اسلام آباد کو تین دہائیوں بعد راول ڈیم سے پانی کی سپلائی بحال

شیئر کریں:

تحریر ندیم رضا

موسم گرما شروع ہوتے ہی اسلام آباد میں سب سے بڑا مسئلہ پانی کی کمی ہوتا ہے۔ اس بار اسلام آباد کے
باسیوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیوں کہ سی ڈے اے نے راول ڈیم سے بند پانی کی سپلائی کو تین
دہائیوں بعد بحال کروا دیا ہے۔

اسلام آباد کے شہری اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ گزشتہ موسم گرما میں پانی کی بہت تنگی تھی۔ بعض
سیکٹر تو ایسے تھے جہاں تین تین دن بعد پانی آتا تھا۔ پانی کی شدید قلت کے باعث شہریوں کو شدید
پریشانی کا سامنا تھا۔

پانی کی کمی کی دوبڑی وجوہات تھیں۔ ایک وجہ اسلام آباد کی آبادی میں تیزی سے اضافہ اور دوسری سب
سے بڑی وجہ راول ڈیم سے اسلام آباد کو پانی کی سپلائی معطل ہونا تھا۔

اسلام آباد کی آبادی راکٹ کی تیزی کی رفتار سے بڑھ رہی ہے جس کے لیے وسائل کو بڑھانا اور دستیاب وسائل
کو بہتر طریقہ سے استعمال میں لانا انتہائی ضروری ہے۔

گزشتہ تین دہائیوں سے اسلام آباد اپنی ضرورت کا پانی سملی ڈیم، خان پور ڈیم اور ٹیوب ویلوں سے لیتا تھا۔
اسلام آباد کے قریب ترین راول ڈیم کا پانی اسلام آباد کے شہریوں کے لیے بند تھا۔

راول ڈیم کے پانی کی اسلام آباد کے لیے بندش کی وجہ واجبات کی عدم ادائیگی بتائی جارہی تھی۔ اسلام آباد
کی مقامی حکومت کے زمہ اسمال ڈیم آرگنائزیشن کے 3 کروڑ 20 لاکھ روپے واجب الادا تھا جس کی بنا پر
شہر کو راول ڈیم پانی کی فراہمی بند کی گئی تھی۔

سی ڈے اے کی نئی انتظامیہ نے اس کو فوری طورپر حل کرتے ہوئے اسمال ڈیم آرگنائزیشن کو واجب الدا تمام
رقم ادا کردی ہے۔ رقم کی ادائیگی کے بعد اسلام آباد کو طویل ترین انتظار کے بعد پانی کی سپلائی شروع کردی
گئی ہے۔

سی ڈی اے کے مطابق تین دہائیوں کے انتظار کے بعد اب روزانہ کی بنیاد پر اسلام آباد کو 20 لاکھ گیلن پانی کی
فراہمی جاری ہے۔ سی ڈے اے کے اس اقدام کا فائدہ براہ راست اسلام آباد کےشہریوں کو ملے گا اور پانی کی کمی
کا ان کا دیرانہ مسلہ فوری طور پر حل ہوجائے گا۔

اسلام آباد کے باسیوں کو پانی کی قلت کو پورا کرنے کے لیے ٹینکرز منگوانا پڑتے تھے۔ ٹینکرز سے پانی حاصل کرنا
مہنگا ہونے کے ساتھ ساتھ وقت طلب کام تھا۔ اب راول ڈیم سے پانی کی سپلائی کے بعد اسلام آباد میں پانی کی
قلت کا مسئلہ حل ہوجائے گا۔

پانی کے مسلہ کو حل کرنے کا تمام تر کریڈٹ سی ڈی اے کو جاتا ہے۔ سی ڈی اے نے گزشتہ چند ماہ میں
مثالی کارکردگی دیکھائی ہے۔ اسلام آباد کی ڈیلویلپمنٹ اتھارٹی کی کارکردگی اسلام آباد کی شاہراہیں
سرسبز وشاداب گرین بیلٹس اورپارکس خود بیان کر رہے ہیں۔

اسلام آباد کے تمام شاہراوں پر رنگ برنگے پھول کھل چکے ہیں جو اپنے چمن کے مالی کی محنت کے گیت
گا رہے ہیں۔ اسی طرح اسلام آباد کی تمام شاہراوں کی مرمت اور رنگ و روغن کا کام بھی سی ڈی اے نے
بروقت مکمل کرلیا ہے۔

شاہراہیں بہترین حالت میں ہونے اور اطراف میں درخت، پھول اور سبزگرین بلیٹس سے اسلام آباد مزید
خوبصورت ہوگیا ہے۔ سی ڈی اے کی اسلام آباد پر محنت پر جتنی تعریف کی جائے اتنی کم ہے۔

سی ڈی اے کی طرف سے راول ڈیم سے پانی کی سپلائی کا کام تو انتہائی احسن ہے۔ روزانہ 20 لاکھ گیلن پانی
کی فراہمی سے تمام سیکٹرز میں پانی کی قلت دور ہوجائے اور اس موسم گرما میں پانی کی پریشانی نہیں ہوگی۔

سی ڈی اے نے تو اسلام آباد کو پانی کی سپلائی بحال کردی ہے لیکن اب شہریوں کی زمہ داری ہے کہ وہ پانی
کے بے جا استعمال کو روکیں۔ اگر کہیں پانی ضائع ہوتا دیکھیں تو اسے روکیں اور گھروں میں بھی پانی استعمال
کے بعد نل فوری بند کریں۔

پانی اللہ کی نعمت ہے اور ہمیں اس کی قدر کرنی چاہیے۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ پاکستان کے بیشتر علاقے پانی کی
کمی کا شکار ہیں۔ ایسے علاقے بھی ہیں جہاں لوگوں کو پینے کے لیے صاف پانی تک دستیاب نہیں۔ اگر ہم پانی
کے بے جا استعمال سے گریز نہیں کریں گے تو آنے والی نسلوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے
کیوں کہ دنیا سے پانی کے ذخائر تیزی سے کم ہورہے ہیں۔

اسلام آباد کے باسیوں کو بھی زمہ دار شہری ہونے کا کردار ادا کرنا ہوگا اور دستیاب پانی بہتر انداز میں استعمال
کرتے ہوئے ضائع ہونے سے بچانا ہوگا۔


شیئر کریں: