طالبان نے امریکا کی وعدہ خلافی پر اتحادی فوج پر حملوں کی دھمکی دے دی

شیئر کریں:

امریکا کے صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے رواں برس مئی کے مہینہ میں اپنی فوج واپس بلانے سے انکار
کر دیا ہے اس پر طالبان نے اپنا انتہائی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدہ کی وعدہ خلافی پر وہ
دوبارہ سے غیرملکی فوج کے خلاف جہاد شروع کر سکتے ہیں۔

امریکا اور طالبان کے درمیان گزشتہ سال فروری میں قطر کے درالحکومت دوحہ میں امن معاہدہ ہوا تھا۔
معاہدہ کے مطابق یکم مئی 2021 تک امریکا کے افغانستان میں موجود 2500 فوجی واپس بلا لیے جائیں
گے۔ اس کے ساتھ ساتھ دیگر غیرملکی فوجیں بھی اپنے اپنے ملک چلی جائیں گی۔

طالبان امریکا معاہدہ پر عملدرآمد میں تیزی

معاہدہ کی تکیمل کا وقت جیسے ہی قریب پہنچ رہا تھا اس سے پہلے صدر جوبائیڈن فوج نہ نکالنے کا بیان
دے کر افغانستان میں جاری امن عمل کو متاثر کر دیا ہے۔

خیال رہے دوحہ معاہدے سے پہلے امریکی نمائندہ زلمی خلیل زادے اور طالبان کے درمیان پاکستان کی
معاونت سے مزاکرات کے 9 ادوار ہو چکے تھے اور معاہدہ کو حتمی شکل دی جانے والی تھی کہ اس
وقت کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان مخالف بیان دے کر دوبارہ سے افغانستان کے حالات خراب کر
دیے تھے۔ بالکل اسی طرح موجودہ صدر نے بھی کیا ہے۔

طالبان موجودہ بدلتی صورت حال سے کافی دلبرداشتہ دیکھائی دیتے ہیں انہوں نے امریکا سمیت اتحادی
فوج پر حملوں کی کھلی دھمکی دے ہے۔ اس طرح کہا یہی جاسکتا ہے کہ آئندہ آنے والے دن افغانستان اور
اس کے عوام کے لیے بہتر ثابت نہیں ہوں گے۔


شیئر کریں: