اخراجات آؤٹ آف کنٹرول، نوٹ چھاپنے کی رفتار نے مہنگائی مزید بڑھا دی

شیئر کریں:

حکومتی اخراجات پورے کرنے کے لیے نوٹ چھاپنے کی رفتار پہلے سے بھی تیز ہو گئی۔ مارچ کے پہلے
دو ہفتوں میں 129 ارب روپے سے زیادہ مالیت کے نئے نوٹ جاری کیے گئے۔ زیر گردش نوٹوں کی مالیت
ملکی تاریخ میں پہلی بار 69 کھرب 28 ارب روپے سے بھی تجاوز کر گئی۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق مارچ 2021 کے پہلے دو ہفتوں میں حکومت کی طرف سے مجموعی طور پر
129 ارب 66 کروڑ 40 لاکھ روپے کے نئے نوٹ جاری کیے گئے۔ جس سے ملک میں زیر گردش نوٹوں کی
مجموعی مالیت 69 کھرب 28 ارب 48 کروڑ 10 لاکھ روپے کی تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

 

قرضہ اور نئے نوٹوں نے مہنگائی مزید بڑھا دی

 

آمدنی کے مقابلے میں اخراجات آوٹ آف کنٹرول ہونے کے باعث وفاقی حکومت قرض لے کر اور نئے نوٹ
چھاپ کر اخراجات پورے کر رہی ہے۔ رواں مالی سال کے دوران اب تک حکومت کی طرف سے مجموعی
طور پر 452 ارب 61 کروڑ 30 لاکھ روپے کے نئے نوٹ جاری کیے جا چکے ہیں۔ بجٹ اخراجات پورے کرنے
کے لیے کمرشل بینکوں سے مجموعی طور پر 1 ہزار 546 ارب ارب روپے قرض بھی لیا گیا۔ اقتصادی ماہرین
کے مطابق زیر گردش نوٹوں میں اضافہ بھی مہنگائی کی ایک بہت بڑی وجہ ہے۔

 

تمباکو بیچنے والے قرضہ لینے میں‌ سب سے آگے

 

دوسری جانب بینکوں سے قرض لینے میں تمباکو کا کاروبا کرنے والوں نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اسٹیٹ
بینک کے مطابق رواں مالی سال کے دوران نجی شعبے کی طرف سے مجموعی طور پر کاروبار کے لیے بینکوں
سے لیے گئے قرض میں 4.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ آٹھ ماہ میں 249 ارب 58 کروڑ روپے کے نئے
قرضے لیے گئے۔

انڈسٹری کے تناسب سے قرض میں سب سے زیادہ اضافہ تمباکو کا کاروبار کرنے والوں کے قرض میں ہوا۔
8 ماہ کے دوران تمباکو انڈسٹری کا قرض 251 فیصد بڑھ گیا۔ اسپورٹس انڈسٹری کے قرض میں اس
دوران 58 فیصد، ادویات کا کاروبار کرنے والوں کے قرض میں 25 فیصد اور خوراک کا کام کرنے والوں
کے قرض میں 17 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

ان کے برعکس سڑکوں وغیرہ کی تعمیر کرنے والوں کے قرض میں اضافے کی بجائے 37 فیصد کی کمی رکارڈ
کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق رقم کے حساب سے سب سے زیادہ نیا قرض خوراک تیار کرنے والوں نے لیا۔
آٹھ ماہ میں فوڈ مینوفیکچررز نے مجموعی طور پر 128 ارب روپے کے نئے قرضے لیے۔ ٹیکسٹائل
مینوفیکچرنگ والوں نے 46 ارب 15 کروڑ روپے اور فارماسیوٹیکل والوں نے بینکوں سے 15 ارب
42 کروڑ روپے کے نئے قرضے لیے۔


شیئر کریں: