ایک زرداری سب پر بھاری

شیئر کریں:

تحریر : نوید احمد

پاکستان ڈیموکریٹک کی ہنڈیا اسلام آباد میں پھوٹ گئی پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن میں اختلافات کھل
کر سامنے آگئے ہیں۔ آصف علی زرداری نے پیپلز پارٹی کے استعفوں کو میاں نواز شریف کی واپسی سے مشروط
کردیا 6 گھنٹے طویل سربراہ اجلاس میں پی ڈی ایم استعفوں کے معاملے پر اتفاق رائے پیدا نہ کرسکی اور
لانگ مارچ بھی ملتوی کرنا پڑ گیا۔

6 گھنٹے طویل اجلاس کے بعد جب مولانا فضل الرحمان دیگر قائدین کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کے لئے باہر
آئے تو ان کے چہرے پر موجود غصہ اور آواز میں گھلی کڑواہٹ کمرے کے اندر پیش آنے والے واقعات بیان
کررہی تھی۔ مولانا فضل الرحمان مختصر بات کرکے فوری روانہ ہوگئے میڈیا کے کسی سوال کا جواب نہیں
دیا۔

مولانا نے لانگ مارچ کے ملتوی کرنے کا اعلان جس انداز میں کیا اس سے ان کے اندر کے درد اور غصے کا اندازہ
لگانا کوئی مشکل نہ تھا۔ مریم نواز اور یوسف رضا گیلانی کے روکنے کے باوجود مولانا فضل الرحمان مسلم لیگ
ن کے سیکریٹریٹ سے روانہ ہوگئے۔ ان کے جانے کے بعد مریم نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی نے ڈائس
سنبھالا اور میڈیا کو یقین دہانی کرانے لگے کہ پی ڈی ایم کا اتحاد برقرار ہے اور ہم جلد ہی کسی متفقہ
فیصلے پر پہنچ جائیں گے۔

پیپلزپارٹی نے پی ڈی ایم سے استعفوں کے معاملے پر فیصلے کے لئے وقت مانگا ہے۔ پیپلزپارٹی استعفوں کا
معاملہ اپنی سی ای سی میں رکھے گی اور پھر وہاں فیصلہ کیا جائے گا۔

پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی پہلے ہی اپنا فیصلہ پارٹی قیادت کو سناچکی ہے اور انہوں نے استعفوں
سے صاف انکار کردیا ہے۔ پیپلزپارٹی کی اگر تاریخ پر نظر دوڑائیں تو اسمبلیوں سے باہر آکر سیاست کرنے
کی کوشش صرف ایک مرتبہ پیپلز پارٹی نے کی تھی جسے بعد میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو سمیت تمام
سینئر قیادت نے اپنی بڑی سیاسی غلطی قرار دیا تھا۔ اب بھی پیپلزپارٹی کی سینئر قیادت بشمول آصف علی
زرداری اور بلاول بھٹو پارلیمنٹ کے اندر رہ کر سیاست کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اب تک اپوزیشن کو
ضمنی الیکشن ، سینیٹ الیکشن اور چیئرمین سینٹ کے انتخاب میں حصہ لینے کے لئے راضی کرنے والی
بھی پیپلزپارٹی ہی تھی۔

پی ڈی ایم میں شامل تینوں بڑی جماعتوں کی کوشش ہے کہ وہ گیم اپنے ہاتھ میں رکھیں تحریک کے آغاز
سے اب تک مولانا فضل الرحمان کے ہاتھ میں سارا گیم نظر آیا اور مولانا کو گیم چینجر سمجھا جانے لگا
لیکن وقت کے ساتھ ساتھ جب آصف زرداری نے اپنے پتے شو کرنا شروع کئے تو مولانا فضل الرحمان
کے ہاتھ سے گیم نکل گیا۔

اب سارا گیم آصف علی زرداری کے ہاتھ میں ہے وہ اس پوزیشن میں ہیں کہ جس سے چاہیں جو چاہیں
مذاکرات کرسکتے ہیں۔ اپوزیشن کے استعفے اور لانگ مارچ کا دارومدار آصف علی زرداری کے فیصلے پر
ہے اور حکومت کو اگر اپوزیشن کی تحریک روکنے کے لئے کسی سے بات کرنے کی ضرورت ہے تو وہ شخص
بھی آصف علی زرداری ہی ہے۔

اس وقت ملکی سیاست کا گیم چینجر آصف علی زرداری کو کہا جارہا ہے۔ پی ڈی ایم کے سربراہ اجلاس
میں جس طرح آصف علی زرداری نے استعفوں کے معاملے کو میاں نواز شریف کی واپسی سے مشروط کیا
اس سے مسلم لیگ ن کی قیادت اور مولانا فضل الرحمان دونوں ناک آئوٹ ہوگئے۔

لندن میں بیٹھے میاں نواز شریف بھی آصف علی زرداری کے اس فیصلے پر افسوس کا اظہار کررہے ہیں انہیں
اس بات کا بھی دکھ ہے کہ ن لیگ تو نوے کی دہائی کی سیاست دفن کر کے آگے بڑھی تھی پھر الزام
تراشی کیوں کی گئی۔

بہر حال آصف علی زرداری نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ ملکی سیاست میں وہ نواز شریف اور مولانا
فضل الرحمان سے جونیئر ضرور ہیں لیکن سیاسی دائو پیچ میں ان کا مقابلہ کرنا آسان نہیں۔ان کے بارے
میں بالکل درست کہا جاتا ہے کہ “ایک زرداری سب پہ بھاری”


شیئر کریں: