چمچے جاندار ہوتے ہیں!!!

شیئر کریں:

تحریر: عارف سحاب

چمچہ سنتے ہی یقینا آپ کا بھی دھیان ان بے جان لکڑی ،پلاسٹک یا آہنی اوزاروں پر گیا ہوگا جو اسم آلہ ہیں اور جو کھانے میں مدد دیتے ہیں ۔ مگر چمچوں کی ایک بہت اہم قسم جاندار بھی ہوتی ہے ۔ یہ چمچے نہ صرف “کھانے” میں مدد دیتے ہیں بلکہ خود بھی “کھاتے” ہیں اور انہیں یہی شوق ہی تو اس منصب پر براجمان کرتا ہے ۔۔۔جاندار چمچوں کی کئی اقسام ہیں جن میں معروف ترین سیاسی ہیں جبکہ سرکاری ، مذہبی ، علاقائی اور بعض اوقات ذاتی بھی ہوتے ہیں ۔ فکرکو زرا وسعت دیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ اصل میںایک عہدہ ہے لیکن اس کا حق دار ہونے کے لیے گوشت پوست کا پیکر اور سانس لیتا انسان ہونا ضروری ہے بالکل اسی طرح جس طرح مقرر، گلوکار ، فنکار ، ڈاکٹر یا وکیل ہونے کے لیے ۔۔۔۔

تاہم چمچے کا منصب حاصل کرنے کے لیے کسی اضافی تعلیم یا ڈگری کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ یہ تربیتی یا صفاتی پہلوؤں سے مشروط اعزاز ہے۔ چمچہ بننے کے لیے ایک خاص قسم کا ڈھیٹ مذاق اور کچھ دلچسپ عادات کا ہونا بہر حال ضروری ہے ۔ چمچے بہت بذلہ سنج ہوتے ہیں ان کے چہرے پر مسکراہٹ ہمیشہ ہوتی ہے جبکہ خوش ہونے کے معاملے میں اتنے فراخ ہوتے ہیں کہ آقا کے بھونڈے ترین لطیفے، گھٹیا ترین مغلظات پر اور بعض اوقات تو بلاوجہ بھی صرف اس لیے ہنس دیتے ہیں کہ آقا موصوف خود ہنسے ہیں ۔

یعنی یہ وہ ہم نوائی کا خاص ملکہ رکھتے ہیں ۔ چمچوں کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ سب سے بنا کر رکھتے ہیں ایسا کرنے کے لیے یہ آپ کے سامنے آپ کے مخالف کی جبکہ اس کے سامنے آپ کی ہجو گوئی کرنے کو مصلحت سمجھتے ہیں یوں خوف فساد خلق کو ٹالنے اور قیام امن میں ان کا کردار نمایاں ہوتا ہے ۔ حساس اتنے ہوتے ہیں کہ آقا کو لاحق کسی غم پر یہ رو رو کر بے ہوش ہونے ،گریبان چاک کرنے اور بعض اوقات خود کشی کے اقدام سے بھی گریز نہیں کرتے تاہم ان کارہائے وفاداری کے وقت آقا کا وہاں موجود ہونا لازمی ہے ورنہ یہ صدموں پر کمال ضبط و صبر کا مظاہرہ کرکے یوں خوش و خرم ہوجاتے ہیں کہ آپ ان کے صدمہ قلبی کا اندازہ تک نہ ہو ۔

تعریف کرنے اور حوصلہ افزائی کے معاملے میں بھی ان جیسا ظرف کسی کا نہیں ہوتا بوقت ضرورت آپ کی ایسی ستائش کرتے اور اوصاف گنواتے ہیں کہ ان میں سے بعض کو تلاشنے کے لیے آپ کو خود بھی بعد میں محنت کرنا پڑتی ہے جبکہ اکثر آپ ان اوصاف کو اپنے آپ میں دیکھ بھی نہیں پاتے ۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ وصف آپ میں نہیں بلکہ آپ میں چمچوں جیسی بینائی نہیں ہے ۔

یوں تو خواص میں اکثر کو ،تاہم سیاسی آقاؤں اور مذہبی ٹھیکہ داروں میں سے لگ بھگ سب کو چمچوں کی خاص ضرورت رہتی ہے کیونکہ ان دونوں طبقوں کا پیٹ زرا بڑا اور کھانے کا ذوق زرا ایکسٹرا آرڈنیری ہوتا ہے ۔ لہذا چمچے اپنے بنیادی فرائض یعنی “کھانے” میں مدد دینے کے لیے ہمہ وقت ان کے ساتھ حاضر ہوتے ہیں ۔ تاہم اپنی بھوک یہ عمومی طور پر غریبوں ، بھوکوں اور مستحقین کے دسترخوان سے نوالہ “کھا “کر پوری کر لیتے ہیں. یوں غریب عوام سے مستقل رشتہ رکھنے اور ان کے کھانے کو “کھانے “کا اعزاز دینے پران کے اخلاق سے متاثر اوپر والے کا کرم الگ جاری رہتا ہے ۔


شیئر کریں: