پاکستان کے قریب کورونا کی نئی قسم انسانیت کے لیے خطرہ بن گئی

شیئر کریں:

بھارت میں دریافت ہونے والی کورونا وائرس کی نئی قسم انسانیت کے لیے خطرہ بن گئی۔ صحت کے عالمی
ادارے نے اس نئی قسم پر الرٹ جاری کردیا ہے۔
اس نئی قسم کے کورونا وائرس کو ڈبل میٹوٹنٹ کا نام دیا گیا ہے۔ اس وائرس کے خلاف دنیا بھر کے سائنس
دانوں نے سر جوڑ لیے ہیں۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے بھارت میں تیسری لہر کے دوران کورونا کیسز کی بڑی
تعداد کے پیچھے یہی نئی قسم کا وائرس ہے۔
بھارت میں پچھلے تین روز سے مسلسل 2 لاکھ سے زائد نئے مریض سامنے آرہے ہیں اور اموات کی شرح
بھی بڑھ رہی ہے۔

بھارت میں کورونا وائرس کی شدید لہر، روزآنہ لاکھوں متاثر ہزاروں اموات

امریکا میں بھی اس بھارتی وائرس کے دو درجن سے زائد کیسز سامنے آچکے ہیں۔ وائرس کی یہ قسم بھارت میں
گزشتہ سال کے آخر میں دریافت ہوئی تھی اور صحت کے عالمی ادارے کو بھی آگاہ کیا گیا تھا۔

بھارت کی وزارت داخلہ نے مارچ میں اس وائرس کی موجودگی کو تسلیم کیا۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ
نئی قسم کا وائرس ہے کیا اور اسے ڈبل میوٹنٹ کیوں کہا جاتا ہے؟

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ کوئی بھی وائرس اپنے وجود کے کچھ عرصہ بعد اپنی شکل تبدیل کرلیتا ہے۔
اس شکل تبدیل کرنے کے عمل کو وائرس کا میوٹنٹ ہونا کہا جاتا ہے۔

میوٹنٹ ہونے کے عمل میں وائرس یا تو کمزور ہوجاتا ہے یا خود کو ماحول کے مطابق ڈھال کر مزید طاقتور ہوجاتا ہے۔
اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے دنیا میں فلو کی سیکڑوں اقسام موجود ہیں اور ہر قسم دوسری قسم سے مختلف ہے۔
کچھ فلو کی اقسام کمزور ہوتی ہیں اور نقصان نہیں پہنچاتی جبکہ دیگر اقسام کمزور افراد کے لیے موت کا سبب بن جاتی ہیں۔ اسی طرح کورونا وائرس بھی ارتقاعی مراحل میں ہے۔ یہ مہلک وائرس وقت کے ساتھ ساتھ اپنی شکل تبدیل کر رہا ہے۔
اب تک برطانیہ اور افریقی قسم سامنے آچکی ہے لیکن وائرس کی بھارتی قسم ڈبل میوٹننٹ وائرس کو انتہائی خطرناک کہا جارہا ہے۔ کیوں کہ اس قسم کا وائرس ماحول کے مطابق اپنی شکل تبدیل کرچکا ہے۔
اس نے تیزی سے پھیلنے اور انسانوں کو شدید بیمار کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کورونا کی دنیا بھر میں ویکسینیشن تیز کرنے کی ضرورت ہے۔
کوئی بھی ملک تنہا ویکسین لگا کر اپنے شہریوں کو محفوظ نہیں کرسکتا کیوں کہ ایک تو ویکسین ایک سال تک موثر ہے اور دوسرا دنیا کے دیگر حصوں سے وائرس کی نئی اقسام نمودار ہوتی رہیں گی۔
اس لیے انسانیت کی بقا کے لیے رنگ و نسل، امیر و غیریب اور سیاست سے بالاتر ہوکر تمام ممالک کو ملک کر کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔


شیئر کریں: