خود پہ بھی اختیار رکھ مجھ پہ بھی اعتبار کر

شیئر کریں:

تحریر ندیم رضا

عرب ممالک میں بادشاہت پر منڈلانے والے سیاہ بادل سیاہ ہوتے جارہے ہیں۔ بادشاہت والا ایک اور عرب ملک
عدم استحکام کا شکار ہونے لگا ہے۔ اس بار ایک کروڑ کی آبادی والے ملک اردن میں سیاسی انتشار دیکھائی
دینے لگا ہے۔

شاہ عبداللہ دوئم حکومت کے خلاف سازش

شاہ عبداللہ دوئم کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش ہوئی جسے انٹلی جنس اداروں نے ناکام بنا دیا۔ یہ بغاوت
اسرائیل یا کسی دوسرے ملک کی طرف سے نہیں کی گئی بلکہ سازش شاہی محل سے کی گئی۔

کہتے ہیں سابق ولی عہد اور شاہ عبداللہ دوئم کے سوتیلے بھائی حمزہ بن حسین نے بیرونی قوتوں کے ساتھ مل کے
تخت الٹنے کا جال بنا۔ سیکیورٹٰی اداروں نے حمزہ بن حسین سمیت 20 سے زائد افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ حمزہ بن حسین کو اہل خانہ سمیت گھر پر ہی نظر بند کیا گیا ہے۔ حراست میں
لیے گئے افراد گزشتہ کئی ماہ سے مشکوک سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ ان کے خلاف شاہ عبداللہ کی حکومت
کا تختہ الٹنے کے لیے منصوبہ بندی سے متعلق مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔

شاہی فوج نے حمزہ بن حسین کو ایسی تمام سرگرمیاں فوری طور پر روکنے کے لیے کہا گیا ہے جس سے اردن
کی سیکیورٹی اور سلامتی کو خطرہ لاحق ہو۔ سرکاری موقف کے برعکس اگر زمینی حقائق دیکھیں تو
صورت حال یکسر مختلف دیکھائی دیتی ہے۔ دراصل اردن کا سیاسی عدم استحکام بادشاہت کے تخت کی
خاندانی جنگ ہے کیونکہ حمزہ بادشاہ وقت عبداللہ دوئم کے سوتیلے بھائی ہیں۔ اردن کے 1952 سے 1999
تک بادشاہ رہنے والے سابق بادشاہ الحسین کی چار شادیاں تھیں۔ شاہ حسین کی وفات کے بعد بڑے بیٹے
عبداللہ دوئم بادشاہ بنے اور حمزہ کو ولی عہد مقرر کردیا گیا۔

حالات بدلے تو عبداللہ دوئم نے ولی عہد کا عہدہ واپس لے لیا۔ ظاہر ہے یہ امر حمزہ کے لیے موت سے کم
نہیں ہونا چاہیے۔ حمزہ کو دیگر زمہ داریاں بھی دی گئیں لیکن کسی طور مکمل آزادی نہیں دی گئی۔

عبداللہ دوئم کی اپنے سوتیلی بھائی پر مسلسل نظر رہی اور انٹلی جنس ادارے ان کی سرگرمیاں دیکھتے رہے۔
ماضی میں اتنی بڑی کوشش کی مثال نہیں لیکن اس مرتبہ حمزہ کچھ زیادہ ہی آگے نکل گئے۔

جب میں نے کچھ لوگوں سے بات کی تو معلوم ہوا ہے کہ بغاوت کی سازش پکنے کا عبداللہ دوئم کو ایک
پڑوسی ملک کی انٹلی جنس نے آگاہ کیا۔

شاہی خاندانوں میں بغاوت

عرب میں خاندانی بغاوت کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ 2010 کی تیونس سے شروع ہونے والی عرب اسپرنگ سب کے سامنے ہے۔ تیونس کے بعد لیبیا اور مصر کیا کچھ نہیں ہوا۔ ان ممالک کو دیکھتے ہوئے کویت، بحرین، اومان اور سعودی عرب نے فوری طور پر اصلاحات کی گئی۔
اس سے قبل سعودی عرب میں بھی اسی طرز کی بغاوت نے اس وقت جنم لیا تھا جب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے خاندان کے کئی بااثر شہزادوں کو عہدوں سے ہٹا کرقید کردیا تھا۔ اس وقت سعودی عرب میں بھی یہی گونج تھی کہ محمد بن سلمان کو بغاوت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اسی لیے انہوں نے اپنے اختیارات اور طاقت کو استعمال کرتے ہوئے شاہی خاندان کے تمام ہیوی ویٹس کو گرفتار کرکےا ن کی جائیدادیں ضبط کی اور ان کے خلاف تحقیقات شروع کردی۔

عرب دنیا میں قائم بادشاہت کے نظام کو اس وقت دھچکہ لگا جب دو دہائیوں قبل عرب ممالک میں عام شہریوں نے بغاوت کی اور بڑے بڑے برج پلٹ دیے۔ اسی عرب اسپرنگ میں لیبیا کے حکمران محمد قزافی کو ہٹایا گیا اور ملک عدم استحکام کا شکار ہوا۔ لیبیا سے سبق لیتے ہوئے دیگر بادشاہوں نے فوری اصلاحات کا فیصلہ کیا۔ عرب دنیا کے حکمران جا ن گئے تھے کہ اگر انہوں نے عام شہریوں کو حق نہ دیا تو ان کا حال بھی قذافی کی طرح ہوگا۔

اس عرب اسپرنگ کے اثرات اب بھی دیکھے جارہے ہیں۔ اسی انقلاب کے بعد سعودی عرب نے بڑے پیمانے پر اصلاحات کی۔ انسانی حقوق کے خلاف قائم کئی قانون ختم کیے گئے۔ عام شہریوں کے لیے بنائی گئی سزائیں نرم کی۔ سعودی عرب سمیت دیگر عرب ممالک میں خواتین کے لیے قوانین بھی آسان بنائے گئے۔ انہیں ڈرائیونگ سمیت کئی حقوق دیے گئے جو ان پر پہلے بند کیے ہوئے تھے۔

سعودی عرب میں تبدیلیاں

عرب ممالک بلخصوص سعودی عرب نے تیل کی بجائے سیاحت اور انٹرٹینمنٹ پر معیشت چلانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے بڑے پیمانے پر ترقیاتی کام شروع کیے جس کا فائدہ عام شہریوں کو روزگار کی صورت میں ہوا۔ اسی طرح ٹیکنالوجی کے فروغ اور ملک میں سیاحت لانے کے لیے ویزہ قوانین میں نرمی شروع کی گئی۔
دوسرے ممالک سے کام کی غرض سے آنے والے مزدوروں کے لیے قوانین نرم کیے جارہے ہیں اور کفیل کی شرط ختم کی جارہی ہے۔ ان تمام اقدامات کا مقصد درحقیقت اپنی اپنی بادشاہت کو بچانا ہے۔ عرب دنیا کے بادشاہ اس بات سے خائف ہیں کہ ان کا انجام بھی لیبیا کے حکمران جیسا نہ ہو۔
بیشتر ممالک میں خاندان اندرونی تقسیم کا شکار ہیں۔ بادشاہت کی جنگ میں آج بھی اپنے ہی بھائیوں، خاندان کے لوگوں اور خواتین کو زندانوں میں قید کیا جارہا ہے۔ عرب ممالک میں بادشاہت قائم ہے اس لیے آزادی رائے اور میڈیا پر پابندی ہے۔ خاندان کے لوگوں کو قید کرنے کی خبر تک باہر نہیں نکلتی۔
عرب ممالک کو سوچنا ہوگا کہ اگر انہوں نے شہریوں کو جائز حقوق نہ دیے تو وہ حکمرانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔
دنیا بھر میں جہاں جمہوریت اور عوام کے حقوق کی بات کی جاررہی ہے وہیں عرب دنیا کے شاہی خاندان آج بھی عوامی مسائل کرنے کی بجائے آپسی لڑائیوں میں الجھ رہے ہیں۔
عرب حکمرانوں نے عوامی مسائل حل کرنے میں اگر مزید تاخیر کی تو وہ اپنے ہی عوام کے غیض و غضب سے نہیں بچ سکیں گے۔
شاعر نے عرب عوام کے احساس و جزبات کی اس شعر میں خوب ترجمانی کی ہے۔
خود کو اذیتیں نہ دے مجھ کو اذیتیں نہ دے
خود پہ بھی اختیار رکھ مجھ پہ بھی اعتبار کر


شیئر کریں: