جمال خاشفجی قتل کیس کی تحقیقات کرنیوالوں کو سعودیہ کی جان سے مارنے کی دھمکیاں

شیئر کریں:

جمال خاشقجی قتل کیس کی تحقیقات پر سعودی عرب بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی۔
سعودی حکومت نے جمال خاشقجی کیس کی تحقیقات کرنے والوں کو قتل کی دھمکیاں دینا شروع کردی ہیں۔
گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کے لیے کام کرنے والے سعودی تحقیق کاروں کو قتل کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔
قتل کی تحقیق کرنے والی ایک سینیٹر اہلکار کالامرد کا کہنا ہے
کہ اسے سعودی آفیشلز کی جانب سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایک میٹنگ کے دوران سعودی اہلکاروں نے براہ راست انہیں قتل کرنے کی دھمکیاں دیں۔

کالامرد ایک فرانسیسی شہری ہیں جو ہیومن رائٹس واچ ڈاگ،
ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر عالمی اداروں کے لیے کام کر رہی ہیں۔
انہیں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی تحقیقات کی زمہ داری دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ جمال خاشقجی کو 2018 میں سعودی سفارت خانے میں قتل کردیا گیا تھا۔
استنبول میں موجود سعودی سفارت خانے میں انہیں انتہائی دردناک انداز میں قتل کرکے
جسم کے ٹکرے تیزاب میں ڈال دیے گئے تھے۔

سعودی صحافی جمال خاشقجی کو سعودی عرب کے حکام نے قتل کیا تھا
جو بعد میں سفارت خانے کے باہر لگے کیمروں میں بھی واضع طور پر دیکھے گئے۔
جمال خاشقجی کے قتل کی زمہ داری براہ راست سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پر عائد کی جارہی ہے۔
کیوں کہ جمال خاشقجی امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں سعودی عرب کے شاہی خاندان کی غلط پالیسیوں پر کھل کر تنقید کرتے تھے۔

جمال خاشقجی کی تنقید سے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان بے حد ناراض تھے۔
ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے بھی آچکی ہے کہ جمال خاشقجی کے قاتلوں کا استنبول پہنچانے کے لیے خصوصی طیارہ بھی محمد بن سلمان نے ہی فراہم کیا تھا۔


شیئر کریں: