پاک بھارت امن مذاکرات کشمیری عوام نے ائیرپورٹس کی بحالی کا مطالبہ کردیا

شیئر کریں:

تحریر: ابوالقاسم حیدری

پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں اور جنوبی ایشیاء ایک دوسرے کے دشمن ممالک کے طور پر جانے
جاتے ہیں جس کی تاریخ انگریزوں سے آزادی کے بعد شروع ہوتی ہے, پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعہ
کی واحد بڑی وجہ خطہ کشمیر ہی رہا ہے جس کا بڑا حصہ اس وقت بھی ہندوستان کے زیر قبضہ ہے جبکہ
کچھ خطہ پاکستان کے زیر انتظام ہے جسے آزادکشمیر کہا جاتا ہے.

آزادکشمیر میں قائم حکومت عبوری آئین 1974 کے تحت چل رہی ہے جس میں دفاع, کرنسی اور خارجی
امور پاکستان کے زیر انتظام ہیں جبکہ دیگر تمام معاملات میں یہاں کی حکومت آزادہے اور ن لیگ کے دور
میں ہونے والی تیرہویں آئینی ترمیم کے بعد اس خطے کی حکومت کو مزید اختیارات دیدیے گئے ہیں
لائن آف کنٹرول کے دوسری جانب مودی حکومت نے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد 5 اگست 2019 کو
ریاست کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت دیا گیا خصوصی اسٹیٹس بھی ختم کرکے اس دو حصوں میں
تقسیم کردیا اور براہ راست دہلی کے کنٹرول میں کردیا.

بھارت کی جانب سے زبردستی کشمیر اپنے ساتھ جوڑنے اور عوام کو محصور کرنے پر پاکستان اور بھارت کے
تعلقات مزید خراب ہوئے اور نوبت چوتھی جنگ تک آپہنچی تھی. (پاکستان اور بھارت کے مابین مسئلہ
کشمیر پر 1965ء, 1971ء اور 1999ء میں جنگیں ہوچکی ہیں)

مگر گزشتہ کچھ ہفتوں سے پاک بھارت تعلقات میں عجیب بدلاو محسوس کیا جارہا ہے, آئے دن سیز فائر لائن
پر پاکستان اور بھارتی فوجوں کے درمیان گولہ باری اور فائرنگ سے کئی مقامی لوگ اس کا شکار ہوتے تھے
مگر حال ہی میں پاک بھارت افواج کے ڈی جی ایم اوز کی ہاٹ لائن پر بات چیت کے دوران اس بات کا اعادہ
کیا گیا کہ 2003 کے سیز فائر معاہدے پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے گا اور اس کے بعد امن کی نئی راہیں
دکھنے لگیں اور اس کے بعد رفتہ رفتہ تعلقات مزید بہتری کی جانب جاتے دکھائی دے رہے ہیں.

کئی بین الاقوامی جریدوں میں بھی پاک بھارت تعلقات میں تبدیلی کی خبریں بھی آئے روز نظر آرہی ہوتی ہیں
حتیٰ کہ حال ہی میں اسلام آباد میں ایک تقریب کے دوران وزیراعظم پاکستان عمران خان نے بھی پائیدار
امن کے قیام پر زور دیا.

عمران خان جب کورونا میں مبتلا ہوئے تو بھارتی وزیراعظم نے اپنی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر
پر موجود اپنے اکاونٹ سے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا, صرف یہ ہی نہیں حتیٰ کہ 23 مارچ
(یوم پاکستان) جس دن پاکستان اپنی بھرپور دفاعی قوت کا مظاہرہ کرتا ہے, اُس دن کی مناسبت سے بھی
بھارتی وزیراعظم نے تحریری طور پر پاکستان کو مبارکباد دی.

حالیہ پاک بھارت امن مذاکرات کے نئے دور میں آزادکشمیر میں آباد کشمیریوں نے بھی نئی امیدیں لگالی ہیں
اِن میں سر فہرست سیاحت کے فروغ کے لیے ریاست کے تینوں ڈویثنز میں قائم ائیر پورٹس ہیں جن پر
90 کی دہائی تک جہاز چلا کرتے تھے مگر 1999 کے بعد ان پر پروازیں بند کردی گئی, یاد رہے کہ اُس
وقت یہ بات زبان زد عام تھی کہ Take off اور Landing کے وقت جہازوں کو ایل او سی کے قریب سے
گزرنا پڑتا ہے اور سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر ان کو بند کردیا ہے, یہ ائیر پورٹس آج بھی سول ایوی
ایشن اتھارٹی کے زیر انتظام ہیں جن میں ایک مظفرآباد, دوسرا راولاکوٹ میں موجود ہے
ان ائیرپورٹس پر پروازیں نہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ نوے کی دہائی میں چلنے والے فوکر طیارے
ان پر زیادہ چلا کرتے تھے جو اب مزید آپریشنل نہیں رہے.

تکنیکی طور دیکھا جائے تو اِن ائیرپورٹس کے رنوے 800 میٹر سے 1.5 کلومیٹر تک بتائے جاتے ہیں جو
نیپال جیسے ملک میں واقع کئی ائیر پورٹس سے بڑے ہیں، اس کی مثال اس طرح لی جاسکتی ہے کہ نیپال
جو کہ پورا ملک پہاڑی سلسلوں پر واقع ہے اس کی سب سے سب سے چھوٹے ائیرپورٹ کے رنوے کی لمبائی
527 میٹر ہے ریاستی دارالحکومت مظفرآباد میں واقع ائیر پورٹ کے رنوے کی لمبائی 902 میٹر ہے۔

آزادکشمیر میں عوام کا روزگار کے لیےانحصار سرکاری ملازمتوں پر ہے اور 40 لاکھ کی آبادی پر محیط
اس خطے میں 1 لاکھ سے زائد افراد صرف سرکاری ملازمین ہیں جبکہ 22 کروڑ آبادی کے حامل ملک
(پاکستان)کے وفاق میں ملازمین کی تعداد 6 لاکھ ہے، اس کے علاوہ سیاحت ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس
کے ذریعے اس خظے میں معاشی انقلاب آسکتا ہے اور اگر یہاں کے ائیرپورٹس آپریشنل کردیے جائے تو
اس سے مقامی افراد کو روزگار بھی ملے گا اور سیاحت کو بے پناہ فروغ مل سکتا ہے۔

ایک محتاظ اندازے کے مطابق ریاستی حکومت کے ایلیٹ بشمول صدر، وزیراعظم، اعلٰی عدلیہ کے
جج صاحبان و ملازمین سمیت بیوروکریسی صرف اسلام آباد آنے جانے اور پروٹوکولز پر ماہانہ 5 کروڑ
سے زائد رقم صرف ٹرانسپورٹ کی مد میں خرچ کرتے ہیں جس میں شاندار گاڑیوں میں پڑنے والا ہائی
آکٹین فیول اور ان کی مینٹیننش کے اخراجات بھی شامل ہیں جو مجموعی طور پر سالانہ 60 کروڑ سے
زائد بن جاتے ہیں۔ اگر صرف ریاستی دارالحکومت میں ائیرپورٹ چلا دیا جائے تو اس کے اخراجات
حکومت آزادکشمیر کے سرکاری دورے ہی پورے کرسکتے ہیں۔

شہریوں نے وفاقی حکومت اور باالخصوص وزیراعظم عمران خان سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر وہ اس خطے
میں سیاحت کا فروغ چاہتے ہیں تو یہاں کے ائیر پورٹس کو چلایا جائے ،اس کے ساتھ ریاستی حکومت
بھی اس حوالے سے عملی اقدامات کرے. ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ آزادکشمیر کے آمدہ انتخابات میں
جو سیاسی جماعتیں اپنے منشور میں ان ائیرپورٹس کو دوبارہ آپریشنل کرنے کا وعدہ کرتی ہیں وہ
عوام میں زیادہ پذیرائی پاسکتی ہیں۔


شیئر کریں: