آزاد کشمیرمیں عدالتی نظام بحران کا شکار کیوں؟

شیئر کریں:

تحریر ابوالقاسم حیدری

آزادکشمیر میں اس وقت باقاعدہ عدالتی نظام موجود ہے جس میں دو طرح کی عدلیہ کام کررہی ہیں جنہیں اعلیٰ
اور ماتحت عدلیہ کے طور پر جانا جاتا ہے ماتحت عدلیہ یا سب آرڈینیٹ کورٹس میں سول عدالتیں اور ضلعی
(دیوانی و فوجداری) عدالتیں شامل ہیں اعلیٰ عدلیہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ پر مشتمل ہے.

آزادکشمیر میں رائج عبوری آئین 1974 کے آرٹیکل 42 کے تحت آزاد کشمیر سپریم کورٹ کا قیام عمل میں لایا
گیا پہلی آئینی ترمیم سے قبل اسے جوڈیشل بورڈ کے نام سے جانا جاتا تھا عدالت العالیہ کو اسی آئین کے آرٹیکل
43 کے تحت بنایا گیا .

آرٹیکل 42 کی ضمنی شق 3 کے تحت آزاد کشمیر عدالت عظمیٰ میں ججز کی تعداد 3 رکھی گئی ہے کورٹس
اینڈ لاء کوڈ ایکٹ کی سیکشن 5 کی ضمنی شق 1 کے تحت عدالت العالیہ آزادکشمیر میں ججز کی تعداد
10 ہونی چاہیے جن میں چیف جسٹس عدالت العالیہ اور عالم جج بھی شامل ہیں, (یاد رہے کہ عالم جج کو
شریعت کورٹ ختم ہونے کے بعد حدود معاملات نمٹانے کیلئے شامل کیا گیا ہے)

آزاد کشمیر کے عام انتخابات، اگلی حکومت کس کی ہو گی؟

آئین کے تناظر میں اس وقت آزادکشمیر کی اعلیٰ عدالتوں میں 13 ججز ہونے چاہیں مگر اس وقت یہ تعداد اس
کے 50 فیصد بھی نہیں بلکہ عدالت العالیہ آزادکشمیر میں اس وقت 10 کی جگہ 2 ججز موجود ہیں اور سپریم
کورٹ میں صرف ایک جج کام کررہے ہیں.

عبوری آئین کے مطابق سپریم کورٹ کا جج 65 اور ہائی کورٹ کا جج 62 سال کی عمر میں ریٹائر ہوجاتا ہے جس
کے بعد حال ہی میں مزید ریٹائرمنٹس کے بعد ریاست میں عدالتی بحران شدت اختیار کرگیا ہے.

اس وقت اعلیٰ عدالتوں میں مستقل چیف جسٹس صاحبان کے بجائے ایکٹنگ یعنی قائم مقام چیف جسٹسز کام
کررہے ہیں, عملی طور پر دونوں میں کوئی فرق نہیں ہوتا مگر چونکہ ہائی کورٹ میں ججز کی تعیناتی کے لیے
چیف جسٹس کی رائے/مشاورت بھی شامل ہوتی ہے جو قائم مقام چیف جسٹس استعمال نہیں کرتا یا یوں کہا جائے
کہ اس کی حیثیت مستقل چیف جسٹس کی مانند نہیں ہوتی اسی لیے یہ معاملہ بھی التواء کا شکار ہے.

قانونی ماہرین کے مطابق آزاد کشمیر میں عدالتی بحران کی بڑی وجہ حکومت آزادکشمیر اور باالخصوص صدر
آزادکشمیر ہیں, ذرائع کے مطابق حکومت آزاد کشمیر اپنے منظورِ نظر ججز کی تقرری عمل میں لانا چاہتی ہے جبکہ
صدرِ آزادکشمیر اپنے کسی رشتہ دار کو عدالت العالیہ میں جج لگوانا چاہتے ہیں.

معاملہ صرف یہاں تک محدود نہیں, ریاست میں عدالتی بحران کی وجہ ذاتی پسند و ناپسند بھی ہے, ایسے میں
کبھی ذاتی خواہشات آڑے آتی ہیں تو کبھی ہیڈ آف دی اسٹیٹ ریاستی حکومت کے ہاتھوں یرغمال بن جاتے ہیں
تاکہ برادریوں کی بنیاد پر اعلیٰ عدلیہ میں ن لیگ حکومت کے منظورِ نظر وکیلوں کی بطور جج تقرریاں کی جاسکیں.

حالیہ عدالتی بحران کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ مسلم لیگ ن نے حکومت میں آنے کے بعد ہائی کورٹ میں
5 ججز کی تقرری عمل میں لائی جنہیں عدالت عظمیٰ نے آئین سے متصادم ہونے کی بنیاد پر خلافِ آئین قرار دیا
نتیجتاً ان5 ججز کو گھر جانا پڑا, یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اعلیٰ عدالتوں میں اکثر ججز کی تقرریاں میرٹ
سے بڑھ کر برادریوں کی بنیاد پر کی جاتی ہیں اور جج بننے کے لیے تعلیم اور تجربہ سے بڑھ کر بڑی برادری کا ہونا
ایسے شخص کو جج بنانے میں زیادہ مددگار ثابت ہوتا ہے اور اسی برادری ازم نے اس عدالتی بحران میں اس
وقت جلتی پر تیل کا کردار ادا کیا ہے.

ان حالات میں وکلاء کا احتجاج اس بحران کی سنگینی کے عین مطابق ہے ,حکومت آزادکشمیر کو چاہیے کہ وہ
اپنے Ego کو ایک طرف رکھتے ہوئے عدالتی بحران کے حل کے لیے کردار ادا کرے اور باضابطہ طریقہ کار کے
تحت چیئرمین کشمیر کونسل یعنی وزیراعظم پاکستان کے سامنے اولً چیف جسٹس سپریم کورٹ کی مستقلی
کیلیے تحریک کرے اور ثانیاً چیف جسٹس ہائی کورٹ کی مستقلی کیلیے تحریک کرے جس کے فوراً بعدججز
کی تقرری آئین و سپریم کورٹ کے فیصلہ جات کی روشنی میں با مقصد، با معنی اور ہر دو چیف صاحبان کی
متفقہ رائے/مشاورت کے بعد عمل میں لائی جائے اگر حکومت آزادکشمیر ایسا نہیں کرتی تو عبوری آئین
1974 کے آرٹیکل 56 کے تحت حکومت پاکستان کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اس بحران سے نکلنے کے لیے
اور عوامی ضروریات و حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے اس عدالتی بحران کو ختم کرنے کے لیے اپنا کردار
ادا کرسکتی ہے


شیئر کریں: