مشرق وسطی کا 6 ملکی چینی دورہ کیوں؟

شیئر کریں:

تحریر ندیم رضا

دنیا بھر کے نئے نئے بلاکس اور مستحکم تعلقات کے لیے سفارت کاری جاری ہے۔ مشرق ہو یا مغرب سب ہی ہمنوائی اور اپنے عوام کے وسیع تر مفاد میں تعلقات کو پہلے سے زیادہ مستحکم کرنے میں مصروف ہیں۔
تجارتی اور اسٹریٹجک تعلقات میں مزید بہتری کے لیے چینی وزیرخارجہ اہم ترین مشن پر مشرق وسطی کا دورہ کر رہے ہیں۔
مشرق وسطی میں تجارت، امن اور ایک دوسرے ممالک کے معاملات میں دخل اندازی روکنے کے لیے چین کے وزیرخارجہ وینگ یی کی قیادت میں وفد 6 ممالک کا دورہ کر رہا ہے۔
وینگ یی 24 مارچ سے 30 مارچ تک سعودی عرب، ترکی، ایران، متحدہ عرب امارات، بحرین اور اومان کے دورہ پر ہیں۔

سعودی عرب اور چین تعلقات

مشرق وسطی اور اسلامی ممالک کے بااثر ترین ملک سعودی عرب سے اس دورہ کا آغاز ہوا۔ سعودی فرماں روا محمد بن سلمان سے ملاقات میں بدلتی سیاسی صورت حال اور ایک دوسرے ملک میں بے جا مداخلت نہ کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ملکوں نے کسی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا عزم کیا۔ چینی وزیر خارجہ نے محمد بن سلمان کو ان کے ویژن 2030 کے حصول میں ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کی۔ انہوں نے خطے میں سعودی عرب کے کردار کو تسلیم کیا اور قیام امن کے لیے مل کر کام کرنے کا عزم کیا۔ دونوں ملک پہلے ہی سے دوستی کے رشتے میں منسلک ہیں۔
امریکا میں نئی حکومت بننے کے بعد سے دنیا بھر میں جس طرح تبدیلیاں آرہی ہیں ایسے موقع پر چینی وزیر خارجہ کے اس دورہ کو انتہائی اہمیت دی جارہی ہے۔

 

چین کی ضروریات خطے سے پوری ہوں گی؟

 

چین کوشش کر رہا ہے کہ مشرق وسطی میں دیر پا امن قائم ہو۔ مشرق وسطی میں امن کی خواہش کے پیچھے چین کی توانائی کی ضروریات ہیں۔ چین اپنی توانائی کی ضروریات پورا کرنے کے لیے مکمل طور پر مشرق وسطی کی تیل پر انحصار کرتا ہے۔
چین جن ممالک سے تیل درآمد کرتا ہے ان میں سے 6 کا تعلق مشرق وسطی سے ہے۔ چین سب سے زیادہ تیل سعودی عرب سے درآمد کرتا ہے۔

چین نے مشرق وسطی میں قدرتی گیس اور ایل این جی کے معاہدے بھی کر رکھے ہیں۔ چین کی کوشش ہے کہ پاکستان کے راستے گیس پائپ لائن بچھا کر مشرق وسطی سے براہ راست گیس حاصل کی جائے۔ اس سلسلے میں مشرق وسطی میں گیس پائپ لائنز بجھانے کا کام بھی جاری ہے۔
پرامن مشرق وسطی سے ان ممالک کے ساتھ ساتھ چین کو بھی فائدہ ہوگا۔ چین نے مشرق وسطی کے ممالک سے تیل، انرجی اور اب ویکسین ڈپلومیسی بھی شروع کر رکھی ہے۔

 

ون بیلٹ اینڈ ون روڈ منصوبہ

 

خیال رہے مشرق وسطی کے چار اہم ملک عراق، کویت، لبنان اور یمن چین کے ون بیلٹ اینڈ ون روڈ منصوبے کا پہلے ہی حصہ ہیں۔
چین کی کوشش ہے کہ اردن اور اسرائیل بھی باقائدہ طور پر اس منصوبے میں شامل ہو جائیں۔ ان دونوں ممالک سے بھی چین کے مذاکرات جاری ہیں۔
چین کی کثیر الملکی سفارت کاری کے اس دورہ میں خطے کا ایک اور اہم ملک ایران بھی ہے۔ چینی وزیرخارجہ کے اس دوران میں مشرق وسطی میں قیام امن اور نیوکلیئر ڈیل پر ایرانی تحفظات پر بات کریں گے۔ چین کی خواہش ہے کہ ایران دوبارہ سے اس ڈیل کا حصہ بنے۔
چین کی یہ بھی کوشش ہے کہ مشرق وسطی کی تین بڑی طاقتوں ترکی، ایران اور سعودی عرب کو ایک میز پر بٹھایا جاسکے۔
اس دورے کا مقصد یہ بھی ہے کہ یمن، شام اور دیگر مشرق وسطی کے تنازعات کے حل پر ان تینوں ممالک کو آمادہ کیا جاسکے۔

 

اسرائیل فلسطین مسئلہ بھی حل ہونا چاہیے

 

کثیر الملکی دورہ کی تکیمل کے بعد چین ہمیں اسرائیل فلسطین مسئلے کے حل میں کردار ادا کرتا بھی نظر آئے گا۔
بیجنگ نے خواہش ظاہر کر چکا ہے کہ اسرائیلی اور فلسطینی حکام کو مذاکرات کے لیے آمادہ کیا جائے تاکہ ٹیبل ٹاک کے ذریعے اور اپرامن طور پر مسئلہ کا حل تلاش کیا جائے۔ چین سمیت سب ہی جانتے ہیں کہ مشرق وسطی کا امن اسرائیل اور فلسطین کے 70 سالہ مسئلہ کے حل سے مشروط ہے۔ چینی حکام پرامید ہیں کہ وہ جلد فلسطین کے مسئلے کا منصفانہ حل تلاش کرلیں گے۔

 

جنگ کے بجائے امن اور تجارت کو ترجیح

 

عالمی اداروں کی رپورٹس پر اگر نظر ڈالیں تو چین کے پاس دنیا کی سب سے طاقتور بحریہ ہے۔ فوجی صلاحیتیں بھی کسی سے کم نہیں لیکن اس کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ لڑائی جھگڑوں میں پڑے بغیر معیشت کو مضبوط سے مضبوط تر بنایا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ چین خاموشی کے ساتھ دنیا بھر کی مارکیٹس میں اپنے قدم جما چکا ہے۔ اب اس کی فائیو جی ٹیکنالوجی نے امریکا سمیت یورپ کی نیندیں اڑا دی ہیں۔
چین کا دورہ مشرق وسطی ایسے موقع پر ہو رہا ہے جب پاکستان اور بھارت کے درمیان انتہاہ کو پہنچنے والی کشیدگی کی برف پگلنا شروع ہو چکی ہے۔ دونوں ممالک سیاسی اور پاکستان کی عسکری قیادت
ماضی کو دفنا کر آگے بڑھنے کا عزم کر رہے ہیں۔

 

پاکستان کی قیادت کیسے فائدہ اٹھائے گی؟

 

یہ ایسا موقع ہے جب پاکستان کو بھی نئی صف بندیوں اور پڑوسی ملک کے ساتھ بہتر تعلقات میں انتہائی دانشمندی کے ساتھ اپنی راہ کا تعین کرنا ہو گا۔ یہ اسی وقت ممکن ہو سکتا ہے جب تمام سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات بھلا کر وطن عزیز کی سربلندی اور ترقی کے لیے سرجوڑ کر بیٹھیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ اپنی شناخت چھوڑ دیں یا سیاست نہ کریں بلکہ پہلے سے زیادہ کرنی ہو گی لیکن پوری قوم کا بہتر مستقبل استوار کرنے کے لیے۔


شیئر کریں: