یہ سافٹ ویئر ٹھیک ہونے والا نہیں

شیئر کریں:

تحریر ندیم رضا

تبدیلی، کرپشن فری پاکستان اور انصاف کے نعرے لیے حکومت بنانے والے عمران خان اپنے وعدوں میں
سے ایک کی بھی تعبیر دینے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ عوام پر مہنگائی کا بوجھ، ملک پر قرضوں کا
بوجھ اور معیشت کی تباہی سے تحریک انصاف کی کارکردگی کھلی کتاب کی طرح سب کے سامنے ہے۔

عمران خان کی سلو بیٹنگ

فرینڈلی فیلڈنگ اور اپنی مرضی کی پچ ہونے کے باوجود جارحانہ بیٹنگ کے بجائے کپتان مسلسل بیک فٹ
پر رہتے دفاعی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ عوام کا خیال تھا کہ عمران خان اپنے وعدوں کے مطابق
مہنگائی کے خلاف جارحانہ اننگز کھیلیں گے لیکن عمران کی سلو بیٹنگ نے عوام کو پہلے بور اور پھر
انتہائی پریشان کر دیا۔

دنیا بھر میں کورونا کی وبا کے دوران غریب سے غریب ملکوں کی حکومتوں نے اپنے عوام کو ریلیف دیا۔
کووڈ ٹیسٹ اور علاج کے نام پر لوگوں کو لوٹنے کے بجائے انہیں مفت یا پھر مناسب قیمت پر سہولتیں
فراہم کیں۔ اس وبا کے دوران پاکستان میں صورت حال یکسر مختف رہی۔

تبدیلی سرکار کی جانب سے شہریوں پر نئے ٹیکسز کے نام عوام پر مزید بوجھ ڈالا گیا۔ بجلی اور پیٹرولیم
مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیا گیا۔ مہنگائی کے طوفان کی وجہ سے غریب دو وقت کی
روٹی کھانے سے بھی قاصر ہیں اور سفید پوش کسی کے آگے ہاتھ پھیلا نہیں سکتے اسی لیے فاقوں پر
مجبور ہیں۔

اصل چہرہ بے نقاب

عوام پر اتنا بوجھ ڈالنے کے باوجود اور بیرونی قرضے لینے کے بعد بھی حکومت معیشت کو سنبھالا دینے میں
ناکام نظر آرہی ہے۔ درآمدات میں مسلسل اضافہ اور برآمدات میں کمی آرہی ہے۔ زرعی اعتبار سے
خود کفیل پاکستان تحریک انصاف کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے تین دہائیوں بعد پہلی بار ایک ساتھ
گندم، چینی اور کپاس درآمد کررہا ہے۔ یہی نہیں اپنی نااہلی کا بوجھ تحریک انصاف مسلسل پچھلی
حکومتوں پر ڈالے جارہی تھی لیکن کورونا کی وبا نے ان کا اصل چہرہ بے نقاب کردیا ہے۔

جہاں دنیا میں فیس ماسک، کورونا ٹیسٹ اور کورونا علاج مفت کیا جارہا تھا وہیں تبدیلی سرکار نے
لوگوں کو کاروباری افراد اور پرائیویٹ سیکٹر کے رحم و کرم پر چھوڑے رکھا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ
پانچ روپے والا ماسک 100 روپے میں فروخت ہوا۔ پرائیویٹ لیبارٹریزیز نے کورونا کے ٹیسٹ 12 ہزار
روپے تک میں کیے حتی کہ اسپتالوں نے کورونا مریضوں سے ایک رات علاج کے لاکھوں روپے وصول کیے
اور حکومت عوام کو لٹتا دیکھ کر خاموش رہی۔

گنگا الٹی بہہ رہی ہے

خیر اب دنیا کے تقریبا تمام ممالک نے کورونا کی ویکسین لگانا شروع کردی ہے۔ غریب ترین ممالک کی
حکومتیں بھی خود خرید کر اپنے شہریوں کو مفت ویکسین فراہم کررہی ہیں۔ پاکستان میں پھر گنگا
الٹی بہہ رہی ہے کورونا ویکسین لگانے کا سلسلہ انتہائی تاخیر سے شروع کیا اور وہ بھی سست روی
کا شکار ہے۔

22 کروڑ کی آبادی میں روزانہ صرف چند ہزار افراد کو ویکسین لگائی جارہی ہے تاخیر کی وجہ سے پچھلے
چند روز سے اموات کی شرح 100 کا ہندسہ عبور کر چکی ہے۔ حکومت کی ترجحات عوام کی جان کے
بجائے کچھ اور ہے۔

حکومت نے پرائیویٹ اداروں کو کورونا ویکسین کے نام پر شہریوں کو لوٹنے کی اجازت دے دی۔ پڑوسی
ملک میں جو ویکسین 400 روپے کی ہے وہ پاکستان میں 12 ہزار روپے سے بھی زائد قیمت پر لگائی جارہی ہے۔

خارجہ پالیسی، معاشی پلان، کورونا وبا کو کنٹرول ہو یا عوام کو ریلیف دینا ہو حکومت ہر جگہ ماضی کی
حکومتوں کے پیچھے چھپنے کی کوشش میں لگی رہتی ہے۔ ایسا محسوس ہورہا ہے جیسے حکمرانوں کے دل
پتھر کے ہیں انہیں عوام کے دکھ کا کوئی احساس نہیں۔

ہارڈ ویئر ناکارہ ہونے سے بچانا ہو گا

یہی وجہ ہے کہ عوام بھی کہنے لگے ہیں مشرف دور کے بعد یہ پہلی حکومت ہے جسے نام کی اپوزیشن کا
سامنا کرنا پڑا۔ ماضی کی حکومتوں کے مقابلے میں عمران خان کی حکومت پر پہلے سال تو کسی کو تنقید
کرنے کی ہمت نہ ہوئی اور جب کسی نے کوشش کی تو پھر دھرائی نہ گئی۔

اس کے باوجود عمران خان اور ان کی کابینہ اپوزیشن اپوزیشن کھیلتے رہے۔ مہنگائی کا بوجھ نواز شریف اور
آصف زرداری پر ڈالتے رہے لیکن عوام سمجھ چکے کہ یہ سافٹ ویئر اپ ڈیٹ ہونے والا نہیں اسے تبدیل کر
کے ہی ہارڈ ویئر کو ناکارہ ہونے سے بچایا جاسکتا ہے۔


شیئر کریں: