے جنوبی ایشیائی ممالک کی فہرست میں درمیان میں آتا ہے لیکن پاکستان کا جو انسانی ترقی کا اشاریہ ہے وہ جنگوں سے بدحال ممالک اور افغانستان سے تو بہتر ہے لیکن باقی سب سے یہ نیچے ہے۔( پاکستان میں انسانی ترقی کی صورت حال پہ یو این ڈی پی نے رپورٹ پیش کی ہے اس کے مطابق پاکستان میں انسانی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی روکاوٹ پاور اور رسائی کا عام آدمی پہ مشتمل طبقات تک بہت محدود ہونا ہے جبکہ 2020 کی رپورٹ ميں یہ بتایا گیا کہ پاکستان کے اندر علاقائی اعتبار سے انسانی ترقی کا اشاریہ سب سے زیادہ سندھ اور کے پی کے میں ترقی کررہا ہے۔ پاکستان کا مین اسٹریم میڈیا اس چیز کو ہائی لائٹ نہیں کرتا کیونکہ اس نے پی پی پی کی گورننس کے بارے میں‌جو کلیشے بنارکھا ہے اس سے اس کو زک پہنچے گی اور ان کا مہاتیر محمد یا رجب طیب اردگان کے بارے میں‌ ترقی کی داستان جھوٹ لگے گی)-
پاکستان پہ ایچ ڈی آر رپورٹ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ پاکستان میں سب سے کم ترقی پذیر اضلاع میں 15 اضلاع بلوچستان کے ہیں اور یہ ایک سوالیہ نشان ہے پاکستان مسلم لیگ نواز کی اتحادی حکومت کے پانچ سالوں اور پی ٹی آئی کی اتحادی حکومت کی تین سالہ کارکردگی پہ اور یہ سی پیک پروجیکٹ چلانے والی اتھارٹی کی کارکردگی پہ بھی سوالیہ نشان ہے اور ان تمام کارپوریٹ اداروں کی کارپوریٹ سماجی ذمہ داری پہ بھی سوالیہ نشان ہے جو بلوچستان کی معدنیات، گیس اور دیگر چیزوں سے فائدہ اٹھارہے ہیں۔

پاکستان ویکسینیشن میں غریب ترین ملکوں سے بھی کافی پیچھے رہ گیا

رپورٹ زمیندار اشرافیہ ، سرمایہ داروں ، تاجروں اور وردی بے وردی اشرافیہ کی مراعات کا جائزہ لیتی ہے جو ان کو ٹیکسوں کی مد میں ملتا ہے(یہ ٹیکس چوری کرتے ہیں یا اس سے استثنا لے لیتے ہیں) پھر ان کو آؤٹ پٹ مارکیٹ ریٹ سے کم قیمت خریدنے کی سہولت ملتی اور اپنی آؤٹ پٹ کو مہنگا بیچنے کے مواقع ملتے ہیں۔ کیونکہ کہیں تو ان کو سبسڈیز ملتی ہے گیس، بجلی، تیل پہ ری بیٹ ملتا ہے، اور ایسے ہی ریاستی قوانین کو آسانی سے توڑنے کا موقعہ مل جاتا ہے(جیسے حال ہی میں اس اشرافیہ کے ایک بڑے حصّے نے جو فلور ملز اور شوگر ملز کارٹیل پہ مشتمل تھا کھربوں روپے کمائے اور قیمتوں کو آسمان پہ پہنچادیا)۔

پاکستان کی ریاست سالانہ 370 ارب روپے کی مراعات زمیندار اشرافیہ کو دیتی ہے۔ یہ 725 ارب روپے کی سالانہ مراعات کارپوریٹ سیکٹر کو دیتی ہے۔ 600 ارب روپیا سالانہ تاجروں کو مراعات دیتی ہے۔ اور 250 ارب روپے سالانہ فوجی اشرافیہ کو مراعات دیتی ہے۔ یہ کل دو کھرب روپیا سالانہ کی مراعات بنتی ہیں جو پاکستانی ریاست اشراف طبقات کو دے دیتی ہے۔ جبکہ پاکستان نے اس سال ایک کھرب 30 ارب روپیا تعلیم، صحت اور دوسرے سماجی اخراجات کی مد میں خرچ کیا جہاں خرچ کرنا سب سے زیادہ ضروری ہے۔

یو این ڈی پی کی ایچ ڈی ر رپورٹ پاکستان میں ٹیکس، مارکیٹ اور سماجی اخراجات سے متعلق پالیسیوں کو تبدیل کرنے پہ زور دیتے ہوئے ان پالیسیوں کو اشراف نواز سے غیر اشراف نواز کرنے پہ زور دیتی ہیں۔ لیکن یہ پاکستان میں ہوگا کیسے؟ مرتضی نیاز یہ بات تو ٹھیک کہتے ہیں کہ جب اقتدار اور وسائل تک رسائی ہے ہی اشرافیہ کی دسترس میں تو وہ کیسے ان پالیسیوں کو غیر اشراف طبقات کی طرف جانے دیں گی؟

پاکستان میں اس وقت سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ریاست پہ اس حوالے سے جو عناصر دباؤ بناسکتے تھے جن میں سول سوسائٹی سرفہرست ہے جس کا حصّہ بار ایسوسی ایشنز، صحافتی تنظمیں، ادبی تنظمیں، عوامی سیاست کرنے والی جماعتیں، ٹریڈ یونینز ، طلباء یونینز اور کسان یونینز وہاں پہ بھی ایک اور طرح کی اشرافیہ قابض ہے جو عوام کے مفادات سے کہیں زیادہ انہی اشرافیہ کے باہمی ٹکراؤ اور تصادم سے ان میں پیدا ہونے والی تقسیم میں کسی ایک طرف کھڑی ہوتی ہے۔ وہ انسانی ترقی کے وسائل کے خرچ میں اشراف اور عوامی طبقات پہ خرچ کے فرق کو ایشو بنانے کی بجائے ایک اشراف طبقے کے خلاف دوسرے اشراف طبقے کے حق میں کمپئن کرتی نظر آتی ہے۔ پاکستان کی اس وقت اربن سول سوسائٹی ایلیٹ کی اکثریت نواز شریف جو اپنے ساتھ ایک طرف تو کارپوریٹ سرمایہ داروں کی بڑی لابی رکھتا ہے تودوسری طرف اس کی جڑیں ودردی بے وردی اشرافیہ اور ججز اشرافیہ میں بھی مضبوط ہیں اور وہ اپنے ذاتی مفادات کی بحالی کو جمہوریت اور سویلین سپرمیسی کا نام دیتا ہے۔ دوسری طرف بھی حالات اچھے نہیں- پی پی پی اگرچہ ادارہ جتی استحکام کی بات کرتی ہے لیکن وہاں بھی سیاست پہ اشرافیہ کا کنٹرول زیادہ ہے جبکہ عوامی طبقات کی پاور وہاں بھی فی الحال مغلوب ہے۔ تو عوامی طبقات کے باشعور اراکین کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ وہ سیاسی جماعتیں ہوں، تعلیمی ادارے ہوں، کام کرنے کی جگہیں ہوں، بار ایسوسی ایشنز ہوں، دیہات ہوں یا شہری غریب علاقے ہوں ان کو وہاں پہ عوامی طبقات کے مفادات کا تحفظ کرنے والے کارکنوں اور رہنماؤں گی ضرورت ہے تبھی اشراف طبقات کے لیے مراعات کا جال بچھانے والی پالیسیوں کو عوامی خدمت کی پالیسیوں میں بدلا جاسکے گا۔


شیئر کریں: