ایران اور چین کی تجارت کا حجم 600 ارب ڈالر تک لے جانے کا معاہدہ

شیئر کریں:

ایران اور چین نے تجارت اور آپسی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا عزم کر کے اسرائیل اور مغربی
دنیا کی پریشانیاں بڑھا دی ہیں۔ چین کے وزیرخارجہ سعودی عرب اور ترکی کا اہم دورہ کر کے ایران
پہنچے ہیں۔ خطے میں تجارت اور کشیدگی دور کرنے کے لیے چین کا اعلی سطح وفد سعودی عرب،
ترکی، ایران، متحدہ عرب امارات،بحرین اور اومان کے دورہ پر ہے۔

اس دورے کا مقصد ایران کے ساتھ سفارتی، معاشی اور دفاعی تعلقات میں مزید بہتری کرنا ہے۔ چین کے
وزیرخارجہ نے ایران سے مشرق وسطی کے امن اور جوہری ڈیل پر تبادلہ خیال کیا۔

دورہ کی اہم ترین پیش رفت چین اور ایران کے درمیان طویل المدتی یعنی پچیس سالہ معاہدہ ہے۔ دونوں
ملک طویل المدتی شراکت داری کا معاہد کررہے ہیں۔

ایران اسرائیل کشیدگی، فرانس کا بحری بیڑا خلیج عمان میں کھڑا ہوگیا

عالمی پابندیوں سے تنگ دونوں بڑے ممالک نے آپسی تجارت کے حجم کو بھی بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اگلی ایک دہائی میں باہمی تجارت دس گنا بڑھا کے اس کا حجم 600 ارب ڈالر تک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
چین وزیرخارجہ اپنے دورہ دورے پر ایران سے توانائی اور انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کے بڑے معاہدوں پر
دستخط کیے ہیں۔

چین کا کہنا ہے ایران نیوکلئیر ڈیل میں ایرانی مفادات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ایران کے ساتھ شراکت داری
کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔ گزشتہ دو سالوں میں چین نے ایران سے ریکارڈ تیل خریدنے کی تصدیق بھی ہے۔

ایران اس سے قبل اپنی دفاعی ضروریات کے لیے چین اور روس سے جنگی ساز و سامان بھی خرید رہا ہے۔
مغربی بلاک میں ایران اور چین کی شراکت داری پر تشویش پائی جارہی ہے۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے اور چین کا
راستہ روکنے پر مشاورت کی ہے۔ بائیڈن نے جانس سے چین کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کو کاونٹر کرنے
پر بھی بات کی ہے۔

بائیڈن نے برطانیہ پر زور دیا ہے کہ جمہوری ممالک کو چین کے خلاف اکٹھا ہوجانا چاہیے۔ اور دنیا کی تمام
جمہوری قوتوں کو مل کر ون بیلٹ ون روڈ طرز پر منصوبہ بنانا چاہیے جس سے دنیا کے تمام ممالک کو
زمینی راستے سے جوڑا جاسکے۔

جمہوری ممالک مل کر چین کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔ چین کی حالیہ ڈپلومیسی
اور معاشی ترقی سے واشنگٹن شدید تشویش میں مبتلا ہے۔

امریکا جانتا ہے کہ اگر فوری طور پر اس نے کوئی جامع منصوبہ بندی نہ کی تو چین بہت جلد دنیا کی
سب سے بڑٰی معاشی طاقت کے ساتھ ساتھ سپرپاور بھی بن جائے گا۔


شیئر کریں: