آہ فرتاش سید “کون کہتا ہے کہ یہ سب کچھ فنا ہو جائے گا”

شیئر کریں:

تحریر عامر حسینی

کل قاضی عابد کی پوسٹ سے پتا چلا کہ فرتاش سید کورونا کی وجہ سے بیمار ہیں اُن کے لیے دعا کیجیے اور
آج جب میں سوکر اٹھا ہوں تو سیاہ پس منظر میں سفید رنگ میں لکھا سجاد نعیم کا اسٹیٹس بتارہا ہے کہ
فرتاش سید ہم میں نہیں رہے-

ایک دَم سے یہ خبر مجھ پہ بجلی بن کر گری اور کچھ دیر میں یونہی ساکت بیٹھا رہا اور موبائل کی اسکرین پہ
سجاد نعیم کے لکھے پیغام کو گھورتا رہا- پھر میری آنکھوں سے آنسو ڈھلکے اور میرے گالوں میں جذب ہوگئے –

ابھی گزرے مہینے کی بات ہے جب میں لاہور گیا ہوا تھا تو حسب معمول نابھہ روڈ پہ مدینہ ہوٹل ٹھہرا ہوا تھا-
رات کو مجھے عابد حسین عابد نے کال کرکے بتایا کہ وہ پرانی انار کلی میں یاسین ہوٹل پہ آکر بیٹھ گئے ہیں تو
میں بھی آجاؤں میں اپنے ہوٹل سے نکلا اور عابد بھائی کو یاسین ہوٹل پہ ملا اور کہا کہ میں نے کھانا کھانا ہے تو
وہ مجھے عبدالرحمان ہوٹل پہ لے گئے جہاں ہم نے کھانا کھایا اور وہاں سے واپس آرہے تھے تو میری نظر خراماں
خراماں چلتے فرتاش سید پہ پڑی، میں نے عابد بھائی کو بتایا، انہوں نے فرتاش کو آواز دی، فرتاش نے مڑکر دیکھا
اور تیزی سے عابد کی طرف بڑھے، گرمجوشی سے ہاتھ ملایا اور مجھ سے ہاتھ ملاتے ہوئے، میں نے محسوس کیا
کہ اُن کی آنکھوں میں شناسائی کی رمق نہ تھی-

عابد بھائی نے یہ بات فوری نوٹ کرلی اور فرتاش سے کہنے لگے، آپ شاید عامر حسینی کو جانتے نہیں ہیں، اس پہ
فرارش سید نے بے ساختہ کہا، کہاں ہوتے ہیں وہ آج کل؟ ہم یہ سُن کر ہنس پڑے اور فرتاش کو عابد نے کہا آپ
کے سامنے تو کھڑے ہیں-
فرتاش فوری مجھ سے بغل گیر ہوگئے اور کہنے لگے کہ ایک تو تُم نے وزن بہت بڑھالیا ہے، دوسرا داڑھی اور سر
کے بال سارے سفید ہوگئے ہیں، میں واقعی پہچان نہیں پایا- فرتاش سید بھی ٹھیک ہی کہہ رہے تھے ہماری
باہم ملاقاتیں تھی ہی کتنیں-

میں پہلی بار فرتاش سید کو خانیوال میں کھوکھر آباد چوک سے زرا آگے سڑک کے کنارے بنے ایک چائے کے
ڈھابے پہ ملا تھا- جنرل مشرف کامارشل لاء لگے کچھ دن ہوئے ہوں گے کہ خانیوال سے تعلق رکھنے والے معروف
شاعر ندیم ناجد نے لینڈلائن پہ فون کرکے مجھے دن میں بتایا کہ آج کہچری چوک جسونت نگر کی بجائے
کھوکھرآباد چوک میں بٹ کے چائے ڈھابے پہ ہوگی، ایک مہمان شاعر سے بھی ملاقات کرانی ہے- رات آٹھ بجے
انعم لائبریری واقع سولہ بلاک سے میں شیخ باغ علی کی موٹر سائیکل پہ بیٹھا اور ہم دونوں بٹ کے چائے ڈھابے
پہ پہنچ گئے – وہاں باہر چارپائیاں بچھی ہوئی تھیں اور ایک چار پائی پہ ندیم ناجد، واجد بھٹہ اور دوسری چارپائی
پہ شہزاد فیضی اور ایک اور صاحب براجمان تھے- ہم نے سلام کیا اور ہم بھی ایک چارپائی پہ جاکر بیٹھ گئے –
ندیم ناجد نے ہم دوستوں کا تعارف اُس صاحب سے کرایا جس سے ہم پہلی بار مل رہے تھے اور پھر ہم سے کہا کہ یہ فرتاش سید ہیں میلسی سے ان کا تعلق ہے اور بہت ہی اچھی شاعری کرتے ہیں- سانولے رنگ کے مالک، قد نہ نکلتا ہوا نہ بہت دبا ہوا، کلین شیو، آنکھیں ایسے جیسے خوابیدہ ہوں، سر کے بال سامنے سے اڑے ہوئے، آواز پاٹ دار، بولیں تو ایسے لگے جیسے اسٹیج پہ کھڑے ہوکر سامنے بیٹھے مجمع سے مخاطب ہوں – رات گئے تک یہ ملاقات جاری رہی اور اس ملاقات میں شیخ باغ علی اور میں غیر شاعر تھے باقی ندیم ناجد، فرتاش سید اور واجد بھٹہ تو واقعی شاعر تھے لیکن شہزاد فیضی کے شاعر ہونے کا معاملہ اُس وقت بھی کھٹائی میں پڑا ہوا تھا اور آج بھی ہے – تین سکہ بند اور ایک غیر سکہ بند شاعروں نے اپنا کلام سُنایا ہم دو سامع دل لگاکر سُنا کیے –

فرتاش سے دوسری ملاقات میلسی ایک تقریب میں ہوئی جس کی نقابت وہ کررہے تھے، بلدیہ ہال میں یہ تقریب تھی، خانیوال سے ندیم ناجد، اور راقم جبکہ کبیروالہ سے شاعر دوست فیصل ہاشمی شریک ہوئے- ہم نے ہائی ایس ویگن میں یہ یادگار سفر کیا تھا اور میلسی بلدیہ ہال میں جہاں شعراء نے اپنا کلام سُنایا وہیں میں نے “سرائیکی خطے میں اردو شاعری میں نوجوان نسل کی نمائندہ آوازیں” مضمون پڑھ کر سُنایا – فرتاش سید نقابت کے بے تاج بادشاہ تھے اور ان کی نقابت سامعین اور مہمانان گرامی کو نہ تو بور ہونے دیتی تھی، نہ سونے دیتی تھی اور برجستہ، موقعہ بر محل اشعار ایک کے بعد ایک ایسے اُن کے لبوں پہ آتا تھا جیسے ساون میں رم جھم ہوتی ہے- تقریب کے بعد کھانے کی میز پہ فرتاش سید، نعیم بھابھہ سمیت کبھی وسیب کے اردو شاعروں نے میرے مضمون کی تعریف کی – فرتاش تھوڑی تھوڑی دیر بعد ایک ہی فقرہ دوہراتے ” ارے علامہ صاحب، کمال کا مضمون پڑھا آپ نے، آپ تو نیے پرانے شاعروں کے کلام کو اچھے سے جانتے ہیں…….” یہ جو مجھے بار بار “علامہ” کہے جارہے تھے، یہ شرارت ندیم ناجد کی تھی جو جہاں جاتے چاہے میں موجود ہوتا یا نہ ہوتا میرا تذکرہ آنے پہ میرے نام کے ساتھ یہ سابقہ لگاکر ہی بات کرتے تو پہلی ملاقات میں بھی ایسا ہی ہوا، وہاں سے فرتاش نے یہ سابقہ اُچک لیا تھا اور اب بار بار گفتگو میں مجھے” علامہ” کہنے کا سلسلہ جاری تھا-

اُس کے بعد فرتاش سے ایک بار ملتان میں مجھے بہاءالدین زکریا یونیورسٹی میں شعبہ اردو کی سربراہ روبینہ کے دفتر میں ملے جہاں ڈاکٹر انوار احمد بھی موجود تھے – اُس دن مجھے یاد ہے مسلسل ہلکی ہلکی بارش ہورہی تھی اور سردی بہت بڑھ گئی تھی –

پھر ہماری ملاقات خانیوال میں ہوئی جب ہم نے کُل پاکستان مشاعرہ کرایا- یہ مشاعرہ ضلع حکومت خانیوال کے تعاون سے ہوا تھا اور پورے پاکستان سے شاعر اس مشاعرے میں مدعو تھے، نقابت کے فرائض ندیم ناجد نے ادا کیے تھے- مہمان شعراء کے اعزاز میں عشائیہ ضلع ناظم خانیوال نے سرکٹ ہاؤس میں دیا تھا- شہزاد احمد مرحوم نے اس مشاعرے کی صدارت کی تھی- اس مشاعرے میں فرتاش بھی شریک تھے اور اپنا کلام سُناکر انہوں نے خوب داد سمیٹی تھی –

اُس کے بعد مجھے یاد پڑتا ہے کہ ایک دو بار اُن سے ملتان پریس کلب میں ہوئیں ادبی سرگرمیوں کے دوران ملاقاتیں ہوئیں، پھر پتا چلاکہ وہ دوحہ قطر چلے گئے، درمیان میں آئے بھی تو میری اُن سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی – اُس کے بعد پتا چلا کہ بی زیڈ یو میں اردو ڈیپارٹمنٹ میں آگئے ہیں، پی ایچ ڈی بھی کرچُکے تھے – اتفاق تھا کہ وہاں میں جب بھی گیا تو اُن سے ملاقات نہ ہوسکی –

اب آخری ملاقات ہوئی تو وہ پرانی انار کلی میں – ہم سب دوست یاسین ہوٹل پہ بیٹھ گئے – حال احوال ہوا – اُس کے بعد فرتاش نے بڑے جوش و خروش سے بتایا کہ وہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں آگئے ہیں اور آج وہاں جشن ساحر تھا جس کی نقابت انھوں نے کی اور بہت کامیاب جشن میلہ تھا- سینکڑوں لوگ میوزیکل نائٹ میں شریک تھے- ساحر پہ دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی – وہ بہت خوش نظر آرہے تھے – اُن کا چہرہ جگ مگ کررہا تھا، آنکھیں چمک رہی تھیں اور حسب عادت وہ یہ احوال ایسے سُنارہے تھے جیسے وہ کسی جلسے میں ڈائس پہ کھڑے ہوں اور ان کے دونوں ہاتھ مسلسل حرکت کررہے تھے –

اُس دن عابد بھائی بھی موج میں تھے اور وہ اپنے علاقے کی ادبی شخصیات کے معصومانہ ادبی جھگڑوں کے دلچسپ قصے سنانے لگے – درمیان میں استاد شاعر غضنفر روہتکی کا ذکر آیا تو میں نے عابد بھائی کو ٹوکا اور کہا زرا ٹھہریں میں اس کلپ کو ریکارڈ کرلوں – سو میں نے موبائل پہ اُن کا یہ قصہ ریکارڈ کرنا شروع کردیا – اور پھر میں نے ان لمحات کو ریکارڈ کرلیا- میں نے فرتاش کو کہا کہ وہ تھوڑا سا کرسی کو عابد بھائی کے ساتھ کرلیں تاکہ وہ بھی ویڈیو می‍ں نظر آئیں – اُن لمحات میں ہم میں سے کسی کو بھی یہ اندازہ نہیں تھا کہ محض ایک ماہ گزرے گا اور فرتاش سید کے رخصت ہوجانے کی خبر آجائے گی –

فرتاش مجھے کہنے لگا کہ میں جی سی یو آکر اُس سے ضرور ملوں، طے یہ ہوا تھا کہ اگلے روز بارہ بجے میں اُسے ملوں گا لیکن اُسی دن اچانک ایک ایمرجنسی کے سبب مجھے 9 بجے صبح ہی واپس خانیوال آنا پڑا- اُس دن 12 بجے مجھے فرتاش سید نے دو بار کال کی، شومئی قسمت میں گاڑی میں سورہا تھا اور کال اٹینڈ نہ کرسکا اور واپس گھر پہنچا تو ہنگامی معاملات میں ایسا الجھا کہ بیک کال نہ کرپایا- اور یوں آج بیڈ پہ بیٹھ کر فرتاش سید کا تعزیت نامہ لکھ رہا ہوں – ایک ہنس مُکھ، خوش مزاج اور یارباش شاعر دوست ہم سے جُدا ہوگیا – خدائے عزوجل اُس کی مغفرت فرمائے، اُس کے جملہ پسماندگان کو صبر جمیل دے –

مجھے تو بس احمد مشتاق کا یہ شعر یاد آرہا ہے

کیسے آ سکتی ہے ایسی دل نشیں دنیا کو موت

کون کہتا ہے کہ یہ سب کچھ فنا ہو جائے گا


شیئر کریں: