عراق میں امریکا کے فوجی اڈاے پر راکٹوں کی برسات

شیئر کریں:

عراق میں امریکا کے فوجی اڈے پر متعدد راکٹ فائر کیے گئے ہیں لیکن غیرملکی فوجیوں کو کوئی نقصان
نہیں ہوا۔ کسی گروپ نے زمہ داری قبول نہیں کی نامعلوم گروپس کی جانب سے فائر کیے گئے پانچ راکٹ
اس علاقے میں گرے جہان ایف سولہ طیارے کھڑے تھے۔ تمام طیارے محفوظ رہے اور چند عراقی اہل کار
زخمی ہوئے۔

دنیا کے بااثر مسلمان ملک سعودی عرب ایران کا کئی سال بعد پہلا رابطہ

عراق میں محض 2500 فوجی رہ گئے اور ان کی واپسی کا اعلان بھی کیا جا چکا ہے لیکن حتمی تاریخ کا اعلان
ابھی نہیں کیا گیا۔ امریکی فوج نے مارچ 2003 میں صدام حسین کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے حملہ کیا اور 2011
میں فوجیں واپس چلی گئیں لیکن 2014 میں عراق کے بعض حصوں میں داعش کے جنگجوں نے قبضہ کر لیا تھا۔

عراق کی حکومت نے امریکی فوج سے درخواست کی جس پر دوبارہ واپسی ہوئی۔ جنوری 2020 میں ایران کے
جنرل قاسم سلیمانی سمیت 8 فوجیوں کی امریکی میزائل حملے میں شہادت کے بعد عراقی پارلیمنٹ نے
مشترکہ قرار داد کے ذریعے غیرملکی فوجیوں کو ملک سے نکالنے کی منظوری دی۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ باقی ماندہ 2500 امریکی فوج عراق سے کب واپس جاتی ہیں۔ افغانستان سے تو امریکا
نے اپنے 2500 فوجیوں کی مرحلہ وار واپسی کا اعلان کر دیا ہے۔


شیئر کریں: