مظفر آباد میں متاثرین شاہ سلطان پُل نے احتجاجی دھرنے کے دھمکی دے دی

شیئر کریں:

متاثرین شاہ سلطان پل انصاف کے حصول کے لیے مرکزی ایوان صحافت پہنچ گئے ہمارے ساتھ لگاتار
ناانصافی کی جارہی ہے دو سال قبل پُل کا سنگِ بنیاد رکھا گیا اور اب تک ہمیں معاوضہ نہیں دیا گیا۔
پہلے ہی معاوضہ کم دیا جارہا ہے اور اس پر کرپشن اور بے ضابطگیوں کی خبریں ہمارے خلاف
سازش لگ رہی ہیں۔

متاثرین نے معاوضہ کی جلدادائیگی نہ کرنے کی صورت میں احتجاج کی دھمکی دیدی۔ مظفرآباد شہر کے
منفرد منصوبے”شاہ سلطان پُل“ کے متاثرین نے مرکزی ایوان صحافت میں میڈیا نمائندگان کو تفصیلات
سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم لوگ عرصہ دراز سے یہ سنتے آرہے ہیں کہ بینک روڈ پر ٹریفک کے
دباو اور جائیکا کی رپورٹ کے مطابق پُل کی تعمیر ناگزیر ہے جو گیلانی چوک کو الائیڈ بینک والی
جگہ سے لنک کرے گا ۔ اس حوالے سے متعدد بار ہمیں فارم 4 بھی جاری کیے گئے اور پُل کا متعدد بار
ڈیزائن تبدیل کیا گیا۔

متاثرین نے کہا وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمدفاروق حیدر خان نے جون 2019 میں پُل کا سنگ بنیاد رکھا۔
تقریباً 2 سال سے متاثرین کو آئے روز نئی نئی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران پُل کی
تعمیر کے لیے سروے بھی کیے گئے اور متاثرین سے عذرات بھی مانگے گئے۔ ہم نے اپنے عذرات میں حکومت
سے یہ مطالبہ کیا کہ ان کی اراضی اورتعمیر ات کا معقول معاوضہ لگایا جائے کیونکہ جس جگہ متاثرین آباد
ہیں وہ شہر کا دل ہے اور سب سے زیادہ کمرشلائز جگہ ہے جہاں پر کرایوں کی مد میں بھی تعمیرات کی
جائے تو لاکھوں روپے کی ماہانہ آمدن ہوتی ہے مگر ہمارے عذرات کے برعکس متاثرین کی اراضی اور
تعمیرات کے انتہائی کم معاوضہ جات لگائے گئے جو نا انصافی کے مترادف ہے۔

پاک بھارت امن مذاکرات کشمیری عوام نے ائیرپورٹس کی بحالی کا مطالبہ کردیا

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ متاثرین شاہ سلطان پُل ہرگز اپنے مکانات دینے کے حق میں نہیں تھے مگر
چونکہ شاہ سلطان پُل عوامی منصوبہ ہے اور مفادِ عامہ کی خاطر متاثرین یہ کڑوا گھونٹ بھرنے پر مشروط
رضامند ہوئے لیکن جب ایوارڈ جاری ہوا تو اس میں متاثرین کی اراضی کی قیمت فی مرلہ 3 لاکھ روپے
رکھی گئی جو متاثرین کو قابل قبول نہ ہے۔

تعمیرات کا معاوضہ بھی مارکیٹ ریٹ سے انتہائی کم لگایا گیا ہے اس پر ستم ظریفی یہ کہ آئے روز چندمفاد
پرست عناصر کے ذریعے دانستہ طور پر کرپشن اور بے ضابطگیوں کی جھوٹی خبریں شائع کی گئیں جن میں
کوئی صداقت نہ ہے۔
اس پر محکمہ شاہرات کے چیف انجینئر آفس کی جانب سے ایک مکتوب سامنے آیا جس نے متاثرین کے زخموں
پر نمک پاشی کا کام کیا اور یہ تااثر دینے کی کوشش کی گئی جیسے متاثرین اربوں روپے لے گئے ہیں جبکہ اب
تک متاثرین شاہ سلطان پُل کو ایک روپیہ بھی معاوضہ ادا نہیں کیا گیا ہے اور ڈرلنگ سے ہمارے مکانات بھی
متاثر ہوچکے ہیں کیونکہ پُل کی تعمیر کا کام جاری ہے۔

چیف انجینئر شاہرات نارتھ کے مکتوب کے حوالے سے متاثرین نے کہا کہ محکمہ شاہرات کے افسران کو چند
عناصر بہکا رہے ہیں اور ان کے قول و فعل میں تضاد نظر آرہا ہے۔دوسری جانب ڈی سی مظفرآباد کا رویہ بھی
متاثرین کے ساتھ انتہائی نامناسب رہا ہے۔متاثرین شاہ سُلطان پُل نے وزیراعظم آزادکشمیر اور چیف
سیکرٹری آزادکشمیر سمیت تمام متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرین نے جو عذرات جمع کرائے تھے
ان کے مطابق معاوضہ جات ادا کیے جائیں اس کے علاوہ متاثرین نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ایوارڈ میں جابرانہ
کی شرح کو صرف 15 فیصد رکھا گیا ہے جسے بڑھا کر کم از کم50 فیصد‘ایوارڈ میں ریٹ بھی 2018 کا
لگایا گیا ہے۔ اب 2021 چل رہا ہے اور موجودہ مہنگائی کے تناسب کے مطابق نئی قیمتیں لگائی جائیں۔

متاثرین کو فی الفور معاوضوں کے چیک ادا کیے جائیں اور جب تک متاثرین کو معاوضہ جات ادا نہیں کیے
جاتے پُل کی تعمیر کا کام روکا جائے۔متاثرین کو اگر اراضی کی قیمت کم ہی لگا کر دینی ہے تو اس کے بجائے
متبادل جگہ فراہم کی جائے۔

متاثرین نے کہا اگر ان کے مطالبات نہ مانے گئے تو ایکشن کمیٹی تمام متاثرین سے مشاورت کے بعد شہر کی
مصروف ترین شاہراہ بینک روڈ کو بند کرکے دھرنا دے گی اور جب تک متاثرین کے مطالبات پورے نہیں کیے
جاتے یہ دھرنا جاری رہے گا۔ امید ہے وزیراعظم اور چیف سیکریٹری واقعہ کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے
فی الفور ایکشن لیں گے۔


شیئر کریں: