لاڑکانہ کا 143 سالہ ریلوے نظام، آخری قلعی بادل علی شیخ‌

شیئر کریں:

رپورٹ: شہزاد علی خان

لاڑکانہ کو ریلوے نظام سے منسلک ہوئے 143 برس بیت گئے لیکن گزرتے وقت کے ساتھ رونقین مانند پڑ گئیں
گذشتہ پچاس سالوں سے مسافروں کا بوجھ اپنے کاندھوں پر ڈھونے والا لاڑکانہ کی واحد ٹرین کا آخری قلعی
بادل علی شیخ بھی موجودہ حالات پر افسردہ ہے۔

لاڑکانہ اللہ آباد کے رہائشی 67 سالہ بادل علی شیخ نے 1971 میں اس وقت کی ٹرینوں کی آمد و رفت سے بھرپور
اور پر رونق ریلوے جنکشن پر بطور قلعی کام شروع کیا لیکن اب وہ لاڑکانہ جنکشن پر آنے والی واحد ٹرین اور
ویران و سنسان پلیٹ فارم کے آخری قلعی ہیں لاڑکانہ برصغیر کے سن 1878 میں ریلوے کے نظام کا حصہ بنا۔

حیدرآباد کوٹری پل نہ ہونے کے باعث 22 سالوں تک لاڑکانہ ریلوے اسٹیشن کراچی سے مشرقی بھارت کی
تجارت کا اہم اور تیز ترین ذریعہ تھا 1924 میں لاڑکانہ کو جنکشن کا درجہ ملا۔

70 کی دہائی میں سابق وزیراعظم شھید ذوالفقار علی بھٹو نے اس کی نئی عمارت کا افتتاح کیا تاہم پہلے
1996 میں لاڑکانہ ڈرائی پورٹ بند کیا گیا۔

پھر 27 دسمبر 2007 محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے دن سے ٹرینز کو بند کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا
جو کہ 2011 تک چلتا رہا اب صرف ایک موئن جو دڑو ایکسپریس پیسنجر ٹرین ہی لاڑکانہ ریلوے
اسٹیشن پر آتی ہے۔


شیئر کریں: