اسلام آباد کو جدید ترین شہروں میں شامل کرنے کا جامع منصوبہ

شیئر کریں:

تحریر ندیم رضا

لوگوں کا طرز زندگی ہی ان کے معاشروں کا عکاس ہوا کرتا ہے۔ شہروں، دیہادتوں کا ماحول، طرز تعمیر اور
طرز زندگی ایسے پہلو ہیں جن سے معاشرتی پہلوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ دور حاضر میں مغربی ممالک مقامی
سطح پر اپنے خود مختار نظام کی وجہ سے ہی ترقی یافتہ مملکتوں کی صفوں میں کھڑے ہیں۔

امریکا، کینڈا، برطانیہ یا دیگر ترقی یافتہ ممالک کے شہروں کا جائزہ لیا جائے تو وہاں مقامی حکومتوں کے ساتھ
ساتھ مقامی سطح کے ترقیاتی اداروں کا ان شہروں کی ترقی میں اہم کردار دیکھا جاسکتا ہے۔ امریکا کے شہر
نیویارک کو ہی دیکھ لیں جس کا اپنا میئر، اپنی پولیس اور اپنی میٹرو پولیٹن کارپوریشن ہے جو شہر کے
تمام امور چلانے کی زمہ دار ہے۔

نیویارک یا دیگر مثالی شہروں کی طرز پر اگر پاکستان پر کسی شہر کا تصور زہن میں لائیں تو وہ صرف اور
صرف اسلام آباد ہی دیکھائی دیتا ہے۔ اسلام آباد شہر کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بنایا گیا جو اپنے
محل وقوع اور موسم کے حساب سے ثانی نہیں رکھتا۔

ہمارے پاس ایسا صرف ایک شہر ہے جس کا شمار دنیا کے خوبصورت ترین شہروں میں کیا جاتا ہے بدقسمتی
سے اس شہر کو بھی سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا گیا تھا لیکن ایک بار پھر سے کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے
اس پر خصوصی توجہ دی ہے۔

اسلام آباد کے نظم و ضبط اور خوبصورتی کے پیچھے سی ڈی اے کی دن رات کی محنت ہے۔ سی ڈے اے کے
ملازمین دن رات ایک کرکے شہر کی شاہراہوں اور گرین بیلٹس کو مزید خوبصورت کرنے کے لیے کام کر
رہے ہیں۔

شہریوں کی زندگی مزید بہتر بنانے کے لیے انقلابی اقدامات کا سہرا سی ڈے اے نوشکیل شدہ بورڈ کے سرپر
سجتا ہے۔ اس نوتشکیل شدہ بورڈ نے اپنے پہلے ہی اجلاس میں کئی اہم اور بڑے فیصلے کیے ہیں۔ پاکستان میں
میٹرو پولیٹن پولیس بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ اس فورس کا براہ راست فائدہ اسلام آباد کے شہریوں
اور سیاحوں کو ہو گا یہ فورس بہتر انداز میں شہریوں کو خدمات فراہم کرسکے گی۔ اسلام آباد کو مستقبل
میں سیکیورٹی کی بہتر سہولیات مل سکیں گی اور شہری پہلے سے بھی زیادہ محفوظ ہو جائیں گے۔

نوتشکیل شدہ بورڈ نے بے گھر افراد کو سستے گھر فراہم کرنے کا منصوبہ بھی بنایا ہے۔ چار ہزار سے زائد
فلیٹس اسلام آباد کے بے گھر افراد کو دیے جائیں گے۔ اس تاریخ ساز اقدام کا براہ راست فائدہ ضرورت مند
لوگوں کو پہنچے گا۔

سی ڈی اے کا اسلام آباد کی میٹروپولیٹن پولیس اور بے گھر افراد کیلیے 44 اپارٹمنٹس قائم کرنیکا فیصلہ

سی ڈی اے بورڈ کا تیسرا تاریخ ساز فیصلہ ایڈہاک ملازمین کو مستقل کرنا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے موقع پر کیا
ہے جب دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وجہ سے معاشی سرگرمیاں رکی ہوئی ہیں اور کروڑوں افراد بےروزگاری
کا سامنا کررہے ہیں۔ ایسے وقت میں سی ڈی اے بورڈ نے انتہائی مشکل مگر تاریخ ساز فیصلہ کیا ہے۔

اس فیصلے کا فائدہ براہ راست سی ڈی اے کی کارکردگی پر پڑے گا۔ جو ملازمین کنٹریکٹ پر تھے مستقل ہونے
کے بعد وہ پہلے سے زیادہ جاں فشانی سے ادارے کی بہتری کے لیے کام کریں گے۔

سی ڈی اے نے ملکی تاریخ میں پہلی بار پرائیویٹ ماہرین کو بھی فیصلہ سازی شامل کیا ہے۔ ایسا پہلے کبھی
نہیں ہوا کہ پرائیویٹ کنسلٹنٹس کی قیمتی رائے کو فیصلہ سازی میں جگہ دی ہو۔

سی ڈی اے بورڈ کے فیصلوں کے بعد اگر زمینی حقائق کا جائزہ لیں تو سی ڈی اے کا کام اسلام آباد میں واضع
طور پر نظر آرہا ہے۔ شاہراوں کی تعمیر اور خراب شاہراوں کی میٹیننس کا کام جگہ جگہ دیکھا جاسکتا ہے۔

اسلام آباد میں داخل ہوتے ہی سری نگر ہائی وے پر اطراف کو دیکھ کر ایک خوش گوار احساس ہوتا ہے۔
سی ڈی اے نے بڑے محنت سے سری نگر ہائی وے کے اطراف میں ناہموار پہاڑوں اور کھائیوں کو خوبصورت
لینڈاسکیپ میں بدل دیا ہے۔

گرین بلیٹس پر سبز گھاس، پودے اور پھول لگا دیے گئے ہیں۔ جیسے ہی بہار کا موسم اپنی جوبن پر ہو گا
اسلام آباد مختلف رنگوں کا ایک گلدستہ بن جائے گا۔

سی ڈی اے کے ان تمام اقدامات کو بتانے کا مقصد صرف اور صرف ان تمام لوگوں کو خراج تحسین پیش کرنا
ہے جن کی وجہ سے ہمارے شہروں کی چمک دھمک ہے۔ اسلام آباد کی خوبصورتی کے قومی اور بین الاقوامی
ادارے معترف ہیں لیکن اس خوبصورتی کو چار چاند لگانے والے یقینا ستائش کے حق دار ہیں۔

شہریوں کو اگر صحیح معنوں میں سی ڈی اے اور اس کے ملازمین کی محنت کا شکریہ ادا کرنا ہے تو انہیں
انفرادی سطح پر شہر کی خوبصورتی کو برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ ایسا اسی وقت ممکن
ہوسکتا ہے جب ہم اپنے گھر کی طرح گلی محلوں کو بھی اپنا ہی سمجھ کر صاف ستھرا رکھیں گے۔


شیئر کریں: