نیتن یاہو، نریندرا مودی اور عبداللہ دوئم مشکلات سے دوچار

شیئر کریں:

تحریر عمید اظہر

وہ کہتے ہیں نا کہ برا وقت بتا کے نہیں آیا کرتا ایسے وقت کا سامنا اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو
اور ان کے دوستوں کے دوستوں کو کرنا پڑ رہا ہے۔ نیتن یاہو کی طرح نریندرا مودی کو بھی کرپشن اور رشوت
ستانی جیسے سنگین الزامات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ساتھ اسرائیل کے لیے انتہائی اسٹریٹیجک اہمیت کے
حامل ملک اردن کے بادشاہ عبداللہ دوئم کو اپنے ہی سوتیلے بھائی کی طرف سازش کا سامنا کرنا پڑا۔

نیتن یاہو کا کیا بنے گا؟

انتخابات میں واضح یا سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکامی پر اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اپنا
ہوش کھوتے جارہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے دیرینہ دوست امریکا کے تحفظات کے باوجود مغربی کنارے میں
غیرقانونی بستیاں تعمیر کی جارہی ہیں۔

ان غیرقانونی بستیوں پر امریکا اسرائیل سے اپنے تحفظات کا اظہار کرچکا ہے۔ اسرائیل نے امریکی تحفظات
مسترد کرتے ہوئے یہودیوں کے لیے مزید 540 نئے یونٹ قائم کرنے کا اعلان کر دیا۔ بائیڈن انتظامیہ نے مغربی
کنارے میں یہودی بستیوں کی آبادکاری کو غیرقانونی قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا ہے 1967 کے بعد سے جتنی
بھی فلسطین کی زمین پر قبضہ کیا گیا ہے وہ سب غیرقانونی ہے۔

نیتن یاہو یہ سارے اقدام ایسے موقع پر کر رہے ہیں کہ جب وہ دو سال میں ہونے والے چوتھے انتخابات میں
بھی واضح اکثریت حاصل نہ کرسکے۔ اب ان کی حکومت کا انحصار اسرائیلی مسلمانوں کی عرب جماعت کے
تعاون پر ہے۔ مگر اس تعاون کے بعد بھی نیتن یاہو بیساکھیوں پر لنگڑی لولی حکومت ہی کریں گے۔ اس میں
بھی کوئی شک نہیں کہ اسرائیل پانچویں انتخابات کی طرف جارہا ہے۔

اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں کامیاب نہیں ہوتے تو پھر ان کا سیاسی مستقبل تاریک ہو جائے گا۔ وزیر اعظم
کی وجہ سے عدالتی استثنا بھی حاصل نہیں رہے گا۔

اسی لیے نیتن یاہو نے کرپشن، رشوت اور دھوکہ دہی کے معاملات میں تحقیقات کوملک میں عدالتی مارشل لا
لگانے کے مترادف قرار دیا ہے۔ یہی نہیں نیتن یاہو کی سیاسی بوکھلاہٹ کے باعث مشرق وسطی کے امن
کو خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ نیتن یاہو ایران کو دھمکی دی ہے کہ اگر تل ابیب پر حملہ کی غلطی کی تو
تہران کا وہی حال کیا جائے گا جیسا 1948 میں عربوں کا کیا تھا۔

نیتن یاہو کا اشارہ ساحلی علاقے جفا کی طرف تھا جس پر عربوں کو شکست دے پر قبضہ کیا گیا تھا۔
اسرائیلی وزیراعظم کے سیخ پا ہونے کی بڑی وجہ ایران جانب سے جاسوسی کے اسرائیلی نیٹ ورک کی
گرفتاری ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق صوبہ مغربی آزربائیجان سے اسرائیلی جاسوس اور اس کے ساتھیوں
کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اسرائیلی جاسوس ایران میں مقامی ایجنٹوں کے ساتھ رابطے کرکے اہم تنصیبات اور
اعلی شخصیات کی ریکی کرارہا تھا۔

مودی کے مسائل اور کرپشن

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کے بھی ذہنی کچھاؤ میں ان دنوں کافی اضافہ ہوا ہے۔ ریاست چھتیس گڑھ
کے جنگل میں ماؤ نوازوں کے ہاتھوں دو درجن فوجیوں کی ہلاکت کے بعد آندھرا پریش میں بھی حملوں کا
خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

مودی کی پالیسیوں کی وجہ سے ملک کی 28 ریاستوں میں سے 20 میں آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔
برابری کی بنیاد پر معاشرہ پر یقین رکھنے والے ماؤ نواز کئی ریاستوں میں براہ راست حکومت چلا رہے ہیں۔

اپوزیشن جماعتوں اور سماجی کارکنوں کی جانب سے غیرمنصفانہ پالیسیوں پر کڑی تنقید کی جارہی ہے۔ سوشل
میڈیا پر ابھی جھاڑکنڈ کولے کر چرچا رکا نہیں تھا کہ رافیل طیاروں کی خریداری میں رشوت کا اسکینڈل
دوبارہ زندہ ہو گیا۔

فرانس کے اینٹی کرپشن ادارے کی تحقیقات میں انکشاف ہواہے کہ اسالٹ نامی فرانسیسی کمپنی نے بھارتی
مڈل مین کو دس لاکھ یورو رشوت دی ہے۔ یہ رشوت بھارتی حکومت سے اچھی ڈیل کروانے کی عوض دی گئی۔

بھارت نے فرانس سے 2016 میں 36 طیاروں کی ڈیل کی تھی اس میں مڈل مینوں کے کردار پر پہلے ہی سے
سوال اٹھائے جا رہے تھے۔ اپوزیشن جماعت کانگریس کا کہنا تھا کہ رافیل طیارے اپنی قیمت سے کہیں
زیادہ قیمت پر خریدے گئے ہیں اب فرانس کی ایجنسی نے بھی اس بات کی تصدیق کر دی ہے۔


شیئر کریں: