روس، ترکی اور ایران کے اتحاد سے طاقت کا مرکز پریشان

شیئر کریں:

تحریر ندیم رضا

دنیا کی سیاست میں کوئی بھی دائمی دشمن اور دوست نہیں ہوا کرتے۔ حالات اور وقت کی منجدھار نہ چاہتے
ہوئے بھی ساتھ بیٹھنے پر مجبور کر دیا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں نئے نئے اتحاد معارض وجود میں آرہے
ہیں۔ دنیا کی طاقت کا مرکز کئی دھائیوں سے امریکا چلا آرہا تھا لیکن اب حالات تیزی سے بدلنے لگے ہیں۔

امریکا کی نرم گرم پالیسی سے متاثرہ تین اہم ممالک روس، ترکی اور ایران نے آپس کے تعلقات کو مزید مستحکم
کرنے کی ٹھان لی ہے۔ روس اور ایران اکثر امریکی پابندیوں کی لپیٹ میں رہتے ہیں۔ ترکی پر پابندیاں تو نہیں
لگائی گئیں لیکن اسے ہر کچھ وقت کے بعد پابندیوں سے متعلق امریکی دھمکیوں کا سامنا ضرور کرنا پڑتا ہے۔

تینوں ممالک نے خطے کے مسائل مشترکہ طور پر حل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رواں ہفتے ایران کے وزیرخارجہ
جواد ظریف نے ترکی کا اہم دورہ کیا۔ جواد ظریف کا کہنا تھا وہ اپنے بھائی ترکی کے پاس آکر خوش ہیں۔ اسی
طرح ترکی نے بھی ایران کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

ایران کا دورہ ترکی روس، ایران اور ترکی کے نئے اتحاد کو مزید مضبوط کرنے کی ایک کڑی ہے۔ ایک وقت
تھا جب ترکی اور ایران کے تعلقات بہتر نہ تھے لیکن اب مشرق وسطی کے معاملات ہوں یا خطے کے دونوں
اسلامی ممالک ایک نقطہ پر متحد ہیں۔

ترکی، ایران اور روس 2017 سے شام میں امن کے لیے استانا پراسس پر بھی کام کررہے ہیں۔ استانا شام کا
تاریخی اور سیاحتی مقام ہے۔ یہاں تینوں ممالک کے رہنما سرجوڑ کر بیٹھتے ہیں۔

تینوں ممالک کے آپس میں تجارتی اور دفاعی روابط بھی بڑھ رہے ہیں۔ ترکی امریکا کی ناراضی کے باوجود
روس سے جدید میزائل سسٹم خرید رہا ہے۔

عالمی پابندیوں کے باوجود ترکی، ایران اور پاکستان نے ٹرین سروس شروع کردی گئی ہے۔ اس زمینی رابطہ
کی وجہ سے تینوں ممالک کے درمیان تجارت میں مزید اضافہ ہوگا۔

ترکی نے عراق کی حکومت کے ساتھ بھی معاہدہ کیا ہے جس سے شمالی عراق اور مغربی شام میں امن کی
صورت حال میں بہتری آئے گی۔
اسی طرح دوہا میں ترکی، روس اور قطر نے شام میں امن اور شامی سرحدوں کے دفاع کے لیے مشترکہ اعلامیہ
جاری کیا ہے۔ تینوں ممالک نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق شام کی سرحدوں کی حفاظت کا عزم دھرایا
ہے۔ ایران نے شام کا مسئلہ حل کرنے کے لیے تینوں ممالک کی کوششوں کو سراہا ہے۔

ایران نے شام کے عوام کی تکالیف کا فوری حل ناگزیر قرار دیا ہے۔ ایران ترکی، روس اور قطر کے فیصلے کو
قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ترکی اور ایران کے مستحکم ہوتے تعلقات امریکا کی طرح اسرائیل کو بھی ایک آنکھ
نہیں بھارہے ہیں۔ اسرائیل نے مسلمانوں کے بااثر ممالک کی دوستی کو اپنے لیے خطرہ قرار دینے لگا ہے۔

اسرائیل نے اس دوستی میں دراڑیں ڈالنے کے لیے پروپیگنڈہ شروع کر دیا ہے اس کا کہنا ہے کہ ترکی میں ایران
اور روس کی طرح جمہوریت ختم ہوسکتی ہے۔ ترکی میں انتہا پسندی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

اسرائیلی ڈیفنس فورس کے سربراہ نے مستقبل قریب میں اسرائیل کی بقا کو لاحق بڑے خطرے سے آگاہ کیا ہے۔
اسرائیلی چیف کہتے ہیں اگر مستقبل میں جنگ کا سامنا ہوا تو اسرائیل کو روزانہ کی بنیاد پر دوہزار میزائلوں
کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ اسرائیلی چیف نے دعوی کیا ہے اس وقت حزب اللہ کے پاس ایک لاکھ پچاس ہزار
سے زائد میزائل موجود ہیں۔

حزب اللہ اسرائیل کو اندرونی اور بیرونی حملوں سے ناقابل یقین نقصان پہنچا سکتی ہے۔ حزب اللہ کا تعلق
ایران سے جوڑا جاتا ہے اور اب ترک ایران تعلقات کو نقصان پہنچانے کے لیے حزب اللہ یا لبنان کے خلاف
اسرائیل کی جانب سے کوئی سازش تیار کی جاسکتی ہے۔

رہی بات امریکا کی تو اس کی پریشانی خارجہ پالیسی میں نظر آرہی ہے۔ دراصل چین امریکا کو ٹیکنالوجی
اور تجارت میں کافی پریشان کر رہا ہے اور روس سفارتی میدان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے۔ ان دونوں
محاذ پر مشکلات کے بعد واشنگٹن میں بےچینی پائی جارہی ہے۔

گزشتہ ہفتے امریکا، روس اور چین میں سفارتی تناو کی وجہ بھی روس اور چین کا بڑھتا اثر و رسوخ ہے۔
اب دنیا کی مرکز کی طاقت کا مرکز صرف ایک ملک نہیں رہ سکتا اب یہ کئی ممالک میں تقسیم ہو چکا
ہے۔ واضع طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ دنیا پر کئی دہائیوں سے سپرپاور کے عہدے پر فائز امریکا کے
مقابلے میں روس اور چین آچکے ہیں۔

امریکا اپنے اتحادیوں کی مدد سے روس اور چین کو کاوئنٹر کرنے کی کوشش تو کر رہا ہے لیکن مستقبل میں
دنیا پر ایک بار پھر سرد جنگ جیسے بادل منڈلا رہے ہیں۔ لگ یہی رہا ہے کہ روس، ترکی اور ایران کی بڑھتی
ہوئی قربت امریکا اور اس کے اتحادیوں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کا سبب بننے جا رہا ہے۔ ایسے میں
پاکستان کو بھی اپنی خوشحالی، بقا اور ترقی کے سفر کے لیے بہتر ہمسفر چننا ہو گا۔


شیئر کریں: