لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کراچی میں دھرنا، سیاسی رہنما بھی ہم آواز

شیئر کریں:

لاپتا شیعہ افراد کی بازیابی کے لیے جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنز کا دھرنا مزار قائد کے
سامنے چوتھے روز بھی جاری رہا۔ دھرنے میں پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شہلا رضا اور ایم کیو ایم بحالی
تحریک کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے لاپتہ افراد کے اہل خانہ سے ملاقاتیں کیں۔

شہلا رضا نے شہر میں لوگوں کے لاپتہ ہونے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے متاثرین کو ان کی آواز بلند کرنے
کی یقین دہانی کرائی۔ لاپتہ افراد کے اہل خانہ کا احتجاج جمہوری حق ہے سندھ حکومت نے اس معاملے
پر حساس اداروں کو آن بورڈ لیا ہے جن لاپتہ افراد کے نام آج اہل خانہ نے بتائے انہیں بہت جلد بازیاب
کروایا جائے گا۔

شہلا رضا نے کہا وہ لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے ساتھ کھڑی ہیں ان کے درد کو محسوس کرتی ہوں۔ اگر
مسنگ افراد مقدماتت میں ملوث ہیں تو انہیں کورٹ میں پیش کیا جائے۔

احتجاج میں ایم کیو ایم بحالی تحریک کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے بھی لاپتہ افراد کے اہل خانہ سے ملاقات
کی اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار مسنگ پرسنز کے دھرنے کی حمایت کا اعلان کیا۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے
کہا چوتھی مرتبہ شیعہ لاپتہ افراد کے اہل خانہ سڑکوں پر پیاروں کی بازیابی کیلئے احتجاج کر رہے ہیں۔

مسنگ پرسنز کا معاملہ ریاست اور ریاستی اداروں پر سوالیہ نشان ہے۔ لاپتہ افراد کا معاملہ حل کرنا انہیں
بازیاب کرانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ سیاسی جماعتیں حکومت میں آنے کے بعد مسنگ پرسنز کے مسئلے
کو حل نہیں کرتیں۔ حکومت بے حسی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ ریاست عوام کے بنیادی حقوق کی پاسداری
کرے۔ مسنگ پرسنز کا مسئلہ سیاسی نہیں بلکہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے اور میں لاپتہ افراد کی فوری
بازیابی کا مطالبہ کرتا ہوں۔

حکومت لاپتہ افراد کی دادا رسی کرے ملک کے محب وطن نوجوانوں کا لاپتہ ہونا دنیا بھر میں ملک کی
جگ ہنسائی ہے۔ دنیا بھر میں لاپتہ افراد کے معاملے پر ملک کے آئین و حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا
جارہا ہے۔


شیئر کریں: