اربوں کے قرضے اور 25 ارب کے نئے نوٹ‌ بھی حکومتی اخراجات پورے نہ کرسکے

شیئر کریں:

اربوں روپے کے قرضے بھی اخراجات پورے نا کر سکے حکومت نے نئے نوٹ چھاپنے کا بھی نیا ریکارڈ بنا دیا
اپریل کے پہلے ہفتے کے دوران یومیہ سوا پچیس ارب روپے سے زیادہ کے نئے نوٹ جاری کیے گئے ملک میں
زیر گردش نوٹوں کی مالیت ملکی تاریخ میں پہلی بار 70 کھرب روپے سے بھی تجاوز کر گئی۔

حکومت کے اخراجات پورے کرنے کے لیے اربوں روپے کے قرضے بھی کم پڑ گئے تو نئے نوٹ چھاپنے کا سلسلہ بھی
تیز ہو گیا۔ اسٹیٹ بینک کے اعدادو شمار کے مطابق اپریل کے پہلے ہفتے کے دوران حکومت کی طرف سے
مجموعی طور پر 177 ارب 37 کروڑ 20 لاکھ روپے کے نئے نوٹ جاری کیے گئے جو ایک نیا رکارڈ بھی ہے۔


نئے نوٹوں کے اجرا سے اس دوران ملک میں زیر گردش نوٹوں کی مجموعی مالیت پہلی بار 70 کھرب 25
ارب 23 کروڑ 10 لاکھ روپے کی رکارڈ سطح پر پہنچ گئی۔ سال 2021 کے پہلے 15 ہفتوں کے دوران حکومت
کی طرف سے مجموعی طور پر 481 ارب 40 کروڑ روپے کے نئے نوٹ جاری کیے جا چکے ہیں۔ رواں مالی سال
کے نو ماہ کے دوران حکومت نے بجٹ اخراجات پورے کرنے کے لیے کمرشل بینکوں سے مجموعی طور پر
20 کھرب 77 ارب روپے کا نیا قرض بھی لیا۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق حکومتی اخراجات میں آمدنی کے مقابلے میں زیادہ اضافہ ہو رہا ہے اور حکومت
آمدنی کے مطابق خرچ کرنے کی بجائے اخراجات پورے کرنے کے لیے نئے نوٹ چھاپنے شروع کر دیتی ہے جو
مہنگائی کی ایک بہت بڑی وجہ ہے۔


شیئر کریں: