تحریک انصاف حکومت کے قرضے 37 ہزار ارب روپے کی بلند سطح پر

شیئر کریں:

وفاقی حکومت کے قرضے 36 ہزار 613 ارب روپے کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے پی ٹی آئی حکومت
کے 30 ماہ میں وفاقی حکومت کے قرضوں میں 48 فیصد اضافہ رکارڈ کیا گیا11 ہزار 880 ارب روپے
بڑھ گئے۔

اسٹیٹ بینک کے اعدادو شمار کے مطابق پی ٹی آئی حکومت کے 30 ماہ کے دوران وفاقی حکومت کے قرضوں
میں کمی کی بجائے 11 ہزار 881 ارب روپے کا اضافہ رکارڈ کیا گیا حکومت نے اوسطا ہر ماہ 396 ارب روپے
کا نیا قرض لیا۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق وفاقی حکومت کے قرضوں کا مجموعی حجم فروری کے اختتام پر 366 کھرب 12
ارب 60 کروڑ روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا۔ تیس ماہ میں قرضوں میں مجموعی طور پر 118 کھرب
80 ارب 70 کروڑ روپے کا اضافہ ہوا۔

اگست 2018 کے اختتام پر وفاقی حکومت کے قرضے 247 کھرب 32 ارب روپے تھے،، 30 ماہ کے دوران
وفاقی حکومت نے ملکی ذرائع سے 79 کھرب 90 ارب 60 کروڑ روپے کے نئے قرضے لیے جس سے ملکی قرضوں
کا حجم 247 کھرب 80 ارب 60 کروڑ روپے ہو گیا۔

بیرونی قرضے اس دوران 38 کھرب 90 ارب روپے کے اضافے سے 118 کھرب 32 ارب روپے تک پہنچ گئے تاہم
وفاقی حکومت کے بیرونی قرضوں میں آئی ایم ایف سے لیا گیا قرضہ اور اسٹیٹ بینک کے پاس ڈپازٹس میں
دوست ملکوں سے ادھار لیے ڈالر شامل نہیں۔

رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے دور وفاقی حکومت کے ملکی ذرائع سے لیے گئے قرضوں میں 47.6 فیصد
اضافہ ہوا اور بیرونی قرضوں کی مالیت میں اضافے کی شرح 49 فیصد رہی۔


شیئر کریں: