تحریک لبیک کا 2015 سے 2021 تک کا سفر

شیئر کریں:

تحریر ندیم رضا
تحریک لبیک پاکستان پر حکومت نے پابندی لگادی ہے۔ 2015 میں بننے والی جماعت اب کالعدم ہو گئی
ہے۔ حکومت نے اس جماعت کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ ملک بھر میں‌ جاری ہنگامہ آرائی، جلاؤ گھیراؤ
اور پولیس اہل کاروں پر حملوں کے بعد کیا ہے۔

تحریک لبیک پاکستان کے نوجوان سربراہ سعد حسین رضوی کی 12 اپریل کی شب لاہور سے گرفتار کیا گیا
جس کے بعد شہر شہر دھرنے اور مظاہرے شروع کر دیے گئے۔
12 اپریل سے 14 اپریل کی دوپہر تک کسی بھی شہر میں حکومت نام کی کوئی شے دیکھائی نہ دی۔ ہر جگہ
تحریک لبیک کے ڈنڈا بردار لوگ شہریوں اور پولیس اہل کاروں کو تشدد کا نشانہ بناتے رہے۔

پاکستان کے میڈٰیا نے بھی چپ سادھ رکھی اس طرح تحریک لبیک کے کارکن آزادی کے ساتھ سڑکوں پر دھرنا
دیے بیٹھے رہے۔ جہاں پولیس اہل کاروں نے روکنے کی کوشش کی وہاں انہیں تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔

لاہور، کراچی، فیصل آباد اور دیگر شہروں میں کم از کم 2 پولیس اہل کار شہید اور 400 کے قریب زخمی ہوئے۔
کئی اہل کاروں کی کی حالت تشویش ناک ہے۔ درجنوں گاڑیاں بھی جلا دی گئیں۔ الغرض ان سے کوئی بھی
محفوظ نہ رہا۔
کئی قیمتیں جانیں ضائع ہو گئیں لیکن پولیس اہل کاروں کو فری ہینڈ نہ دیا گیا۔ مظاہرین کو گرفتار کرنے
کے احکامات بھی نہیں دیے گیے پھر اچانک 14 اپریل کی دوپہر حکومت نے انتہائی اقدام اٹھاتے ہوئے
تحریک لبیک پاکستان پر پابندی لگا د۔
وزیر داخلہ شیخ‌ رشید احمد نے انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997کے رولز11 بی کے تحت ٹی ایل پی
پر پابندی لگائی۔

تحریک لبیک پاکستان کس نے اور کب بنائی؟

تحریک لبیک پاکستان کی علامہ خادم حسین رضوی نے یکم اگست 2015 کو بنیاد ڈالی۔ تحریک لبیک توہین
رسالت قانون کی انتہائی سختی سے حامی اور احمدی مخالف نظریہ لے کر آگے بڑھی۔ بریلوی مسلک سے تعلق
رکھنے والی اس جماعت کا ہیڈکوارٹر لاہور میں بنایا گیا۔

فیض آباد دھرنا اس جماعت کی وجہ شہرت بنا جب سے تحریک لبیک مظاہروں اور دھونس دھمکی کی سیاست
کرتی رہی۔ اس جماعت کی بریلوی مکتب فکر میں ممتاز قادری کی پھانسی اور جنازہ کے بعد زیادہ بڑھی۔

ملک بشیر اعوان کے فرزند ممتاز قادری کو 29 فروری 2016 کو اڈیالہ جیل میں پھانسی دی گئی تھی۔ ممتاز قادری
نے چار جنوری 2011 کو پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو اسلام آباد کی کوہسار مارکیٹ میں فائرنگ کر کے قتل
کر دیا تھا۔ سلمان تاثیر نے توہین رسالت کے مقدمہ میں موت کی سزا پانے والی مسیح خاتون آسیہ بی بی کی
حمایت کی تھی۔ ممتاز قادری پولیس کمانڈو اور سلمان قادری کی حفاظت پر مامور تھے۔

تحریک لبیک کی پنجاب کے بعد سندھ کے بریلوی مکتب فکر میں بھی مقبولیت بڑھنے لگی۔ لاہور میں بننے والی
جماعت پنجاب سے 2018 کے انتخابات میں کوئی نشست نہ جیت سکی لیکن سندھ سے دو براہ راست اور
ایک جنرل نشست جیتی۔

خادم رضوی سے سعد رضوی تک کا سفر

19 نومبر 2020 کی شب تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی مختصر علالت کے باعث
لاہور میں انتقال کر گئے۔ مینار پاکستان پر جنازہ میں لاکھوں افراد شریک ہوئے اور یہ لاہور کی تاریخ کا بڑا جنازہ قرار پایا۔ علامہ خادم رضوی کی جگہ پارٹی کی سربراہی ان کے 28 سالہ فرزند ارجمند سعد حسین رضوی کے حصے میں آئی۔ سعد رضوی کے مخالفین نے یہاں تک الزامات لگائے کہ یہ نشہ کرتے ہیں اور حافظ بھی نہیں۔

بہرحال سعد رضوی نے جماعت کی قیادت سنبھالی اور پھر متنازع خاکوں کی اشاعت پر نومبر 2020 والی خادم
رضوی کی احتجاجی تحریک کو آگے بڑھایا۔

سعد رضوی نے فرانسیسی سفیر کی ملک بدری اور فرانس کا مکمل بائی کاٹ کرنے کی 20 اپریل تک کی مہلت
دی تھی۔ مہلت ختم ہونے سے قبل از وقت 12 اپریل سے شروع کیے گئے مظاہروں اور دھرنوں نے حکومت کی رٹ
چیلنج کر دی۔ ریاست کے اندر ریاست قائم کرنے پر سوشل میڈیا نے حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

باالاخر حکومت کی جانب سے تحریک لبیک پاکستان پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس پر اپوزیشن جماعتوں
کا کوئی موقف سامنے نہیں آیا۔ انتہائی اہم مسئلہ پر اپنے سیاسی اختلافات پس پشت ڈال کر اپوزیشن کو کردار
ادا کرنا ہو گا۔
آخر میں کچھ سوال حکومت اور ریاستی اداروں سے بنتے ہیں۔
آخر ہم کیوں دیر کردیتے ہیں آتے آتے؟
کیا ہم پابندی لگائے بغیر مسئلہ حل نہیں کر سکتے تھے؟
فیض آباد دھرنے سے لے کر آج تک جو یہ جماعت کرتی رہی کیا یہ وقت کی ضرورت تھی؟
اس دوران وطن عزیز کی جو دنیا بھر میں بدنامی ہوئی اس کی زمہ داری کون لے گا؟
ٹی ایل پی کے اراکین سندھ اسمبلی کب نااہل قرار دیے جائیں گے؟


شیئر کریں: