ایران اسرائیل کشیدگی، فرانس کا بحری بیڑا خلیج عمان میں کھڑا ہوگیا

شیئر کریں:

ایر ان اور اسرائیل میں ایک بار کشیدگی کے بعد فرانس نے اپنا طیارہ بردار بحری جہاز خلیج عمان میں
بھیج دیا ہے۔ فرانسیسی جنگی بیڑے کی تعیناتی اسرائیل کو تحفظ دینے کی غرض سے کی گئی ہے۔

اسرائیلی بحری جہاز پر تازہ راکٹ حملہ کا براہ راست الزام اسرائیل نے ایران پر عائد کیا تھا۔ تنزانیہ سے
بھارت کی طرف جانے والے بحری جہاز پر راکٹ لگتے ہی اسرائیل نے کہہ دیا تھا کہ ایران نے اس کے مال بردار
جہاز کو میزائل سے نشانہ بنایا ہے۔

ایران کا اسرائیل کے بحری جہاز پر میزائل حملہ

اسرائیلی بیان کے بعد تہران اور تل ابیب کے درمیان صورت حال پھر سے کشیدہ ہوگئی ہے۔ ایران کی طرف
سے اسرائیلی الزامات پر تاحال کوئی ردعمل نہیں دیا گیا۔ تاہم فرانس نے ضرور موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے
اپنا جنگی بیڑہ خلیج عمان میں تعینات کردیا ہے۔ بحیری بیڑے کی تعیناتی کا فیصلہ اسرائیلی درخواست پر
کیا گیا ہے۔

اسرائیل نے خدشہ ظاہرکیا تھا کہ ایران اسے کے مزید مال بردار جہازوں کو نشانہ بناسکتا ہے۔ فرانس کا کہنا
ہے کہ وہ عالمی امن بالخصوص مشرق وسطی میں امن کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا اور وہ مشرق وسطی
کے امن کے لیے کیے گئے عالمی معاہدوں کا پابند ہے۔ انہی معاہدوں کی پاسداری کرتے ہوئے خلیج عمان میں
طیارہ بردار بحری بیڑے کو تعینات کیا گیا ہے۔

خیال رہے اسرائیل کی ریاست کے قیام میں امریکا، فرانس اور برطانیہ کا بنیادی کردار ہے۔ یہی تینوں
ممالک اسرائیلی سرحدوں کے تحفظ کے ضامن ہیں اور جب جب اسرائیل کو مشکل وقت آیا یہ ممالک
اسرائیل کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔

یہی نہیں عالمی فورمز پر اسرائیل کے غیرقانونی کاموں کو تحفظ
دینے کا ٹھیکہ بھی انہی ممالک نے اٹھا رکھا ہے۔ اسی لیے بغیر تحقیق اسرائیلی الزامات پر ایک بار پھر
فرانس خلیج عمان میں متحرک ہوگیا ہے۔


شیئر کریں: