ریاست کے اندر ریاستیں

شیئر کریں:

تحریر ندیم رضا

کورونا وائرس نے دنیا بھر کی معیشتوں کو تباہ کر دیا۔ انسانوں کے معمولات اور رہن سہن بھی بدل کر رکھ دیے ہیں۔ سماجی تقریبات، سیاحت اور کاروباری میل ملاپ سب ہی 2019 جیسے نہیں رہے۔
پوری دنیا ہی کو کورونا کی وبا کا مقابلہ کرنے کے لیے لاک ڈاؤن جیسے کرب سے گزرنا پڑا اور اب دوبارہ سے کئی ممالک میں لاک ڈاؤن کیا جارہا ہے۔
پاکستان کو بھی انہی خطرات اور خدشات کا سامنا ہے۔ گزشتہ برس لاک ڈاؤن کی حمایت اور مخالفت میں مختلف بیانیے تھے۔ بہرحال وہ وقت گزر گیا لیکن اب کورونا کی تیسری لہر قہر بن کر وطن عزیز پر منڈلارہی ہے۔
حکومت نے تیسری لہر سے اپنے شہریوں کو بچانے کے لیے اسمارٹ لاک ڈاؤن شروع کیا ہوا ہے۔ پہلے سے رائج ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کرانے کے اعلانات بھی کیے جا چکے ہیں۔
حفاظتی اقدامات کے طور پر ایک بار پھر سے شادی ہال، سینما اور بڑی تقاریب پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ دکانوں کے اوقات کار کم کیے ہیں۔ ساتھ ہی تعلیمی ادارے بھی بند کر دیے گئے ہیں۔
حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے یہ تمام اقدامات عالمی ادارہ صحت کے منظور شدہ طریقہ کار کے تحت کیے جارہے ہیں۔ ان اقدامات پر عمل کر کے جانی نقصان کا خطرہ کم سے کم کیا جاسکتا ہے۔ کورونا وائرس ایک سے دوسرے انسان اور اس طرح یہ آگے سے آگے پھیلتا رہتا ہے۔
اس وبا پر قابو پانے کا ایک یہی مروجہ طریقہ ہے ایس او پیز پر عملدرآمد کرنے میں ہی ہم سب کی بقا اور سلامتی پنہاں ہے۔ اس فارمولے سے سب ہی بخوبی آگاہ ہیں لیکن بدقسمتی سے اس پر عمل کرنے کو تاجر تیار ہیں اور نہ ہی اسکول مالکان، سب ہی نے ریاست کے اندر اپنی ریاست بنا رکھی ہے۔ حکومت کے فیصلے کو ہر شخص چیلنج کرنے کے لیے کھڑا ہو جاتا ہے چاہتے ہیں ان کی مرضی کا قانون بنایا جائے۔
سب سے زیادہ پریشانی اسکول مالکان کو ہوتی ہے بچوں کی زندگیوں پر فیسوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اسکول بند ہیں لیکن فیسوں کو چالان بلا تعطل بھیج دیتے ہیں۔ پھر کراچی کے تاجر تو کسی بھی طور کاروباری مراکز جلد کھولنے اور وقت مقررہ پر بند کرنے کو تیار ہی نہیں ہوتے۔
کراچی کے تاجروں نے کاروباری مراکز صبح 6 بجے کھولنے اور رات 8 بجے بند کرنے کا حکومتی اعلامیہ مسترد کردیا۔ تاجر کہتے ہیں پرانے اوقات بحال کیے جائیں محدود اوقات میں کاروبار کرنا مشکل ہو گا اور رش بڑھنے سے کورونا پھیلے گا۔
دنیا بھر میں زندگی کے معمولات صبح سویرے پانچ بجے سے شروع کر دیے جاتے ہیں 7 بجے دکانیں کھلتی اور شام 6 بجے تک بیشتر بازار بند کر دیے جاتے ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں گنگا الٹی بہتی ہے۔ صبح دیر سے بازار کھولیں گے اور رات گئے بند کرنے کا نام نہیں لیتے۔
زندگی نظم و ضبط کے بغیر ہونے کی وجہ سے بیماریاں پھیلتی ہیں اور سماجی مسائل بھی اسی سے جنم لیتے ہیں۔
اسی طرح ملک بھر میں شادی ہال مالکان بھی ہالز بند کرنے کے فیصلے کی مذمت کر رہے ہیں۔ ریسٹورنٹ کے اندر کھانے پر پابندی لگی تو ہوٹلز مالکان نے بھی ناراضی ظاہر کی۔
سب ہی اپنی اپنی پسند کے قوانین بنا کر زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھانے ہوں تو دوسرے ملکوں کی ترقی اور سہولتوں کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ جب حکومت ایک نظام میں لانا چاہیے تو اس کی ایک ماننے کو تیار نہیں ہوتے۔
کوئی بھی ملک اور قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب وہ اپنی حالت خود بدلنے اور ایک نظام کے تابع زندگی گزارنے کو تیار نہ ہوں ۔ ریاست عوام سے ہوتی ہے اور ریاست عوام کے جان و مال کے تحفظ کی زمہ دار ہوتی ہے۔ بالکل اسی طرح عوام بھی ریاست کے قوانین پر من و عن عمل درآمد کرنے کے پابند ہوتے ہیں۔ ریاست کو بھی چاہیے کہ وہ ریاست کے اندر ریاستیں بنانے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹۓ۔


شیئر کریں: