تاریخ میں پہلی بار پاکستان اور بھارتی افواج کی مشترکہ جنگی مشقیں

شیئر کریں:

دنیا بھر کی نظریں اس وقت جنوبی ایشیا کی ان دو بڑی طاقتوں پر مرکوز ہیں۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان کچھ ایسی بڑی ڈویلپمنٹس ہیں جو سامنے
آچکی ہیں جیسے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا وزیراعظم عمران خان
کو صحت یابی کے لیے اور یوم پاکستان کی مبارک باد کا خط، انڈس واٹر
کمشنر کی نئی دہلی میں دو سال آبی تنازعات پر بات چیت اور پاک بھارت فوج کا ایل او سی پر سیز فائر کا اعلان کرنا۔

پاک بھارت افواج کی مشترکہ جنگی مشقیں

لیکن کچھ زیرزمین ایسی چیزیں چل رہی ہیں جن کے بارے آپ کو آگاہ کرنا انتہائی ضروری ہے۔
کچھ بڑی خبریں ہیں جو پاکستان اور بھارت تعلقات پر انتہائی گہرے اور دور رس اثرات چھوڑنے جارہی ہیں۔
سب سے بڑی خبر یہ ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان اور بھارت
کی افواج نے آپس نے مل کر مشترکہ دشمن کے خلاف لڑنے کا فیصلہ کرلیا۔
دونوں ممالک کے فوجی دستے مشترکہ جنگی مشقیں کریں گے۔

رواں سال کے آخر میں بھارتی فوج کے مشقوں کی غرض سے پاکستان آئیں گے۔
بھارتی فوج پاکستانی آرمی سے مل کر دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مشقیں کرے گی۔
دونوں ممالک کی فوجیں مشترکہ مشقوں سے ایک دوسرے کے تجربے سے فائدہ اٹھائیں گی۔
دونوں فوجوں کی مشقیں پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے شہر نوشہرہ میں ہوں گی۔
نوشہرہ کے علاقہ پبی میں ہونے والی ان مشقوں کو Pabbi-Antiterror-2021 کا نام دیا گیا ہے۔

بھارت سے کورونا ویکسین کی بڑی کھیپ پاکستان پہنچنے والی ہے

دوسری اہم خبر جس کا براہ راست فائدہ پاکستانی عوام کو ہوگا
وہ یہ کہ بھارت سے کورونا ویکسین کی بڑی کھیپ پاکستان آرہی ہے۔
رواں ماہ میں اگلے ماہ کے آغاز پر بھارت سے کورونا ویکسین بڑی تعداد
میں پاکستان پہنچ جائے گی اور یہ عام شہریوں کو لگنا شروع ہوجائے گا۔
اقوام متحدہ کے تعاون سے بھارت میں تیار ہونے والے 4 کروڑ 50 لاکھ ویکسین ڈوزز تو پاکستان کو مل ہی رہی ہیں
لیکن بھارت اب پاکستان کو مزید کورونا ویکسین دینے کا ادارہ رکھتا ہے۔
اقوام متحدہ اور یورپ کی کوویکسن کےعلاوہ بھارتی ویکسین بھی پاکستان کو بہت جلد ملنا شروع ہوجائے گی۔

کرتارپور بارڈر اور سمجھوتہ ایکسپریس کا دوربارہ آغاز

سکھ برادری کے اچھی خبر یہ ہے کہ کرتارپور راہ داری پر بھارت پابندیاں اٹھا رہا ہے
اور اگلے ماہ سے بھارت میں موجود سکھ گرودوارہ کرتارپور صاحب بھی آسکیں گے۔
دونوں ممالک اگلے ماہ ہی ویزہ پالیسی میں آسانی کردیں گے
اور سمجھوتہ ایکسپریس ٹرین بھی دونوں ممالک میں ایک بار پھر شروع ہوجائے گی۔

بھارت وزیراعظم نریندر مودی پاکستان آرہے ہیں

اگلے ماہ ایک اور بڑی پیش رفت پاک بھارت ہائی کمشنر کی وآپسی ہوگی۔
2019 سے دونوں ممالک نے اپنے اپنے ہائی کمشنر وآپس بلوالیے تھے
لیکن اگلے ماہ دونوں ممالک اپنے اپنے ہائی کمشنر کو وآپس تعینات کردیں گے۔
ہیرٹ آف ایشیا کانفرنس میں پاک بھارت وزرا خارجہ کی ملاقات بھی طے ہوگئی ہے
رواں سال بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بھی پاکستان کا دورہ کریں گے۔
دونوں ممالک کا آپس میں تعلقات بہتر کرنے کا فیصلہ پاکستان اور بھارت کے عام عوام کے حق میں ہے۔
اگر پاکستان اور بھارت میں دیر پا امن قائم ہوتا ہے تو اس سے خطے میں ترقی ممکن ہوگی۔
دونوں ممالک کی باہمی تجارت کا فائدہ عام لوگوں کو ہی ہوگا۔


شیئر کریں: