جمہوریت کا راگ الاپنے والے ٹکٹ غیرجمہوری قوتوں سے ہی لیتے ہیں

شیئر کریں:

تحریر نوید احمد

گزشتہ دنوں انٹرویو کے سلسلے میں منسٹر انکلیو میں ایک وفاقی وزیر کی رہائش گاہ جانے کا اتفاق ہوا۔
منسٹر صاحب کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں آنے والا ہے کیونکہ موصوف اب تک 15 وزارتوں پر
فائز رہ چکے ہیں اور 6 حکومتوں کو بھگتا چکے ہیں۔ ان کے پاس ایک اعزاز یہ بھی ہے جب وہ قومی
اسمبلی کے حلقہ 38 راولپنڈی )اس وقت یہ حلقہ 38 ہی تھا (سے الیکشن لڑرہے تھے تو انہیں ٹکٹ اس وقت ایک مقدس عمارت کے گیٹ نمبر 4 سےاندر داخل ہونے کے بعد مارخور کے نشان والوں کی کمانڈ کرنے والے نے خود دیا تھا کہ جائو الیکشن لڑو یہ اعتراف وزیر موصوف نے خود کیا اور وہ اس پر فخر بھی کرتے ہیں۔

وہ الگ بات ہے کہ مختلف فورمز پر وہ جس جس بھی حکومت کا حصہ رہے سوائے ایک دو کے سب ہی
یہ نعرہ مستانہ لگاتی رہیں کہ ملکی سیاست میں سرحد والوں )یہاں سرحد سے مراد پرانہ صوبہ سرحد
نہیں بلکہ بارڈرز کی حفاظت کرنے والے ہیں (کی مداخلت کو بند کیا جانا چاہئے۔

اب تک کی تمہید سے یقینا آپ پہچان چکے ہیں کہ یہ تذکرہ عزت مآب جناب وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد صاحب کا ہورہا ہے جو موجودہ حکومت میں دو وزارتوں کے مزے لوٹنے کے بعد اب شاید تیسری طرف جانے کے لئے پر تول رہے ہیں۔
انہوں نے انٹرویو کے دوران بہت سے انکشافات کئے اس میں سب سے اہم بات جو انہوں نے بتائی وہ ان کو ماضی میں ایک الیکشن میں ٹکٹ دینےکے حوالے سے تھی جس کا تذکرہ ہم اوپر کرچکے ہیں دوران انٹرویو شیخ رشید صاحب کا جوش و ولولہ دیدنی تھا جب جب پاک افواج کا تذکرہ ہوا شیخ صاحب کی آواز اور جسمانی زبان جسے ہم باڈی لینگویج کہتے ہیں اس میں ابال آتا نظر آیا۔
ہمارے سیاستدان ببانگ دہل یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ سیاست میں مداخلت بند ہونی چاہئے لیکن جس کا بھی ماضی دیکھیں وہ آگے بڑھنے کے لئے سہارا وہیں کا لیتا ہے۔ شیخ رشید صاحب ایک ایسی اسٹپنی ثابت ہوئے ہیں جسے ہر گاڑی میں فٹ کردیا جاتا ہے اور اب وہ کھلے عام اس بات کا اعتراف کرتے بھی نظر آتے ہیں کہ انہیں تو ٹکٹ بھی وہیں سے ملا تھا۔
شیخ صاحب کا یہ اعتراف یقینا نیا نہیں ہے لیکن اس پر اس طرح فخر کرنا سمجھ سے بالاتر ہے ایک طرف جمہوریت کا راگ الاپا جاتا ہے دوسری طرف ٹکٹ بھی غیر جمہوری قوتوں سے لئے جاتے ہیں-
آخر یہ نظام کب درست ہوگا کب ہم واقعی خود کو ایک جمہوری ملک کا باشندہ کہہ سکیں گے۔ ہم ایک ایسی جمہوریت میں رہتے ہیں جہاں غیر جمہوری قوتوں سے ٹکٹ لینا فخر سمجھا جاتا ہے جہاں حکومتیں بنانے اور حکومتیں گرانے کے لئے غیر جمہوری قوتوں کی انگلی کی طرف دیکھا جاتا ہے جہاں جلا وطنی ختم کرکے ملک میں واپس آنے کے لئے غیر جمہوری قوتوں سے اجازت لی جاتی ہے جہاں سٹرک بنانے ، پل بنانے ، ڈیم بنانے ، کورونا کے خلاف جنگ لڑنے ، ٹڈی دل کو ختم کرنے اور نہ جانے کون کون سے کاموں کے لئِے بھی ان لوگوں سے مدد طلب کی جاتی ہے۔

ارباب اختیار )جو اصل جمہوریت کے حامی ہیں اندر سے بھی اور باہر سے بھی( کو چاہئے کہ اب وقت آگیا ہے اس ارض پاک کو بھی اصل جمہوریت سے روشناس کرائیں گیٹ نمبر 4 سے ٹکٹ لے کر اقتدار میں آنے والوں کے راستے اب بند کئے جائیں اب پانی سر سے اونچا ہوگیا ہے کل تک ٹکٹ لے کر خاموشی اختیار کی جاتی تھی آج فخریہ انداز میں بتایا جارہا ہے یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو نام نہاد جمہوریت کہاں کھڑی ہوگی یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے۔


شیئر کریں: