ائیرپورٹس پر کھڑے جہازوں میں ہوٹل کھل گئے،540 ڈالر کا کھانا

شیئر کریں:

کورونا وائرس کی وبا نے پوری دنیا کا نظم و نسق بدل کر رکھ دیا ہے۔ بڑی بڑی معیشتیں بیٹھ گئیں۔ لاک ڈاؤن
اور سفری پابندیوں کی وجہ سے کئی ائیرلائنز بند ہو گئیں۔ ٹکٹس کی قیمت نصف کیے جانے کے باوجود مسافر
سفر کرنے کو تیار نہیں۔

ائیرلائنز نے موجودہ صورت حال سے نمٹنے اور نقصان کم سے کم کرنے کے لیے نئے نئے رجحانات تخلیق کیے ہیں۔
ایسا ہی ایک نیا انداز جاپان کی ائیرلائنز اے این اے نے اختیار کیا ہے۔ انہوں نے رن وے پر کھڑے جہازوں میں
شہریوں کو کھانے کی پیش کش کر دی ہے۔

ائیرلائنز نے ایک وقت کا کھانا 540 ڈالر میں پیش کیا اور کچھ وقت میں تمام ٹکٹ فروخت ہو گئے۔ بوئنگ
777 میں فرسٹ کلاس اور اکانامی کلاس کے ٹکٹ کی قیمت میں فضائی سفر کی طرح فرق رکھا گیا ہے۔

اسی طرح دیگر ممالک بھی معاشی بدحالی کا مقابلہ کرنے کے لیے مختلف تدابیر پر غور کر رہے ہیں۔
اس کے برعکس آسٹریلیا واحد ملک ہے جو اپنی ائیرلائنز کو فضا میں رکھنے کے لیے 1.2 ارب ڈالر کا پیکیج دیا
ہے لیکن پھر بھی عوام کی جانب سے حوصلہ افزا نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
کورونا کی وجہ سے کئی ائیرلائنز پہلے ہی بند ہو چکی ہیں اور بیشتر نے اپنے ملازمیں کی تعداد بھی انتہائی کم
کر دی ہے۔


شیئر کریں: