پاکستانی کا کرکٹ سے جذباتی لگاؤ، اسپین میں کرکٹ گراؤنڈ کی مہم

شیئر کریں:

رپورٹ کرن خان

پاکستان اور دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح اب اسپین میں بھی کرکٹ کے کھیل نے خاصی مقبولیت حاصل
کر لی ہے۔ اس کا انداز یوں لگایا جاسکتا ہے کہ بارسلونا سٹی کونسل میں اس سال کل 822 پراجیکٹس
جمع کرائے گئے ہیں۔ ایشین کمیونیٹی خاص طور پر پاکستانی کمیونیٹی کے لیے کرکٹ گراؤنڈ کا منصوبے
کا مطالبہ بھی شامل ہے۔

بارسلونا سٹی کونسل کو ہر سال مختلف پراجیکٹس پیش کیے جاتے جن میں سے عوام کی ضرورت اور
خواہش کے مطابق قابل عمل پراجیکٹس کا چنائو کیا جاتا ہے۔

اسی طرح بارسلونا کی سٹی کونسل کے مطابق 822 پراجیکٹس کیلئے 75 ملین یورو مختص کئے گئے تھے۔
کووڈ-19 کی وجہ سے بجٹ کم کر کے 30 ملین کر دیا گیا۔ کرکٹ گراؤنڈ کے لیے 1,2 ملین یورو رکھے گئے
ہیں اس پراجیکٹ کے کل 7 مراحل ہیں ان میں سے تیسرے مرحلے پر رائے شماری کا مرحلہ جاری ہے
اس کیلئے 2700 ووٹ درکار ہیں۔

ووٹنگ کا یہ مرحلہ آن لائن ہے اور گوگل اکاؤنٹ کے ذریعے ووٹ ڈالا جا سکتا ہے۔ ووٹرز کی عمر کم از کم
14سال ہے بارسلونا کا رہائشی ہونا لازمی ہے یعنی ان کی رجسٹریشن بارسلونا میں ہونی چاہیے۔

اس سلسلے میں پاکستانی کمیونٹی بھرپور طریقے سے متحرک ہے۔ان میں خواتین، بچے، نہ صرف پاکستانی،
بلکہ انڈین، بنگالی اور اسپینش بھی ووٹ دے رہے ہیں۔ اس گراؤنڈ میں نہ صرف پاکستانی کرکٹ ٹیمیں بلکہ
ویمن کرکٹ ٹیم ، انڈین اور بنگالی کمیونٹی کی ٹیمیں بھی کرکٹ کھیل سکیں گی۔

قونصل جنرل عمران علی چوہدری نے کتلان کرکٹ فیڈریشن اور تمام لوگوں سے ووٹ کاسٹ کرنے کی اپیل کی۔
ووٹنگ کا عمل آن لائن اور کتلان زبان میں ہے عام آدمی کو ووٹ ڈالنے میں مشکل کا سامنا ہے۔ اس لیے ووٹنگ
کے پراسس کیلئے ڈور ٹو ڈور مہم شروع کی گئی ہے۔

مہم میں کاتالان کرکٹ فیڈریشن، ٹیکسی سیکٹر کے لوگ
اور سیاسی جماعتوں سے وابستہ لوگ سرگرم عمل ہیں۔ مہم کے دوران معلوم ہوا ہے کہ پاکستانی قوم کے اندر
کرکٹ سے والہانہ محبت ہے ان کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت، فرقے یا گروپ سے ہو لیکن کرکٹ گراؤنڈ
حاصل کرنے کیلئے وہ سب ایک پیج پر ہیں۔


شیئر کریں: