کیا کورونا صرف عام پاکستانیوں کے لئے خطرناک ہے

شیئر کریں:

تحریر: نوید احمد

08 اپریل کی شب اسلام آباد کے پوش ایریا میں
ایک ہوٹل کی چھت پر وفاقی وزیر کی سالگرہ کی
تقریب منعقد کی گئی جس کے شرکا نے بڑے دھڑلے
سے ایس او پیز کی دھجیاں سگریٹوں کے دھوئیں
میں اڑادیں وفاقی وزیر فواد چوہدری کی سالگرہ
تقریب میں نہ صرف حکومتی شخصیات بلکہ ان
حضرات نے بھی شرکت کی جو روزانہ رات 8 سے 10
کے درمیان ٹی وی شوز میں لوگوں کو ایس او پیز کی پابندی کرنے کے بڑے بڑے لیکچرز دے رہے ہوتے ہیں اور ساتھ ساتھ انتظامیہ کی سرزنش بھی کررہے ہوتے ہیں کہ وہ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر کوئی ایکشن نہیں لے رہی ۔

فواد چوہدری کی سالگرہ تقریب میں فلمسٹار ریشم، سینیٹر فیصل واوڈا، حرامانی، کاشف عباسی، مہر بخاری سمیت درجنوں اہم شخصیات موجود تھیں نہ کوئی
ایس او پیز تھیں اور نہ ہی کسی نے ماسک کا استعمال
کیا ایک طرف یہ تقریب منعقد ہورہی تھی اور دوسری طرف اسلام آباد کی انتظامیہ ایس او پیز کی خلاف
ورزی کرنے پر سیکٹر G-8 میں قائم شاہ جی ہوٹل کو سیل کرنے میں مصروف تھی ہوٹل انتظامیہ کی غلطی
یہ تھی کہ انہوں نے ہوٹل کے باہر فاصلے سے چند ٹیبل
اور کرسیاں رکھی ہوئی تھیں جہاں غریب مزدور جو دوسرے شہروں بسلسلہ روزگار اسلام آباد آئے ہوئے ہیں
وہ کھانا کھا رہے تھے۔
ڈی سی اسلام آباد کا بہت اچھا اقدام ہے بالکل کورونا
کی خطرناک صورتحال دیکھتے ہوئے ایس او پیز کی
خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف ایسا ہی ایکشن ہونا چاہئے لیکن یہ دہرا معیار کیوں ہے غریب کا ہوٹل بند
کردیا گیا لیکن اشرافیہ کی سالگرہ کی تقریب کو
پولیس کا تحفظ دیا گیا جس وقت یہ تقریب جاری
تھی اس ہوٹل کے اطراف پولیس کی موبائلیں اور
درجنوں اہلکار تعینات تھے رات گئے تک قوالی کی
محفل چلتی رہی اور شرکا داد و تحسین دیتے رہے ۔

سالگرہ تقریب میں چونکہ ایس او پیز کی دھجیاں
اڑانے کا پہلے سے پروگرام تھا اس لئے دعوت نامے کے
بغیر کسی کو آنے کی اجازت نہیں تھی کورونا کو دعوت نامہ نہیں ملا ہوگا اس لئے کورونا وہاں نہیں آیا ہوگا سڑکوں پر ماسک نہ پہننے والے غریبوں پرجرمانہ
مقدمات درج انہیں حوالات میں بند کیا جارہا ہے۔
لیکن دوسری طرف حکومتی وزراء ، اراکین اور ان کے دوست بغیر سماجی فاصلے اور بغیر ماسک کے تقریبات منعقد کررہے ہیں۔

وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کی سالگرہ کی تصاویر سوشل میڈیا پر آنے کے بعد اب
دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعظ٘م عمران خان ، ڈی سی
اسلام آباد حمزہ شفقات اور دیگر اداروں کی ذمہ داری
ہے کہ وہ تقریب کے شرکاء اور اس ہوٹل انتظامیہ
کیخلاف کارروائی کرتے ہیں یا نہیں عوام ضرور
تحریک انصاف سے انصاف کے طلبگار ہیں G-8 کے ہوٹل
پر کھانا کھانے والے وہ مزدور ڈی سی اسلام آباد کی
جانب دیکھ رہے ہیں اور ان کی خاموش آنکھیں سوال پوچھ رہی ہیں کہ کیا یہ ہوٹل بھی سیل کیا جائے گا یا یہاں ان کے بھی پر جلتے ہیں اور وہ بھی مصلحت کا
شکار ہو کر اس کبوترکی طرح کی بن جائیں گےجو
بلیکو دیکھ کر اپنی آنکھیں بند کرلیتا ہے ۔


شیئر کریں: